چاغی کا جلا ہوا جسم، ان دیکھا منظر – غنی بلوچ – کماندان بلوچ

49

چاغی کا جلا ہوا جسم، ان دیکھا منظر

بلوچی تحریر: غنی بلوچ

اردو ترجمہ:کماندان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان جو 76 سالوں سے قبضہ گیر پاکستان کے قبضے میں ہے، ان 76 سالوں میں قبضہ گیر نے ہر طرح کی دہشت گردیاں کی ہیں، اور یہ سلسلہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ جس میں بلوچ تہذیب و ثقافت کو مسخ کرنا، بلوچ نسل کشی جو مختلف طریقوں سے ہو رہی ہے، بلوچ زمین کی تقسیم، بلوچ زمین پر ایٹمی حملوں کا استعمال و دیگر قسمیں شامل ہیں۔ یہ سب بلوچ زمین میں معدنیات کی لوٹ مار کے لیے آزمائے جا رہے ہیں۔

اس دوران ریاست کی ساری طاقت بلوچ قومی وجود کو مسخ کرنے پر جمی ہوئی ہے تاکہ وہ بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار کی راہیں زیادہ ہموار کر سکے۔ وہ مختلف طریقوں سے بلوچ قومی شناخت کو مسخ کر رہا ہے۔ ایک طرف انہوں نے اپنی ساری مشینری بلوچ قومی تہذیب و کلچر کو مسخ کرنے میں لگا رکھی ہے، جس کے اثرات بلوچ سماج میں واضح دکھائی دے رہے ہیں کہ بلوچ اپنی تہذیب، قوم اور موجودہ حالات سے ناواقف ہیں، جس کے پیچھے ریاست کا ہاتھ ہے۔ اسی طرح دوسری طرف ان کی طاقت بلوچ نوجوانوں پر بھی لگ رہی ہے تاکہ وہ انہیں اصل شعور اور بلوچستان کے حقیقی مسئلے سے ناواقف رکھیں۔

جس طرح اس وقت بلوچ قومی تحریک جس تیزی سے بلوچ عوام میں پھیل رہی ہے اور بلوچ عوام قومی تحریک میں حصہ لے رہے ہیں، ان میں راجی شعور پیدا ہو رہا ہے۔ اس لیے ریاست اپنی پرانی پالیسیوں کو نیا رنگ دے کر سامنے لا رہی ہے۔ دوسری طرف ریاست کی ان بڑی پالیسیوں میں شامل ہے جس سے وہ براہِ راست بلوچ نسل کشی کر رہی ہے۔ اس کی مثال بلوچ زمین پر معمول کے مطابق فوجی آپریشن، بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی، ویرانوں میں ان کی لاشیں پھینکنا، بلوچ زمین پر ایٹمی تجربے ہیں۔ ان طریقوں کو قبضہ گیر تب استعمال میں لاتا ہے جب مظلوم قوم کے کچھ شعور یافتہ لوگ قبضہ گیر کے خلاف مزاحمت کر رہے ہوں، میدانِ جنگ میں اس کے مدمقابل ہوں۔

بلوچ قوم غلامی کے شروع ہی دنوں سے پاکستان کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، اسی لیے پاکستان شروع دنوں سے آج تک اس طریقے کو آزما رہا ہے اور ان میں شدت لا رہا ہے، پھر بھی وہ بلوچ قومی تحریک کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ یہ بلوچ قوم کے شعور اور بلوچ قومی تحریک کی کامیابی کی نشانی ہے۔

اسی طرح پاکستان نے 28 مئی 1998 میں چاغی میں راسکوہ کے سینے پر ایٹمی تجربہ کیا جو بلوچ قوم کے لیے قہر ثابت ہوا۔ پاکستان پے در پے پانچ ایٹمی حملوں کا تجربہ کرتا ہے، اس دن کو بلوچ آج تک یومِ سیاہ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ یہ وہی زمانہ تھا جب ایک طرف بابا خیر بخش مری بلوچ نوجوانوں کو نیشنل ازم کے نظریے سے آگاہ کر رہے تھے، دوسری طرف بلوچستان کے کٹھ پتلی قوم پرست اختر مینگل، جو اس زمانے میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ تھے، پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بلوچوں کی تباہی کا نظارہ کر رہے تھے۔

عالمی تحقیق کاروں کے مطابق اگر ایٹمی حملوں کے اثرات کا روک تھام نہ کیا جائے تو وہ مکمل سماج کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے مطابق ایٹمی حملے وہاں کے موسم بدلتے ہیں اور پانی زمین کے اندر نیچے چلا جاتا ہے، بارش کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں اور زمین بنجر بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس سماج میں مختلف بیماریاں سر ابھارتی ہیں، جیسا کہ کینسر، سانس کی بیماریاں، آنکھوں کی بینائی چلے جانا، نامکمل بچوں کی پیدائش اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔ اس طرح کی صورتحال ہیروشیما، ناگاسا کی و دیگر کئی جگہوں میں دیکھی گئی ہے، جہاں ایٹمی حملے کیے گئے ہوں۔

اسی طرح بلوچ قوم بھی 25 سالوں سے ایسی صورتحال سے دوچار ہے کہ ایٹمی تجربے کی وجہ سے چاغی کے رہائشی مختلف بیماریوں سے گزر رہے ہیں۔ وہاں کے رہائشی ایک گھونٹ پانی کو ترس رہے ہیں۔ یہاں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور مالداری ہوا کرتا تھا، مگر اب خشک سالی اور بیماریوں کی وجہ سے مال مویشیوں کا نام و نشان بھی نہیں رہا۔

چاغی مختلف دولت سے بھرا ہوا ہے، ریکوڈک اور سیندک کا مالک ہے، لیکن آج وہاں کے رہائشی ریاست نے روند ڈالے ہیں اور وہ بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایٹمی حملے کی وجہ سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، کئی گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

چاغی کے علاوہ بلوچستان کے دوسرے علاقوں میں بھی پاکستان معمول کے مطابق جنگی سازوسامان آزما رہا ہے، جس سے ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ بگٹی زیادہ متاثر ہیں، اور وہاں کے رہائشی ہزاروں کی تعداد میں بیماریوں کا شکار ہیں۔

ایٹمی بم اکثر یورینیم گیس سے بنائے جاتے ہیں، یہ بھی بلوچستان کے ڈیرہ غازی خان کی زمین سے حاصل کی جاتی ہے، جہاں پاکستان نے یورینیم کی لوٹ مار کے لیے 8 مائننگ پلانٹ بنائے ہیں۔ یہاں سالانہ کم از کم 25000 کلوگرام یورینیم نکالا جا رہا ہے۔ یہ یورینیم مائننگ پلانٹ آبادی کے قریب ہیں، جس سے زہریلا یورینیم آکسیجن میں شامل ہو جاتا ہے، جو سانس کے ذریعے جسم میں جاتا ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے، جن میں کینسر بھی شامل ہے، جس کی وجہ سے آج ڈی جی خان کے اکثر رہائشی مر رہے ہیں۔

پاکستان یورینیم گیس کی لوٹ مار کر رہا ہے اور شعوری طور پر اس کے کچرے عام آبادی میں پھینک رہا ہے تاکہ وہاں کے رہائشی متاثر ہوں۔

Institute for Science and International Security ایک تحقیقی ادارہ ہے۔ اس کے مطابق بلوچستان پر ایٹمی حملے کے بعد پاکستان نے بلوچستان میں اپنے ایٹمی سازوسامان کے ڈپو بنائے ہیں، جن کا مرکز خضدار ہے۔ وہاں پاکستان چھوٹے بڑے ایٹمی ہتھیار بناتا ہے۔ انہی ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والی زہریلی گیس سانس لینے والی ہوا میں شامل ہو رہی ہے، جس سے خضدار اور گرد و نواح کے سارے علاقے متاثر ہیں، اور بلوچستان کے بہت سے لوگ کینسر کا شکار ہو رہے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ کی 2017 کی ایک تحقیق کے مطابق بلوچستان میں کینسر کے متاثرہ افراد 3500 سے زیادہ تھے۔ یہ اعداد و شمار صرف وہ ہیں جو ہسپتالوں میں درج ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے وہ علاقے جہاں نہ ہسپتال ہیں اور نہ ڈاکٹر، وہ اس اعداد و شمار میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے بعد وائس آف امریکہ کی 2018 کی ایک تحقیق کے مطابق یہ تعداد 4000 تھی۔ حالانکہ یہ 6 اور 7 سال پرانی تحقیقات ہیں، اس کے بعد اس طرح کی کوئی تحقیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے بلوچستان میں کینسر کے مریضوں کے حقیقی اعداد و شمار بتائے نہیں جا سکتے، لیکن تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور بلوچستان کا ہر علاقہ اس کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔

ایک طرف پاکستان اگر بلوچوں کی نسل کشی میں مگن ہے تو دوسری طرف اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک جیسے بلوچ اس سے ملے ہوئے ہیں اور اپنے جیسے چمچے پیدا کر رہے ہیں اور بلوچ تحریک کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عام عوام کے سامنے بلی کی کھال پہن رکھی ہے۔ یہی اختر مینگل چاغی پر ہونے والے ایٹمی حملے کے بعد اپنی ایک اخباری بیان میں خوش ہوتے ہوئے اس ایٹمی حملے کو پاکستان کی خوش قسمتی قرار دیتا ہے، لیکن عوام کے سامنے اپنے آپ کو درد مند ظاہر کرتا ہے۔

دوسری طرف جب 2013 میں بلوچ تحریک دنیا کے سامنے ایک منظم شکل میں پہچانی جا رہی تھی، تب اسی اختر مینگل کو پاکستان باہر سے بلا کر اسلام آباد لایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جا سکے کہ بلوچ پاکستان کے ساتھ خوش ہیں۔ اس طرح کے کردار دنیا کی دوسری تحریکوں میں بھی ملتے ہیں، جہاں کچھ لوگ اپنی ذاتی خواہشات کے لیے دشمن کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، لیکن قومی تحریکیں اپنی جگہ مضبوط ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان کا چاغی میں ایٹمی حملے کو تجربے کا نام دینا اور دوسری طرف بلوچستان میں ایٹمی ہتھیاروں کا ڈپو بنانا، ذہن میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے کئی علاقے موجود ہیں جو آبادی سے دور ہیں، لیکن ایٹمی تجربہ بلوچستان میں ہی کیوں؟ یا پاکستان کے پاس بلوچستان کے علاوہ ایٹمی ہتھیاروں کے لیے کئی محفوظ جگہیں موجود ہیں، لیکن بلوچستان میں ہی ہتھیاروں کا ڈپو کیوں؟

بلوچستان جو ایک جنگ زدہ خطہ ہے، وہاں ایٹمی ہتھیاروں کا ڈپو بنانا اپنے لیے خود مصیبت کھڑی کرنے کے برابر ہے، پھر بھی بلوچستان میں ہی ایٹمی ہتھیاروں کا ڈپو کیوں بنایا جاتا ہے؟ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو بلوچ قوم سے نہیں بلکہ بلوچستان کے وسائل سے محبت ہے۔ اسی لیے اس کی مستقل کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح بلوچوں کی نسل کشی کرے، اور یہ بات انہوں نے شروع ہی دنوں سے واضح کر دی ہے۔

اب بلوچوں کے لیے یہ اہمیت رکھتا ہے کہ وہ کس راستے کو چنتے ہیں؟ آیا وہ قبضہ گیر کی غلامی میں رہ کر بلوچ نسل کشی میں اس سے ہاتھ ملاتے ہیں یا پھر اپنی قومی وجود کے تحفظ کے لیے مزاحمت کر کے قبضہ گیر کی پالیسیوں کو رد کرتے ہیں، کیونکہ درمیانی راستہ نہیں ہوتا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔