بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں استاد، شاعر، سیاسی کارکن، ادیب، طالبعلم، صحافی سمیت تمام مکتبہ فکر کے پرامن لوگ جو قلم اور کتاب کے زریعے علم پھیلانے میں کوشاں ہیں، ہمیشہ مظالم کے شکار ہوتے آرہے ہیں۔
مزید کہا کہ بلوچ سماج ایک ایسی دور سے گزررہی ہے کہ پرامن اور قلم کی زبان کو بھی برداش نہیں کیا جاتا، ہمارا ہر وہ شخص جو سوچتا ہے اور سماج کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتا ہے ان کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے یا پھر بے دردی سے قتل کرکے ان کی آواز کو خاموش کیا جاتا ہے۔ مگر یہ ان قوتوں کی بھول ہے کہ علم اور سوچ کسی بندوق کی گولی سے ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید مضبوط اور توانا ہوکر ابھرتے ہیں۔
“پروفیسر غمخوار حیات براہوئی زبان کے ایک استاد، ادیب اور دانشور تھے جنہوں نے اپنی قلم کے زریعے نہ صرف براہوئی ادب اور زبان کو ترقی دینے میں جدوجہد کی بلکہ اپنے سماج میں علم کو پھیلانے میں تگ و دو کی جو ایک حقیقی استاد کا آئینہ ہے۔ ان کو سوچنے، لکھنے، پڑھانے، مادری زبان کو پروان چڑانے اور طالبعلموں کو علمی راستہ دکھانے کی سزا دی گئی جو سوچنے اور علم حاصل کرنے پر قدغن لگانے کی ناکام کوشش ہے۔ ان کا براہوئی ادب میں کارکردگی ایک مسیحا جیسا ہے جنہوں نے مادری زبان کو ترقی دینے میں اپنا قومی کردار ادا کیا۔ ایک پرامن اور علم دوست استاد کا اس طرح بے دردی سے قتل بلوچستان کے پورے علمی سرکل پر ایک حملہ ہے۔”
“بلوچستان کے استاد اور دانشور ہمیشہ حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں جہاں حکومتی حمایت یافتہ گروہوں نے بلوچوں کے کئی استادوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی سوچ اور آواز دبانے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔ استاد صباء دشتیاری سے لے کر غمخوار حیات تک یہ وہ علمی کارواں ہے جنہں علم کا شمع روشن کرنے کی سزا دی گئی، پروفیسر صباء کی سریاب میں اور غمخوار حیات کی نوشکی میں شہادت بلوچ قوم کی فکری سوچ پر حملے ہیں۔ یہ علم کے وہ مسافر تھے جنہوں نے خاموشی کے بجائے لکھنے، سوچنے اور علم پھیلانے کو ترجیح دی، آج ان جیسے علم دوست استادوں کے بدولت بلوچستان میں علم کا شمع روشن ہے۔ ان جیسے استادوں کو نشانہ بنانا نہ صرف سنگین مجرمانہ عمل ہے بلکہ انسانی سوچ کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔”
ترجمان نے کہا کہ ہم پروفیسر غمخوار حیات کا بے دردی سے قتل کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ تمام استادوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جیسے سنگین مجرمانہ عمل کے خلاف اٹھیں اور بھرپور ردعمل دیں تاکہ علم پر قدغن لگانے کی یہ مجرمانہ کوششیں ناکام ہوجائیں۔ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مجروموں کو سزا دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔














































