غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل

18

بلوچ اسکالر، پبلشر اور نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن غنی بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک سال مکمل ہوگیا، تاہم تاحال ان کی بازیابی ممکن نہ ہوسکی۔ اہلِ خانہ، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے مسلسل احتجاج، عدالتی چارہ جوئی اور پریس کانفرنسوں کے باوجود ریاستی اداروں کی جانب سے ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ غنی بلوچ کو 25 مئی 2025 کو خضدار میں القادری ہوٹل کے قریب ایک مسافر کوچ سے اس وقت اتارا گیا جب ایف سی کی وردی میں ملبوس اہلکاروں نے گاڑی کی تلاشی کے دوران انہیں اپنی تحویل میں لیا۔ پارٹی کے مطابق اس واقعے کے بعد سے آج تک نہ ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پارٹی ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ غنی بلوچ کی گمشدگی آئینِ پاکستان، بنیادی انسانی حقوق اور قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اہلِ خانہ اور پارٹی نے ہر ممکن قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کیا۔ ابتدا میں خضدار میں ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کی گئی مگر درخواست مسترد کردی گئی۔ بعدازاں ایس پی، ایس ایس پی اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کی گئیں، سیشن کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، جبکہ جبری گمشدگیوں سے متعلق قائم کمیشن میں بھی درخواست دائر کی گئی، مگر اس کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔

ترجمان کے مطابق شدید عوامی دباؤ کے بعد جبری گمشدگی کی ایف آئی آر تو درج کرلی گئی، لیکن متعلقہ ادارے اب بھی خاموش ہیں۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، طلبہ اور باشعور نوجوانوں کو مسلسل جبری گمشدگیوں کا سامنا ہے، جس سے پرامن اور جمہوری سیاست کی گنجائش تیزی سے ختم ہورہی ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق ایک سال گزر جانے کے باوجود انہیں یہ تک نہیں بتایا گیا کہ غنی بلوچ کہاں ہیں اور کس کی تحویل میں ہیں۔ اہلِ خانہ نے کہا کہ انہوں نے عدالتوں، پولیس اور انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں سے رجوع کیا، تمام ثبوت اور شواہد فراہم کیے، مگر کسی ادارے نے سنجیدہ جواب فراہم نہیں کیں۔

بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے سے دوچار ہے۔ انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق بلوچستان میں سیاسی کارکنوں، طلبہ، صحافیوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کی گمشدگیوں کے متعدد واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے طویل احتجاجی کیمپ، لانگ مارچ اور عدالتوں سے رجوع کرنے کے باوجود یہ مسئلہ اب تک حل طلب ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز سمیت مختلف تنظیمیں دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ ہزاروں افراد گزشتہ برسوں کے دوران لاپتہ ہوئے، جن میں سے کئی آج تک واپس نہیں آسکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ صرف انسانی حقوق کا نہیں بلکہ ایک سنگین بحران بھی بن چکا ہے۔