بلوچستان: جبری گمشدگی کے 12 نئے کیسز رپورٹ

42

بلوچستان کے مختلف علاقوں مستونگ، کوئٹہ اور خضدار سے جبری گمشدگیوں کے متعدد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ میں پاکستانی فورسز نے 16 اور 17 اپریل 2026 کو کارروائیوں کے دوران کم از کم سات افراد کو حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔ لاپتہ افراد میں عبدالجبار ولد سکندر خان ،زبیر احمد ولد عبدالمجید ، پرواز احمد ولد وارث احمد ، عبدالرسول ولد عبدالباقی ، نقیب اللہ ولد حاجی علی احمد ،حسنان احمد ولد حبیب الرحمن اور ذیشان احمد ولد تما خان شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ تمام افراد مختلف اوقات میں ایف سی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے ہاتھوں اٹھائے گئے۔

اسی دوران کوئٹہ میں بھی جبری گمشدگیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 28 اپریل کو محکمہ جنگلات کے ملازم عبدالغفار بلوچ اور ان کے بھائی علی رضا بلوچ کو ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔

جبکہ 24 اپریل کو کلی قمبرانی، قمبرانی روڈ سے سیکیورٹی گارڈ منور قمبرانی کو گھر سے اٹھایا گیا۔

ادھر ضلع خضدار کے علاقے گریشگ سے ارشاد عالم کو 30 جولائی 2025 کو ان کے گھر سے اٹھایا گیا تھا، جن کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔

لواحقین نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔