کوئٹہ: وی بی ایم پی کا احتجاج 6150ویں روز بھی جاری، مزار خان محمد حسنی کے لواحقین کی شرکت

1

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج بدھ کے روز اپنے 6150ویں دن میں داخل ہو گیا۔

احتجاجی کیمپ کے دوران مزار خان محمد حسنی کے لواحقین نے بھی شرکت کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ لواحقین کے مطابق مزار خان محمد حسنی ولد نورالدین کو 5 جولائی 2015 کو ضلع قلات کے علاقے جوہان کراس، منگچر سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔

اہلِ خانہ کے مطابق ان کا کیس کمیشن میں زیرِ سماعت رہا، تاہم گزشتہ ایک سال سے کمیشن اس کیس کی سماعت نہیں کر رہا اور نہ ہی ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہے۔

اس موقع پر تنظیمی سطح پر لواحقین کو یقین دہانی کرائی گئی کہ مزار خان محمد حسنی کے کیس کے حوالے سے متعلقہ کمیشن سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ سماعت دوبارہ شروع ہو سکے اور ان کی بازیابی کے لیے ہر ممکن فورم پر آواز بلند کی جائے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مزار خان محمد حسنی سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کر کے قانونی کارروائی کے تحت انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں