بلوچستان: دو نوجوان جبری لاپتہ، چار افراد بازیاب

10

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دو نوجوانوں کی جبری گمشدگی جبکہ چار افراد کی بازیابی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گوادر کے علاقے جیونی (پنوان) سے 19 سالہ علی اصغر ولد نور محمد، جو پیشے کے لحاظ سے ماہی گیر ہیں، کو 16 اپریل 2026 کی رات تقریباً 11 بجے ان کے گھر سے پاکستانی فورسز اور (ایم آئی) کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔

اسی طرح خضدار کے رہائشی 19 سالہ مہراج ولد اللہ بخش، جو ایف ایس سی کے طالب علم ہیں، کو 12 اپریل 2026 کی رات 8 بجے کوئٹہ میں چلڈرن ہسپتال کے قریب گرین پلازہ سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

دوسری جانب مختلف علاقوں سے لاپتہ ہونے والے چار افراد کی بازیابی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

خاران کے رہائشی نیاز احمد ولد ماسٹر ایاز کو 12 اپریل 2026 کو حراست میں لینے کے بعد 16 اپریل کو خاران میں رہا کر دیا گیا۔

گوادر کے علاقے جیونی کے رہائشی آصف ولد عیسیٰ بلوچ، جو 6 جنوری 2026 کو لاپتہ ہوئے تھے، کو 11 اپریل 2026 کو گوادر میں بازیاب کیا گیا۔

کیچ کے علاقے مند (بلوچ آباد) کے رہائشی امیر ولد جاسم داد، جنہیں 19 دسمبر 2025 کو لاپتہ کیا گیا تھا، 10 اپریل 2026 کو گوادر میں بازیاب ہوئے۔

اسی طرح کیچ کے علاقے تربت (گوکدان) کے رہائشی الیاس ولد میاد داد، جنہیں 6 اپریل 2026 کو لاپتہ کیا گیا تھا، 12 اپریل 2026 کو ایف سی کیمپ ڈی بلوچ تربت سے رہا کر دیا گیا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف سرگرم کارکنوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو قانون کے مطابق منظرِ عام پر لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔