بارکھان میں بمباری و شیلنگ: خواتین و بچوں سمیت جانوں کا ضیاع ریاستی اجتماعی سزا کا ثبوت ہے۔ بی وائی سی

35

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے کہا ہے کہ بارکھان میں پاکستانی فورسز کی جانب سے کی گئی بمباری اور اندھا دھند شیلنگ کے نتیجے میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ریاستی اجتماعی سزا اور بے لگام طاقت کے استعمال کا کھلا ثبوت ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور قابلِ مذمت ہے، جو اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ ریاستی طاقت کس طرح بغیر کسی احتساب کے عام شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

بیان کے مطابق بارکھان میں پیش آنے والا یہ اندوہناک واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ اس تسلسل کی ایک کڑی ہے جہاں اجتماعی سزا کے طور پر پورے علاقوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کسی ایک حملے کے ردعمل میں پورے علاقے کو لپیٹ میں لینا، اور اس دوران خواتین، بچوں اور بزرگوں کا جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ طاقت کا استعمال غیر متناسب ہے اور انسانی جان کی حرمت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں میں علی ولد سلطان عمیر (40 سال)، بیبل بنت گلزار (30 سال)، میر جان ولد علی (2 سال)، سومری بنت بھنگان (35 سال)، بالاچ ولد سبزو (70 سال)، شاری (22 سال)، رحمان ولد بالاچ (18 سال)، نائخو بنت جمالان (17 سال)، اللہ بخش ولد بالاچ (6 سال)، سادو بنت بالاچ (13 سال)، ہاپو بنت بالاچ (8 سال) اور مہرنگ ولد بالاچ (2 سال) شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی کارروائی میں زر بی بی بنت شیر (55 سال)، ہزار خان ولد بالاچ (9 سال) اور اسرار بنت بالاچ (15 سال) شدید زخمی ہوئے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس حملے میں عام شہری براہ راست متاثر ہوئے۔

ترجمان کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتی ہیں جہاں کسی ایک واقعے کے جواب میں پورے معاشرے کو سزا دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی سزا کا تصور بین الاقوامی اصولوں اور بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہے اور ایسے اقدامات نفرت، عدم اعتماد اور محرومی کو بڑھاتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ انسانی جانوں کے اس طرح کے ضیاع کو کسی بھی سیکیورٹی جواز یا ریاستی مفاد کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اور یہ عمل آئین و قانون کی روح اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کے خلاف سنجیدہ اور مؤثر ردعمل ناگزیر ہے۔ بیان میں سوال اٹھایا گیا کہ کب تک عام شہریوں کو ریاستی بیانیے کا ایندھن بنایا جاتا رہے گا اور کب تک مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتی رہیں گی۔

آخر میں تنظیم نے کہا کہ اگر اس طرح کے واقعات کے خلاف اجتماعی آواز بلند نہ کی گئی تو ایسے سانحات کا سلسلہ جاری رہے گا، اور تمام باشعور افراد سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔