بلوچستان: مزید 4 افراد جبری طور پر لاپتہ، وی بی ایم پی کا کیمپ 6135ویں روز میں داخل

1

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں جبری گمشدگیوں کے سلسلے میں مزید چار افراد کے لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ کوئٹہ میں جبری گمشدہ افراد کے اہلخانہ کا احتجاجی کیمپ 6135ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

دی بلوچستان نیوز ڈیسک کو موصول اطلاعات کے مطابق، 12 اپریل 2026 کو خاران کے علاقے تاالان سے دو مقامی تاجروں کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا۔

لاپتہ افراد میں نیاز اور ریاض، ولد ماسٹر ایاز، شامل ہیں، جو پیشے کے لحاظ سے تاجر اور خاران کے رہائشی ہیں۔

اسی طرح 9 اپریل 2026 کو نوشکی کے علاقے کلی جمالدینی سے رکشہ ڈرائیور بلال بلوچ، ولد عبدالحق، کو ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا۔

مزید برآں، 10 اپریل 2026 کو گوادر کے علاقے کلانچ سے ایک شخص امیر بلوچ، ولد کریم، کو بھی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں حراست کے بعد لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب، کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کا احتجاجی کیمپ آج 6135ویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ کیمپ میں جبری گمشدہ افراد کے اہلخانہ بڑی تعداد میں شریک ہیں، جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے منتظر ہیں۔

اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ایک سنگین انسانی مسئلہ بن چکی ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان برسوں سے اذیت ناک انتظار میں ہیں۔

وی بی ایم پی کے رہنما نیاز محمد نے کہا کہ جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل آئین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، اور اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

اہلخانہ نے کہا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے پیارے بازیاب نہیں ہوتے