فوجی حراست میں اجتماعی سزا کے شکار خواتین اوربچوں کو چھ مہینے پورے ہوگئے۔ بی این ایم

114

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے میڈیا میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچ قومی تحریک کو کچلنے کیلئے پاکستان کی جانب سے مظالم کی انتہاء ہوچکی ہے۔ بلوچستان پر جبری قبضہ کے بعد سے پانچواں فوجی آپریشن کا سامنا کرنے والے بلوچ فرزند اغوا اور گمشدگی، زمینی و فضائی بمباری، بستیوں کو جلانے، مکینوں کی بے دخلی اور ہجرت اور اجتماعی سزا جیسی اذیتوں سے دوچار ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ مشکئے سے خواتین اور بچوں کو پاکستانی فوج کی حراست میں چھ مہینے مکمل ہوگئے جنہیں اجتماعی سزا کے تحت فوجی حراست میں رکھا گیا ہے۔ 23 جولائی 2018 کومشکئے النگی سے 50 سالہ نورملک زوجہ اللہ بخش، 25 سالہ حسینہ بنت اللہ بخش، 22 سالہ ثمینہ بی بی بنت اللہ بخش،14 سالہ ضمیراحمد ولد اللہ بخش، 13 سالہ دولت ولد داد محمد گزشتہ چھ مہینے سے پاکستانی فوج کی غیر قانونی تحویل میں ہیں۔ یہ خواتین پہلے جیبری مشکئے میں اب گجر مشکئے میں فوج کے مرکزی کیمپ میں غیرقانونی حراست میں ہیں۔ ان غیر انسانی مظالم کا مقصد بلوچ قوم کو آزادی کی تحریک سے دستبردار کرانا ہے لیکن شعوری اور تنظیمی بنیادوں پر قائم اس تحریک کو دہشت اور دہشت گردی سے ختم نہیں بلکہ بڑھاوا اور ابھار ملے گی۔ ایک ایسے عالم میں جب بلوچ قومی وجوداورقومی شناخت داؤ پر لگا ہو تو بلوچ قوم کا رد عمل اور مزاحمت ایک فطری عمل ہے۔

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان نے اجتماعی سزا کی پالیسی کے تحت بلوچستان کے طول وعرض میں بربریت کاسلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی اجتماعی سزا کے پالیسی کے تحت مشکئے النگی سے چھ مہینے قبل خواتین اور بچوں کو پاکستانی فوج نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا۔ اس بارے میں مختلف اداروں کو خطوط اور سوشل میڈیا میں آگہی کا مہم چلایا گیا لیکن بلوچ قوم پر مظالم کو مقامی اور عالمی سطح پر بدستور اَن سُنی کرکے میڈیا ہاؤسز، صحافی اور انسانی حقوق کے ادارے اس بربریت میں تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے۔ اسی طرح عدالتوں نے بھی چپ سادھ کر ان مظالم کی حمایت جاری رکھی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین اوربچوں کو حراست میں رکھنا پاکستان کی جرائم میں ایک بڑی اضافہ ہے۔ بلوچ قوم اپنے اسیروں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ ہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان کے ان غیر انسانی مظالم کا نوٹس لیاجائے۔