بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے پاکستانی فوج پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ 22 مئی کی رات سرمچاروں نے آواران سے مشکے جانے والی پاکستانی فوجی قافلے پر آدھی رات بارہ بجے مشکے کے علاقے بنڈکی کے مقام پر گھات لگا کر حملہ کیا۔ چار گاڑیاں حملے کی شدید زد میں آئیں اور انہیں بری طرح نقصان پہنچا۔ حملے میں چھ سے زائد فوجی اہلکار ہلاک اور دس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ فورسز پر حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔
تازہ ترین
خضدار، ہرنائی، دالبندین: مرکزی شاہراہوں مسلح افراد کا کنٹرول، متعدد گاڑیاں نذرآتش
بلوچستان کی مرکزی شاہراہوں پر مسلح افراد کا کنٹرول، گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ، معدنیات لیجانے والی متعدد گاڑیاں نذرآتش
آج صبح خضدار کے علاقے ونگو...
جھل مگسی: پولیس تھانے پر حملہ، چوکی نذرِ آتش، پولیس اہلکار زیر حراست
مسلح افراد اور جھل مگسی پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات، حملہ آوروں نے پولیس چوکی کو نذرِ آتش کردیا جبکہ فورسز گاڑی کو...
کوئٹہ: وی بی ایم پی احتجاجی کیمپ کو بند کرنے کی دھمکیاں، جدوجہد جاری...
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا ہے کہ تنظیم کو احتجاجی کیمپ بند...
ڈیرہ مراد جمالی: پولیس موبائل پر دستی بم حملہ، تین اہلکار زخمی
نامعلوم افراد نے پولیس موبائل کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا۔
تفصیلات کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی کے...
بلوچستان: مختلف علاقوں سے مزید 7 افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ
بلوچستان کے مختلف اضلاع سے مزید سات افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں ایک کمسن لڑکا، ایک...
















































