بدھ کے روز بلوچستان اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رکنِ اسمبلی علی مدد جتک نے کہا کہ اسما جتک کو اغوا کیا گیا اور ان کے والد کو قتل کر دیا گیا۔ قلات میں عبدالستار کی بیٹی کو بھی اغوا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کی یہ داستان جاری ہے۔
علی مدد جتک نے کہا کہ ایک قبائلی سردار نے قبائلی معاشرے میں ایک بچی کو اغوا کیا۔ جب اس بچی کے والد نے انصاف مانگا تو انہیں قتل کر دیا گیا، جبکہ جس کسی نے بھی اس بچی کے حق میں آواز اٹھائی، اسے بھی مار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس میں چار سے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا، جنہوں نے دس سے پندرہ قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ بلوچستان میں بیشتر نوابوں اور سرداروں پر بچیوں کو زندہ دفن کرنے کے الزامات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرداروں اور نوابوں کے محافظوں کو گرفتار کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول یہ سب اشتہاری اور مجرم ہیں۔
علی مدد جتک نے کہا کہ آج ظہور اور اس کے دو ساتھی کہاں ہیں اور کس کے پاس ہیں؟ ڈی آئی جی سے پوچھا جائے کہ اس نواب کو گرفتار کریں اور دو جوتے ماریں، سب کچھ بتا دے گا۔ ان کے بقول، ظہور اسی نوابزدہ کے پیچھے بندوق لے کر کھڑا ہوتا تھا۔
انہوں نے سردار ثنااللہ زہری کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ بزدل لوگ ہیں اور اپنے باڈی گارڈز کے ذریعے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو نواب کبھی لوگوں کو علاقہ بدر کرتا تھا، آج وہ اپنے آبائی علاقے زہری میں بھی نہیں بیٹھ سکتا۔
علی مدد جتک نے کہا کہ یہ سردار اور نواب اشتہاری ہونے کے باوجود انتخابات لڑ کر وزیر اور رکنِ اسمبلی بن جاتے ہیں۔ وہ لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کی بچیوں کو اغوا کرتے ہیں۔ ان کے بقول، ایسے واقعات کی وجہ سے نوجوان ناراض ہو چکے ہیں۔














































