بلوچستان میں پانچ افراد کی جبری گمشدگیوں کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ پاکستانی فورسز کے حراست سے بازیابی کے بعد مبینہ سخت تشدد کے نتیجے میں ایک نوجوان کے جانبحق ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔
کیچ کے دشت علاقے مکسر میں پاکستانی فوج نے چھاپہ مارا، گھروں میں تشدد کیا اور قیمتی سامان اپنے ساتھ لے گئی۔ کارروائی کے دوران 30 سالہ داد شاہ ولد کریم کو تحویل میں لے کر لاپتہ کر دیا گیا، جبکہ ان کے گھر کو بھی طور پر آگ لگا دی گئی۔
کوئٹہ سے بھی چار افراد کی جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 28 سالہ طالب علم جواد شاد ولد دلشاد کو 20 ستمبر کو اے ون سٹی، بروری روڈ سے، 20 سالہ مزدور شوکت ولد محمد نور کو 3 اگست کو سریاب سے، 20 سالہ سیام بلوچ ولد عبدالسلام کو 26 ستمبر کو کچی بیگ میں ان کے گھر سے، جبکہ 26 سالہ دکاندار غلام حیدر ولد جمعہ خان کو 12 مارچ کو ایسٹرن بائی پاس، کوئٹہ میں ان کے گھر سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا۔
دستیاب معلومات کے مطابق جواد شاد کی جبری گمشدگی میں CTD اور MI، شوکت کی گمشدگی میں CTD اور FC، جبکہ سیام بلوچ اور غلام حیدر کی گمشدگی میں CTD پر الزام عائد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب کیچ کے علاقے بلیدہ سے پاکستانی فوج کی حراست سے بازیاب ہونے والے حفیظ بلوچ ولد رحمدل کے جانبحق ہونے کی اطلاع ہے۔لواحقین کے مطابق حفیظ کو 16 ستمبر 2026 کی رات ان کے گھر سے
تحویل میں لے کر لاپتہ کیا گیا تھا۔ 22 ستمبر کی رات انہیں شدید زخمی حالت میں اہل خانہ کے حوالے کیا گیا، تاہم رہائی کے تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبحق ہوگئے۔


















































