ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری: بلوچستان میں شہری آزادیوں اور عوامی حقوق پر حملہ ہے ۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عائشہ فیض سالہا سال سے صوبے کی واحد لیڈی پولیس سرجن کے طور پر خدمات انجام دینے والی سینئر شہری ہیں، جو گرفتاری اور بدسلوکی کے بجائے عزت و احترام کی مستحق ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر عائشہ فیض حال ہی میں انسانیت کی سالہا سال پر محیط بے لوث خدمات کے بعد ریٹائر ہوئی ہیں۔ ان کی گرفتاری محض ایک انفرادی معالج پر حملہ نہیں، بلکہ بلوچستان میں تیزی سے سکڑتی ہوئی شہری اور جمہوری آزادیوں کا عکاس ہے۔جب حال ہی میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایک تحکمانہ اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں یہ اعلان کیا کہ مستونگ کے سیب کے باغات کو تباہ کر دیا جائے گا اور وہاں کے رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر بلاجواز نقل مکانی (IDPs) پر مجبور کیا جائے گا، تو باضمیر شہریوں نے اس پر بجا طور پر آواز اٹھائی۔ ڈاکٹر عائشہ فیض بھی ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے اس فیصلے کے بھیانک نتائج پر تنقید کی۔
یہ محض چند درخت نہیں ہیں جنہیں بغیر کسی نقصان کے کاٹ دیا جائے۔ ان سیب کے باغات کو مقامی لوگوں نے سالہا سال کی محنت، سرمائے اور دیکھ بھال سے پروان چڑھایا ہے۔ ان باغات کا پھل بے شمار خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ اور مقامی زرعی معیشت کا اہم ستون ہے۔ اس لیے ان باغات کو تباہ کرنے کا مطلب شہریوں کے اثاثوں، روزگار اور معاشی بنیادوں کو ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس کے ساتھ ساتھ، ان باغات کی تباہی کے شدید ماحولیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔ درخت مٹی کی زرخیزی اور استحکام کو برقرار رکھنے، حیاتیاتی تنوع کی حفاظت، مقامی ایکو سسٹم کی دیکھ بھال اور ماحول کو متوازن رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا خاتمہ مٹی کے کٹاؤ، جنگلی حیات کے مسکن کی تباہی، زرعی زمین کی بنجر ہٹ اور ماحولیاتی خطرات میں اضافے کا سبب بنے گا۔
لہٰذا یہ صرف درختوں کا تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ، شہریوں کے روزگار، زرعی زمین کی بقا، معاشی تحفظ اور اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں عوام کے بنیادی حق کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان جائز خدشات کو دور کرنے کے بجائے، حکام نے ایک سینئر شہری کو ان کے گھر سے گرفتار کرنے کا راستہ منتخب کیا۔بنیادی سوال یہ ہے کہ: ایک بااختیار سرکاری عہدیدار کو ایسے پالیسی بیان پر جوابدہ کیوں نہیں ٹھہرایا جاتا جو لوگوں کا روزگار چھیننے اور انہیں بے گھر کرنے کا سبب بنے، جبکہ اس پالیسی کے نتائج پر آواز اٹھانے والی ایک شہری کو سزا دی جاتی ہے؟

مزید کہاکہ ڈاکٹر عائشہ فیض کی گرفتاری بلوچستان میں جابرانہ طرزِ حکمرانی کو بے نقاب کرتی ہے۔ جو حکومت تنقید کا جواب گرفتاریوں سے دیتی ہے، وہ اپنی طاقت نہیں بلکہ اپنی عدم برداشت اور بے یقینی کا مظاہرہ کرتی ہے۔
ڈاکٹر عائشہ فیض کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کی عزت و وقار کا احترام کیا جائے، اور حکومت کو سیب کے باغات کی مجوزہ تباہی، ماحولیاتی نقصان اور مقامی آبادی کی بے دخلی سے متعلق اٹھنے والے جائز سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔