سیاہی سے نہیں، خون سے لکھا جائے
تحریر: آزاد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
“جب بارود کا دھواں کائنات کو دھندلا دیتا ہے، تو مجھے اپنے دائیں بائیں دوڑتے ہوئے دوست سپاہی نہیں، وقت کے کینوس پر ہمیشہ کے لیے امر ہو جانے والے دیوتا لگتے ہیں۔”
میرے الفاظ آپ کے ایک قطرہ خون کا وزن بھی پورا نہیں کر پائیں گے، نہ ہی میرے خیالات قلم بند کرنے سے آپ کے حوصلے، جذبے اور بہادری کا حق ادا ہوگا۔ میں کوئی لکھاری نہیں ہوں، بس اتنا لکھنا چاہ رہا تھا کہ کچھ تسکینِ قلب ہو۔ کچھ دنوں سے سوچ رہا تھا کہ آپ پر کچھ سطریں رقم کر لوں، مگر سرگشتہ تھا کہ کہاں سے آغازِ قلم ہو؛ آیا آپ کے شبابِ عمر سے، رعنائی، دلکشی، دلبری، شاہزیاری سے، یا کہ آپ کی بہادری، جوانمردی، رعب و بسالت سے۔
بالآخر ایک ملاقات، سگارو کے دیدار اور ایک کیفیت کو الفاظ کے سانچے میں ڈھال کر لہو، بارود اور فکری سنگت کے رخصتی کو لکھ رہا ہوں۔ میں نے امیر بخش سگار کو نہیں دیکھا تھا، ایک ارمان ہے۔ شاہزیب سگار کو دیکھ کر میں یہ کہہ سکتا ہوں، میں نے امیر بخش سگار کو دیکھ لیا۔ منگچر کے خاکی خمیر نے ایک اور سگار جنا، آگے بھی فکرِ سگار زندہ ہوگا اور سگار آتے رہیں گے۔
آپ جیسے جنگجوؤں کو موت ختم نہیں کر سکتی بلکہ اصل زندگی میں داخل کرکے مکمل کر دیتی ہے۔ آپ نے جنگ کی تپش اس لیے چنی کہ کل آپ کے لوگ امن کے سائے تلے زندگی بسر کریں۔ نمود و نمائش سے پاک، بوئے خاک کے عاشق ایک لوہے اور لکڑی سے بنے آلے کو آزادی کی امید بنا دیتے ہیں۔ بندوق آپ جیسے فدائی کے کندھوں پر ہو تو اپنے لیے خود معنی اور مقصد تلاش کر لیتی ہے۔
ہیرو! آپ کے آنسو آنکھوں میں جم گئے تھے۔ آپ کا جسم آپ کے ساتھ تھا، مگر آپ کی روح، آپ کی مسکراہٹ، آپ کا وجود وہیں میدانِ جنگ میں رہ گئے تھے۔ آپ کو ایسا لگ رہا تھا گویا آپ کا بدن بھی وہیں رہ گیا ہو اور اب آپ کندھوں پر صرف اپنا سایہ واپس لائے ہوں۔ آپ پر جب بھی میری نظر پڑتی، آپ ہیرو کے معرکے میں گم تھے۔ باقی دوستوں کے ہونٹوں سے کبھی کبھار ٹوٹی ہوئی درد بھری مسکراہٹ نکل تو رہی تھی، مگر آپ ایک ایسی کیفیت میں کھو گئے تھے جسے میں بیان نہیں کر سکتا۔ وہ آپ کے سنگر کے دوستوں کی جدائی تھی۔
آپ اب بھی استاد جعفر کے ساتھ تھے، جس کے ساتھ ہم کمر باندھ کر چار دن تک آپ کیمپ کے اندر دو بہ دو لڑ رہے تھے۔ نثار زدگ کا خون بہتا جسم اب بھی آپ کے پاس پڑا تھا اور آپ اس کے بغل میں مورچہ زن تھے۔ آپ اب تک حزب اللہ کے گلے (خمب) میں تھے، جسے جاتے ہوئے آپ نے رخصت کیا تھا۔ اب بھی وہ جاتے ہوئے آپ کو بار بار نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ جب آپ پہاڑوں پر دیکھتے، آپ کو ان میں محسن چراغ کا مسکراتا چہرہ دکھتا۔ کانوں سے ٹکراتی ہر آواز پر آپ ایسے مڑتے جیسے رازق تمہیں سگارو کہہ کر پکار رہا ہو۔
وہ دوست جن کی گولیوں کی آوازیں خاموش ہوگئی تھیں، گویا اس خاموشی نے آپ کے سر پر کائنات کا بوجھ رکھ لیا تھا۔ اب بھی وہ بوجھ آپ کے سر پر تھا۔ ہر چلتی ہوا ٹھنڈک نہیں، آپ کے پیچھے چھوڑے گئے شہید دوستوں کے خون سے لت پت جسم یاد دلا رہی تھی۔ کاش میں ایک لمحے کے لیے آپ کی آنکھوں کے اندر جا سکتا، تو آج میں وہ کیفیت لکھ سکتا۔ وہ کیفیت سیاہی سے نہیں، خون سے لکھتا۔
جنگ کے درمیان ایک جنگول کی وہ مسکراہٹ جو دورانِ جنگ اس کے ہونٹوں سے نکلی تھی، اس کی تشریح شاید کوئی بڑا فلسفی یا علمِ نفسیات سے واقف شخص بھی نہ کر سکے۔ بارود کی بوچھاڑ اور گولیوں کی سنسناہٹ میں ایک سپاہی کی ہنسی دراصل اس کی جیت اور دشمن کی ہار و باختگی کی نشانی ہوتی ہے۔
آپ کی وہ کیفیت، وہ احساسات میں قلم کی نوک پر لا نہیں سکتا۔ ان سے صرف آپ کی آنکھ اور دل ہی باخبر تھے۔ آپ کے دوست امرت و آبِ کوثر نوش کر گئے تھے، وہ تاریخ کی صفوں میں امر ہو چکے تھے۔ آپ اپنے دوستوں کے ہمراہ خوف کو شکست دے کر مفتوح ہوگئے تھے۔ دو بہ دو لڑائی میں چھ دن تک دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے میں آپ جیسے جنگول دوستوں نے سانس ہتھیلی پر رکھ لی تھی۔
ایک سنگر سے رخصت ہوئے دوست کا درد نہ میں لکھ سکتا ہوں، نہ ہی بیان کر سکتا ہوں۔ میں نے اس درد کی ایک جھلک ہیرو سے واپسی میں سگارو کی آنکھوں میں دیکھی۔ دنیا کا کوئی پیمانہ اسے شاید ناپ نہ سکے، اس درد کے سامنے جھک جائے، نہ ہی کوئی قلم یا اہلِ قلم اسے لفظوں میں قید کر سکے۔ آپ کی آنکھوں پر جب قریب سے میری نظر پڑتی، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آگ برس رہی ہوتی تھی۔ اس دشمن سے انتہا کی نفرت میں نے اس دن دیکھی تھی اور وہ نفرت آپ کی خماری آنکھوں میں بھڑک رہی تھی۔ آپ خاموش بیٹھے شاید خود سے، اپنے وجود سے سوال کر رہے تھے کہ میں اس زمین کا قرض چکا سکتا ہوں کہ نہیں؟ ہاں، آپ نے اس قرض کو چکا لیا۔ فدائی کی شکل میں آخری گولی حلق سے سر پر اتار کر آپ ہمیں اپنے فکر و فلسفے کا قرض دار کر گئے۔
وہی مہندی کی خوشبو اب بھی آپ کے دماغ میں گھوم رہی تھی، جسے سنگت جعفر اور لمہ بانی نے آپ دوستوں کے ہاتھوں پر لگایا تھا۔ وہ مہندی صرف انگلیوں پر کچھ دن، کچھ وقت کے لیے رنگ نہیں، بلکہ سرسبزی، شہیدی، شہادت، بہادری اور خوشی کی نشانیاں تھیں۔ اس دن سچ میں آپ دوستوں کی شادی تھی، پر اس شادی میں دلہن زمین تھی، جس سے بے لوث محبت نے آپ جیسے جنگول جنم دیے تھے۔
آپ اپنی عمر سے کافی بڑے ہوگئے تھے۔ آپ کی جوانی کا پھول کا غنچہ ابھی کھلا ہی تھا، مگر آپ کا فکر، آپ کی ہمت، آپ کا حوصلہ، آپ کی بہادری، آپ کا عقل و فہم، آپ کا جذبہ بہت پہلے پختہ عمر کو پہنچ چکا تھا۔ آپ ہر جنگ میں دستہ اول سے اس لیے لڑ رہے تھے تاکہ دوستوں کی طرف جاتی ہوئی گولی کو اپنے سینے سے روک لیں۔
آپ کی بندوق سے نکلی ہر گولی کو ہوا نے بوسہ دیا ہوگا، گلے سے لگایا ہوگا، اور اس کی بارودی خوشبو کو کئی دن تک اپنے سینے پر لگایا ہوگا، اس کی آواز پر رقص کیا ہوگا۔ کیونکہ وہ ایک بامقصد گولی ہوگی۔ وہ گولی زمین کی آزادی کی خاطر دشمن کے سینہ و مدل کو چیر گئی ہوگی۔ آپ کے کندھوں پر بندوق، آجوئی کی امید اور جہد کا مستقبل تھا۔
جس دن آپ مشن پر جا رہے ہوں گے، مجھے یقین ہے کہ آپ سب دوستوں (شہید و غازی) کے شادیِ مرگ کی سی کیفیت ہوگی، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہوگی۔ وہ سنگت آپ سے جسمانی طور پر جدا ہوگئے، مگر ان کے افکار و جذبے آپ کے دل میں دھڑک رہے تھے۔ آخرکار اسی نقشِ قدم، اسی روش، اسی چلن، اسی ادا پر آپ نے بھی جان نثار کیا۔
آپریشن مرگِ غداران کے وقت جاتے ہوئے آپ کتنے خوش ہوں گے، کیونکہ آپ انہی دوستوں کے نقشِ قدم پر قربان ہو رہے ہوں گے جنہوں نے آپ کی آنکھوں کے سامنے زمین پر لہو چھڑکا تھا۔ آپ نے انہی کے فکر و فلسفے کو لے کر حلق سے گولی نگل لی۔ آپ نے پھلین امیر کے ’’فلسفہ گڈی سم‘‘، آخری گولی کے فلسفے کو تازہ کر دیا۔ آج واپس گئے غازی دوست یقیناً اسی کرب اور کیفیت سے گزر رہے ہوں گے، جس کیفیت سے آپ ہیرو ۲ میں گزر رہے تھے۔
شفیق جیسے سفاک، جابر، ظالم، وحشی، درندے اور خونخوار پر حملے کا سن کر ان ماؤں کی دل ٹھنڈی ہوئی ہوگی جن کی آنکھوں کے تاروں کو اس غدار نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کسی ویرانے میں پھینک دیا ہوگا۔ توتک کی وہ تشدد زدہ لاشوں کی ارواح خوشی سے رقص کر رہی ہوں گی۔ اپنے بیرگیر وطن زادوں کو شفیق پر ٹوٹ پڑتے دیکھ کر ایک دوسرے کو مسرت دلا رہی ہوں گی۔
زمین کا وہ ٹکڑا جسے اس ناپاک دلال نے قتل گاہ بنایا ہے، وہ آپ پانچوں جنگجو فدائین کی لاشوں کو بوسہ دے کر گلے سے لگاتا ہوگا۔ آسمان فخر سے آپ فدائین کی داستان سناتا ہوگا اور آپ کی خماری آنکھوں کا ذکر بھی کرتا ہوگا۔ غازیوں کے آنے اور واپسی کے قدموں سے مٹی اٹھا کر اپنے آنکھوں پر رکھا ہوگا۔ یہ خاکی زمین، بلند و بالا پہاڑ، خوشبو بھرا، بہتا ہوا چشمہ پانچوں فدائیوں پر تا قیامت فخر کریں گے۔
سگارو، آپ کے جانے سے کبھی حوصلوں کا پہاڑ، تو کبھی شیشہ بن کر چور چور ہوتا ہوں۔
رخصت، اف اوار اُن سگارو۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































