درسگاہ – زگرین بلوچ

46

درسگاہ

تحریر: زگرین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

درسگاہ سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں سے شعوری تربیت ملتی ہے۔ میرے لیے عظیم تنظیم کا ملٹری اکیڈمی (ٹریننگ سینٹر) وہ درسگاہ ہے جہاں سے میری وہ تربیت ہوئی جس کی بدولت میں آج تک شعوری، جسمانی اور جنگی حوالے سے قابض دشمن سے مضبوط اور انقلابی ذہن کا سپاہی ہوں۔ ہکل میڈیا پبلیکیشنز کی کتاب “ناقابل شکست سرمچار” میں سرمچار اور تنخواہ خور سپاہی کے بارے میں لکھا ہے کہ “انقلابی جنگ میں سرمچار ہتھیار چلانے والے مشین نہیں بلکہ مضبوط انقلابی ذہن ہوتے ہیں۔ ایک مضبوط انقلابی ذہن قبضہ گیریت کی تمام پیچیدگیوں اور مشکلات کا ادراک رکھتی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں قبضہ گیر کا سپاہی ایک تنخواہ خور ہوتا ہے۔ وہ نہ جنگ میں مضبوط سپاہی بن سکتا ہے اور نہ ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے، بلکہ مشین کی طرح احکامات کی پیروی کرتا ہے۔” یہ وہ الفاظ ہیں جو کتاب میں ضرور لکھے گئے ہیں، پھر عملی طور پر مجھے یہ عظیم درسگاہ سے ملی۔ اس درسگاہ نے میری وہ قومی تربیت کی جو شاید کسی تعلیمی ادارے یا طلبہ تنظیم نے نہیں کی جن سے ہزاروں امیدیں وابستہ تھیں۔ آخرکار وہ انقلابی شعور اس عظیم تنظیم نے دیا جس کے لیے برسوں سے جستجو تھی۔ کہانی وہی ہے جو میں نے پہلے ذکر کی تھی کہ میں شعوری، جسمانی اور جنگی حوالے سے قابض دشمن سے اس لیے مضبوط ہوں کہ میری تربیت ہی کچھ یوں ہوئی ہے۔

صبح چار بجکر تیس منٹ پر ایک سنگت سنگر (گاٹ جاہ) جو درسگاہ (کیمپ) کے قریب بلند پہاڑ پر جاتا تھا۔ یہ سنگت صبح نو بجے تک وہی ایک دوربین، واکی ٹاکی اور کلاشنکوف کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے بعد نو بجے سے بارہ بجے تک دوسرا سنگت جاتا تھا۔ یہ دونوں ساتھی گاٹ ہوتے تھے جن کی بدولت باقی تمام ساتھی درسگاہ میں خود کو محفوظ سمجھتے تھے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے پہلے باخبر اور تیار رہتے تھے۔ انہی سنگتوں کی وجہ سے صبح پانچ بجے میں نیند سے اٹھا کر ٹریننگ کے لیے ٹریننگ گراؤنڈ روانہ ہوجاتا تھا۔ ٹریننگ استاد بھی اسی وقت گراؤنڈ پر پہنچ جاتا تھا اور مجھ سمیت تیس ساتھیوں کو ایک ساتھ ٹریننگ دیتا تھا۔ پہلے جسمانی ٹریننگ ہوتی، پھر فوجی ٹریننگ (پوزیشن) ہوتی تھی۔ صبح نو بجے جب جسمانی اور فوجی ٹریننگ ختم ہوجاتی تو تمام ساتھی ٹریننگ گراؤنڈ میں ایک ساتھ بیٹھ جاتے تھے اور ایک ایک کرکے بندوق کو سیکنڈز میں کھولتے، پھر بند کرتے تھے۔ ٹریننگ استاد اپنے ہاتھ میں ٹائم واچ لیے سینڈز کو بتاتا کہ کون کتنے سیکنڈ میں کھولتا ہے اور بند کرتا ہے۔ اس کے بعد تمام ساتھی ٹریننگ استاد کے ساتھ درسگاہ (کیمپ) واپس جاتے تھے۔ راستے میں چشمے سے ہاتھ منہ دھو کر درسگاہ پہنچ جاتے تھے۔ وہاں ایک ساتھی پہلے سے موجود ہوتا جو ساتھیوں کے لیے چائے بنا چکا ہوتا تھا۔ چائے پینے کے بعد تمام ساتھی اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے تھے، دو ساتھی آٹا تیار کرتے، کچھ روٹی پکاتے، کچھ کھانا بناتے تھے۔ تمام ساتھی مل کر کام کرتے تھے، یہی وہ ٹیم ورک تھا جو شاید تمام انقلابی ذہنوں میں ہونا چاہیے۔

کھانا کھانے کے بعد تمام ساتھی چائے پی کر دیوان جاہ کی طرف جاتے تھے، وہاں وائٹ بورڈ لگا ہوتا تھا اور کلاس استاد موجود ہوتا تھا، دس بجکر تیس منٹ پر پہلا کلاس ہیل کاری کا ہوتا جو پورے ایک گھنٹے کا ہوتا تھا، اس کلاس میں اسلحہ جات کے بارے میں پڑھا جاتا تھا اور اس کے بعد گیارہ بجکر تیس منٹ پر دوسرا کلاس گوریلا جنگی حکمت عملیوں کا شروع ہوتا جو بارہ بجے تیس منٹ پر ختم ہوتا تھا، پھر دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک آرام کے لیے تمام ساتھی اپنے اپنے جُھب (جھوپڑی) میں جاتے تھے۔ کچھ وقت آرام کے بعد تین بجے واپس دیوان جاہ پہنچ جاتے تھے۔ ایک ساتھی چائے بناتا اور سب مل کر چائے پی کر شورہ (بارود) کلاس کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ کلاس استاد ہمیں بارود کے بارے میں پڑھاتا اور آسان الفاظ میں بلوچی زبان میں سمجھاتا تھا۔ ایک گھنٹے کے بعد تمام ساتھی مل کر لکڑیاں جمع کرنے کے لیے قریبی پہاڑوں پر جاتے تھے۔ لکڑیاں درسگاہ تک لانے کے بعد چائے پی کر ریڈنگ سرکل شروع ہوجاتا تھا۔ ناقابل شکست سرمچار اور تربیت کی بنیادیات سمیت مختلف جنگی تربیتی کتابوں پر سرکل موڈریٹر گفتگو کرتا تھا، تمام ساتھی اسی موضوع پر بات کرتے تھے، سوال پوچھتے اور موڈریٹر جواب دیتا تھا۔

اس کے بعد رات کے کھانے اور روٹی پکانے کے لیے تمام ساتھی جاتے تھے۔ کچھ روٹی پکاتے، کچھ کھانا بناتے تھے۔ شام سات بجے رات کا کھانا کھانے کے بعد تمام چیزوں کو کیموفلاج کرکے دیوان جاہ کے قریب ایک ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ سرکل ہوتا اور سرکل موڈریٹر چیدہ، توجیل، فتح اسکواڈ سمیت دیگر تنظیمی کتابوں پر گفتگو کرتا تھا، تمام ساتھی اسی موضوع پر سوال کرتے تھے اور سرکل موڈریٹر اور کیمپ کمان ان کا جواب دیتے تھے۔ جوابات دینے کے بعد موڈریٹر سرکل ختم کرکے دیوان واپن کرتا تھا، دیوان میں درسگاہ سمیت دیگر ضروری کاموں پر گفتگو ہوتی تھی، درسگاہ سے نیٹ ورک پر جانے والا ساتھی گھنٹوں دور سفر کرکے آتا اور ساتھیوں کے لیے نیوز رپورٹس پڑھ کر سناتا تھا کہ آج فلاں علاقے یا مقام پر قابض دشمن پر گھات لگا کر ساتھیوں نے شدید نوعیت کا حملہ کیا ہے، فلاں علاقے سے چار نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئیں اور چار جبری طور پر لاپتہ ہیں، جبکہ فلاں فلاں سیاسی رہنما گرفتار ہوئے ہیں۔ ان نیوز اپڈیٹس کو سن کر خوشی بھی ہوتی کہ ساتھیوں نے دشمن پر حملہ کیا ہے اور غم بھی ہوتا کہ فلاں نوجوان کو دشمن نے شہید کردیا۔ کاش وہ زندہ ہوتا تو کم از کم اپنے قومی فرض نبھاتا۔ اس کے بعد گاٹ کا اعلان ہوتا تھا، تمام ساتھی انتظار میں ہوتے کہ کل صبح کون کون گاٹ (پہرے دار) ہوں گے۔ آخرکار کیمپ کمان گاٹ کا اعلان کرتا اور تمام ساتھیوں کو اجازت دیتا کہ اپنے واب جاہ (نیند کی جگہ) پر جائیں۔ تمام ساتھی آٹھ بجے اپنے واب جاہ چلے جاتے تھے، پھر صبح پانچ بجے اُٹھ کر واپس ٹریننگ گراؤنڈ جاتے تھے، یہ سلسلہ مسلسل دو مہینے تک جاری رہا۔

ڈیڑھ مہینوں میں جسمانی اور فوجی ٹریننگ ختم کرنے کے بعد فیلڈ ٹریننگ، چھوٹی یونٹ آپریشن (Small Unit Operations) اور سی کیو بی (Close Quarters Battle) کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ کلاسز ختم ہونے کے بعد پندرہ دن ورکشاپ ہوتی تھی جس میں فوجی قانون، جنگی فیصلہ سازی، میڈیکل فسٹ ایڈ (درمان)، میڈیا (ندارہ)، ڈیجیٹل سیکورٹی اور ڈرون وارفیئر کے بارے میں آگاہی دی جاتی اور سمجھائی جاتی تھی۔ انہی پندرہ دنوں میں تمام اسلحہ جات، توپ خانہ سمیت بارود کا بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ کوئی ساتھی ایل ایم جی میں فائر کرتا، کوئی آر پی جی میں گولے نشانے پر مارتا، کوئی ہینڈ گرینیڈ دور کسی ٹارگٹ پر پھینکتا تاکہ فیلڈ ٹریننگ ہوکر بعد میں میدان جنگ میں بہادری سے قابض دشمن کو شکست سے دوچار کرسکے۔

پھر ملٹری اکیڈمی (درسگاہ) سے ٹریننگ ختم کرنے کے بعد ہم تمام ساتھی (بیچ) اپنے سفر کے لیے روانہ ہوئے۔ کچھ جانے کس طرف اپنے منزل کی جانب روانہ ہوئے، کچھ جانے کس طرف اپنے منزل کی جانب سفر تھے، لیکن دونوں منزلوں کا سفر اس جانب تھا جہاں کچھ ساتھیوں پر مشتمل ایک درسگاہ (کیمپ) تھا۔ وہاں کسی کے ہاتھ میں کلاشنکوف تو کسی کے ہاتھ میں ایم سولہ، ایم فور، ایل ایم جی، سنائپر اور آر پی جی ہوتا تھا، کبھی دشمن کی تلاش میں گشت کرتے، کبھی گھات لگاتے، کبھی مین کاری کرتے تھے۔ کچھ ساتھی شہید ہوئے جو جنگی حکمت عملی اور مین کاری میں رہنمائی کرتے تھے، کچھ وہ ساتھی بھی تھے جو بچھڑ گئے جو ہمیشہ ساتھ ہوتے تھے۔ ان کی شہادت پر کسی بھی ساتھی کو دکھ یا افسوس نہیں ہوتا تھا بلکہ فخر محسوس کرتے تھے کہ وہ باکمال ساتھی تھے جو دشمن کے ساتھ لڑتے رہے اور آخری سانس تک عظیم مقصد کے لیے اپنی جان قربان کی۔ عظیم تنظیم کا قومی امانت یعنی آخری گولی تک دشمن سے لڑتے رہے اور بہادری و وفاداری سے جان شہادت نوش کی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جو عظیم مقصد کی آخری منزل فتح آزادی تک جاری رہے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔