خضدار سے تعلق رکھنے والے نوجوان آصف بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف اہلخانہ کی پریس کانفرنس، 24 گھنٹوں میں بازیابی نہ ہونے پر قومی شاہراہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کوئٹہ: خضدار سے تعلق رکھنے والے نوجوان آصف بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف ان کے اہلخانہ نے خضدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آصف بلوچ کو 13 جولائی کی صبح پاکستانی فورسز نے کوئٹہ سے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا، جس کے پانچ روز گزرنے کے باوجود ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ آصف بلوچ اور ان کے ساتھ حراست میں لیے گئے دیگر افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے، بصورت دیگر 24 گھنٹوں کے اندر قومی شاہراہ بند کردی جائے گی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف بلوچ کی ہمشیرہ سارہ بلوچ نے کہا کہ آصف بلوچ نے ایک سال قبل پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کی تھی اور ایک ٹیسٹ کی تیاری کے سلسلے میں دو ہفتے قبل کوئٹہ آئے تھے، جہاں وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ مقیم تھے۔
انہوں نے بتایا کہ 13 جولائی 2026 کی صبح تقریباً پانچ بجے نقاب پوش افراد اور پولیس اہلکاروں نے ان کے رہائشی کمرے پر چھاپہ مارا، بغیر کسی وارنٹ کے آصف بلوچ اور ان کے دوستوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
سارہ بلوچ نے کہا کہ واقعے کے بعد ان کے بڑے بھائی جائے وقوع پر پہنچے، جہاں چوکیدار نے بتایا کہ کارروائی سے قبل بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں کئی مرتبہ علاقے میں گشت کرتی رہیں، جبکہ کارروائی کے روز چار گاڑیوں میں سوار پولیس اہلکاروں اور نقاب پوش افراد نے خود کو سیکیورٹی اہلکار ظاہر کرتے ہوئے عمارت میں داخل ہوکر چار افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔
انہوں نے کہا کہ چوکیدار کی گواہی کے باوجود پولیس دو روز سے ایف آئی آر درج نہیں کررہی۔
سارہ بلوچ کا کہنا تھا کہ آصف بلوچ کی جبری گمشدگی کے بعد ان کی والدہ، بہنیں اور پورا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگی انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے اور اگر آصف بلوچ پر کوئی الزام ہے تو انہیں آئین اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔
انہوں نے بلوچستان حکومت اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس اعلان پر عمل کریں کہ یکم فروری 2026 کے بعد ریاست کی جانب سے کوئی جبری گمشدگی نہیں ہوگی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر اہلخانہ نے مطالبہ کیا کہ آصف بلوچ اور ان کے ساتھ حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر ان کے بھائی کو بازیاب نہ کیا گیا یا عدالت میں پیش نہ کیا گیا تو وہ احتجاجاً قومی شاہراہ بند کریں گے، ان کا مقصد راستے بند کرنا نہیں بلکہ اپنے بھائی کی بازیابی اور انصاف کا حصول ہے۔



















































