بلوچستان کی موجودہ صورتحال، سیندک منصوبہ خطرے میں – ٹی بی پی اداریہ
بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع چین کے تعاون سے چلنے والے تانبے اور سونے کے منصوبے سیندک میٹلز لمیٹڈ نے بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو کمپنی اپنی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 29 جون کو سیندک میٹلز لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے وزارتِ توانائی کو ارسال کیے گئے ایک خط میں خبردار کیا کہ بلوچستان میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث منصوبے کے لیے ضروری سامان اور پیداواری مواد کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ خط میں کہا گیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک ماہ کے اندر منصوبے کی سرگرمیوں کو معطل کرنا ناگزیر ہو سکتا ہے کیونکہ لاجسٹک سپورٹ اور ضروری سامان کی فراہمی مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بلوچستان میں سکیورٹی خدشات اور شاہراہوں کی صورتحال پہلے ہی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے باعثِ تشویش بنی ہوئی ہے۔ اس سے قبل مارچ میں بھی Barrick Mining Corporation نے ریکوڈک منصوبے سے متعلق بعض سرگرمیوں اور شیڈول میں تاخیر کا اعلان کیا تھا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان کی اہم شاہراہیں مسلح تنظیموں کے کنٹرول میں ہیں، بلوچ لبریشن آرمی “معاشی ناکہ بندی” کے تحت شاہراہوں پر حملوں میں وسعت لاچکی ہے۔ بلوچستان میں معدنی وسائل سے متعلق منصوبوں اور فورسز پر ہونے والے حملوں میں حالیہ عرصے کے دوران شدت اور جدت دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں سال مختلف واقعات میں معدنیات اور دیگر تجارتی سامان لے جانے والی سینکڑوں گاڑیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، ٹرانسپورٹرز بھی متعدد بار ان شاہراہوں کو غیر محفوظ قرار دے چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ حکومت مؤثر سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ سیندک کاپر اینڈ گولڈ منصوبے کی جانب سے ممکنہ سرگرمیاں معطل کرنے کے انتباہ نے اسی وسیع تر منظر نامے کو نمایاں کر دیا ہے کہ بلوچستان کی شاہراہیں کس قدر غیر محفوظ ہوچکی ہیں۔
شاہراہیں منصوبوں اور تجارت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے ان شاہراہوں پر ناکہ بندی، گاڑیوں کی چیکنگ، حملوں اور ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنانے کے واقعات نے ان تمام چیزوں کو روک دی ہے۔ کان کنی منصوبے کی کامیابی صرف معدنی ذخائر پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ محفوظ نقل و حمل اور قابل اعتماد سکیورٹی ماحول بھی ضروری ہوتا ہے۔ اور بلوچستان میں ریاست ان تمام چیزوں کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں سرگرم مسلح تنظیموں کی جانب سے بھی بین الاقوامی سرمایہ کاروں، خصوصاً چین، کو متعدد بار تنبیہات جاری کی گئی ہیں کہ بلوچستان سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول فراہم نہیں کرتا۔ ماضی میں چینی شہریوں، انجینئروں اور سرمایہ کاری سے وابستہ افراد کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں، جن حملوں کے نتیجے میں جانی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔ بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور سرمایہ کاری سے وابستہ افراد کی تشویش نے صورتحال کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ جب تک بلوچ قومی مسائل کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جائے گا، بلوچستان ایک غیر محفوظ اور غیر یقینی خطہ ہی رہے گا۔ ایسے حالات میں یہاں کسی بھی قسم کی بڑی سرمایہ کاری کرنا عقل مندی کا فیصلہ نہیں ہوگا۔













































