بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ 3 جون کو مستونگ کے علاقے دشت کمبیل میں ریاستی فورسز کی جانب سے ایک عام شہری محمد ابراحیم کے گھر میں ڈرون حملہ کیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا مگر حملے میں اس خاندان کے 50 سے زائد مال مویشی ہلاک ہوئے، جو غریب خاندان کا واحد معاشی سہارا تھے۔
ترجمان نے کہاکہ بلوچستان میں روزگار کے مواقع سے محروم عوام بیشتر گلہ بانی کے پیشے سے وابسطہ ہے،وہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں اپنے مال مویشیوں کے ساتھ زندگی گزر بسر کرتے ہیں۔ مگر تکلیف ناک امر یہ ہے کہ سر زمین کے یہ محنت کش باشندے ہمیشہ ریاستی جارحیت کا براہ راست نشانہ بنتے ہیں۔ کئی مرتبہ آپریشنوں میں انکے گھر جلائے جاتے ہیں مرد و خواتین ماورائے عدالت قتل کئے جاتے ہیں، جبری گمشدہ کئے جاتے ہیں، یا انکے واحد زریعہ معاش یعنی انکے مال مویشیوں کو مارا جاتا ہے۔ ایسے افراد جو کو معاشرے میں پہلے ہی حاشیے پر ہیں انہیں انکے مال مویشی سے محروم کرنا ، یا براہراست جبر کا نشانہ بنانا انسانیت سوز ظلم ہے۔
نا صرف انسانی زندگی کا تحفظ ریاست کے زمے ہیں بلکہ انکے گھر و معاش کا زمہ بھی ریاست پر ہے، مگر ریاست پاکستان میں نا کسی بلوچ کو جان کی امان ہے نا انکے گھر بار و مال مویشی تاراج ہونے سے محفوظ ہے۔ یہ تمام امور بلوچ نسل کشی کا حصہ ہے۔
مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اس ریاستی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اقوامِ متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف جاری ریاستی مظالم، ڈرون حملوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے، پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہ ٹھہرایا جائے۔


















































