جیونی حملے کے بعد جبری لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں، پاکستانی فوج کا مقابلے میں مارنے کا دعویٰ، مذکورہ افراد پہلے سے جبری لاپتہ تھے جن کے شواہد موجود ہیں – سیاسی و سماجی تنظیمیں
گوادر کے علاقے جیونی، پانوان سے گذشتہ روز پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہے۔ مذکورہ لاشوں پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔ برآمد ہونے والی لاشوں میں سے چار کی شناخت اسکول استاد عبدالحق، پیری، عصاء اور حیدر علی کے ناموں سے ہوئے ہیں جو جبری طور پر لاپتہ تھے۔
پاکستانی فوج نے جمعے کے روز پانوان میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے کیمپ پر بلوچ لبریشن آرمی کی مجید برگیڈ کے خودکش حملے کے بعد کاروائی میں مسلح افراد کے مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
جیونی میں پانوان اور گنز کے درمیان برآمد ہونے والی دو لاشوں کی شناخت روبار کے رہائشی پیری ولد عصاء اور شاہ بخش ولد عمر سکنہ روبار کے ناموں سے ہوئے ہیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق مذکورہ دونوں افراد کو رواں سال سات جنوری کو ان کے گھروں سے پاکستانی فورسز نے جبری لاپتہ کیا تھا جبکہ ایک لاش کی شناخت جبری لاپتہ حیدر علی محمد کے نام سے ہوئی ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق حیدر علی محمد کی لاش گزشتہ روز جیوانی میں برآمد ہوئی، اہل خانہ کے مطابق وہ پہلے سے جبری لاپتہ تھے۔ 25 اگست 2025 کو انکے اہلِ خانہ نے ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے گوادر میں ڈی سی آفس کے سامنے دھرنا بھی دیا تھا۔

عبدالحق کی لاش بھی اسی علاقے سے ملی ہے۔ عبدالحق کو رواں سال فروری میں جبری لاپتہ کیا گیا۔ وہ معمار نو اکیڈمی، گوادر کے پرنسپل اور 2010 سے جبری طور پر لاپتہ رمضان بلوچ کے چھوٹے بھائی تھے۔
عبدالحق نے بلوچستان یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی سند حاصل کی تھی اور بعد ازاں انہوں نے مشکے میں ’’معمار نو اکیڈمی‘‘ کے نام سے ایک اسکول قائم کیا جسے مبینہ طور پر پاکستانی فوج نے زبردستی بند کروا دیا انہوں نے بعدازاں گوادر میں اسی نام سے ایک اکیڈمی کی بنیاد رکھی، جہاں بچوں کو تعلیم فراہم کی جا رہی تھی۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ جبری لاپتہ محمد رمضان بلوچ کے بھائی عبدالحق کے ماورائے عدالت قتل پر گہری تشویش ہے۔ واقعے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنماء سمی دین بلوچ کا کہنا ہے کہ عبدالحق کی مسخ شدہ لاش کا ملنا بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خطرناک اور مسلسل سلسلے کی ایک اور المناک کڑی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عبدالحق صرف ایک استاد اور تعلیم یافتہ فرد نہیں تھے، بلکہ وہ خود بھی اپنے جبری طور پر لاپتہ بھائی رمضان بلوچ کی واپسی کے انتظار اور اذیت میں زندگی گزار رہے تھے، اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے بعد انہوں نے اپنے بکھرے ہوئے خاندان کو سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھائی، اور اپنے گھر والوں کے لیے سہارا بنے رہے، مگر آج وہی عبدالحق بلوچ جو سولہ برس سے اپنے بھائی کی راہ تک رہے تھے، خود جبری گمشدگی کا شکار ہونے کے بعد مسخ شدہ لاش کی صورت میں اپنے خاندان کو واپس لوٹائے گئے۔
















































