ریاستی اداروں میں شامل بلوچ اہلکار اپنے عوام کے خلاف کارروائیوں کا حصہ نہ بنیں۔ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ

37

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے ریاستی اداروں بشمول پولیس میں شامل بلوچ اہلکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ہی عوام کے خلاف کارروائیوں کا حصہ بننے سے گریز کریں اور اپنے کردار پر سنجیدگی سے غور کریں۔

اپنے جاری کردہ بیان میں ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ تربت میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اس بات کی دردناک یاد دہانی ہیں کہ بلوچستان میں حالات کس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تربت، جو مزاحمت کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا ہے، وہاں اپنے جبری لاپتہ عزیزوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والی خواتین، بچوں اور خاندانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سڑکوں پر گھسیٹا گیا، گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کارروائیوں میں بلوچ اہلکار بھی شامل تھے، ان کے بقول وردی پہن لینے سے کوئی شخص اپنی شناخت، انسانیت اور اپنے ہی لوگوں کے خلاف کھڑا ہونے کا جواز حاصل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ روایات، اقدار اور ثقافت خواتین، بزرگوں اور عام شہریوں کی تذلیل یا ان پر تشدد کی اجازت نہیں دیتیں۔

انہوں نے کہا کہ اہلکار خود سے سوال کریں کہ انہیں اپنے ہی لوگوں کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا اختیار کس نے دیا، ان کی سرزمین، ثقافت، غیرت اور ضمیر نے یا صرف وہ وردی جو انہوں نے پہن رکھی ہے۔

ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے اپنے بیان میں سید بی بی اور ان کے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خوف کے باعث قبرستان میں رات گزارنے پر مجبور ہوئے، اور سوال اٹھایا کہ کیا کوئی مذہب، شناخت، وطن یا غیرت ایک ماں کو اپنے بچوں سمیت قبرستان میں پناہ لینے پر مجبور کرنے کا جواز فراہم کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طاقت اور عہدے ہمیشہ قائم نہیں رہتے، ایک دن وردی بھی اتر جائے گی، لیکن انسان کے اعمال اور کردار کو تاریخ یاد رکھتی ہے۔

انہوں نے بلوچ اہلکاروں پر زور دیا کہ وہ اس راستے پر چلنے سے پہلے اپنے ضمیر اور مستقبل کی نسلوں کے سامنے اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں۔

بیان کے اختتام پر ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں کام کرنے والے بلوچ اہلکاروں سے کہا کہ اپنے عوام کے خلاف کارروائیوں میں شریک ہونا صرف احکامات پر عمل درآمد نہیں بلکہ بلوچ نسل کشی میں برابر کی شمولیت ہے اور تاریخ ایسے کردار کو ایک نوآبادیاتی قوت کے معاون کے طور پر یاد رکھے گی۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی اس وقت ریاستی کریک ڈاؤن کی زد میں ہے۔ حال ہی میں انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بی وائی سی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ کو گوادر راجی مچی کیس میں عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ تنظیم کے دیگر رہنماؤں، جن میں گل زادی اور بیبرگ زہری شامل ہیں، گزشتہ ایک سال سے زیرِ حراست ہیں۔

بی وائی سی رہنماؤں پر کریک ڈآؤن و سزاؤں کے خلاف بی وائی سی کی جانب سے تربت و کوئٹہ میں احتجاجی مظاہرئے کئے گئے جنھیں پولیس کریک ڈآؤن کا سامنا رہا۔