ڈاکٹر ماہِ رنگ بلوچ
تحریر: ماران بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج میرا ایک سوال بلوچستان کے نوجوانوں سے ہے۔ اگر ڈاکٹر ماہِ رنگ بلوچ اپنے مؤقف کے لیے مشکلات، دباؤ اور آزمائشوں کا سامنا کر سکتی ہیں، تو ہمیں بھی اپنے کردار پر غور کرنا چاہیے۔ چاہے کوئی ان کی رائے سے اتفاق کرے یا اختلاف، یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے اپنے مؤقف کے لیے آواز اٹھائی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہم نوجوان کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہماری ذمہ داری صرف لائبریری میں بیٹھ کر اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہے؟ کیا صرف سی ایس ایس، نوکری یا ذاتی کامیابی ہی ہماری زندگی کا مقصد ہے؟ یا ہمیں اپنے معاشرے کے مسائل کو سمجھنے، ان پر سوچنے اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کی بھی ضرورت ہے؟
تعلیم بہت ضروری ہے، کیونکہ علم ہی قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔ لیکن تعلیم کے ساتھ شعور، اخلاق، ذمہ داری اور انسانیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر ایک نوجوان صرف اپنی ذات تک محدود ہو جائے اور اپنے معاشرے کے دکھ درد سے بالکل بے خبر رہے، تو پھر اسے خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اس کے علم کا اصل مقصد کیا ہے؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کا ہر نوجوان اپنے ضمیر سے سوال کرے۔ اختلاف رکھنا ہر انسان کا حق ہے، مگر خاموش رہنے یا بولنے، دونوں فیصلوں کی ذمہ داری بھی ہمیں خود اٹھانی ہوتی ہے۔
قومیں صرف ڈگریوں سے نہیں بنتیں، بلکہ ایسے نوجوانوں سے بنتی ہیں جو علم کے ساتھ کردار، ذمہ داری اور شعور کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔ اگر ہم واقعی اپنے مستقبل کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرے کی بہتری، انصاف، تعلیم، امن اور انسانی وقار کے لیے بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
یاد رکھیں، مستقبل صرف کتابوں سے نہیں بنتا، بلکہ ان ہاتھوں سے بنتا ہے جو علم کے ساتھ ذمہ داری بھی اٹھاتے ہیں۔
جب ایک معاشرہ مسلسل تکلیف، محرومی اور بے یقینی کا شکار ہو تو لوگوں کے دلوں میں مایوسی پیدا ہونا فطری بات ہے۔ مگر مایوسی کو اپنی منزل نہیں بنانا چاہیے۔ اصل حوصلہ یہ ہے کہ انسان مشکل حالات میں بھی اپنی عزت، اپنے اصول اور اپنی انسانیت کو برقرار رکھے۔
ہمیں ایسی زندگی چاہیے جس میں عزت ہو، انصاف ہو، تعلیم ہو، امن ہو اور ہر انسان خود کو محفوظ محسوس کرے۔ یہی وہ مستقبل ہے جس کے لیے ہر باشعور نوجوان کو اپنے علم، اپنی آواز اور اپنے کردار کے ذریعے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔
تاریخ ہمیشہ اُن لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو نفرت نہیں، بلکہ شعور، ثابت قدمی، اخلاق اور خدمت کے ذریعے اپنی قوم کے لیے مثال بنتے ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































