ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے ہمشیرہ نادیہ بلوچ نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ شاہ جی اور دیگر رہنماؤں کو گوادر میں احتجاج کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں عمر قید کی سزا سنانا ایک نہایت سنجیدہ اور متنازع پیش رفت ہے، جس پر متعدد قانونی و حقائق پر مبنی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس کی بنیادی نوعیت ہی مشکوک ہے، کیونکہ ایک ہی واقعے سے متعلق دو مختلف تاریخوں میں دو الگ ایف آئی آرز کا اندراج کیا گیا، جو پورے مقدمے کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انصاف کے عمل میں شفافیت کے بجائے ابہام اور تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔
نادیہ بلوچ نے مزید کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ابتدا میں 3MP کے تحت حراست میں لیا گیا، بعد ازاں ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے، اور ایک ایسا عدالتی عمل شروع کیا گیا جس پر آغاز ہی سے جانبداری اور دباؤ کے الزامات سامنے آتے رہے۔ ان کے مطابق یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ اس مقدمے کا مقصد انصاف کی فراہمی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کی کارروائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا بنیادی کردار ہمیشہ پرامن جدوجہد، جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور انسانی حقوق کے دفاع تک محدود رہا ہے، اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد یا مجرمانہ عمل کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
نادیہ بلوچ کے مطابق گزشتہ برسوں میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی ،جس میں عالمی اداروں کی نامزدگیاں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شناخت شامل ہے، اس بات کی علامت ہے کہ ان کی آواز کو عالمی سطح پر توجہ مل رہی تھی، جسے وہ ریاستی سطح پر ایک حساس معاملہ سمجھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں، مقدمات اور سزائیں کسی بھی نظریے کو ختم نہیں کر سکتیں، اور تاریخ گواہ ہے کہ پرامن سیاسی و انسانی حقوق کی جدوجہد کو قید یا سزا کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔
آخر میں نادیہ بلوچ نے بلوچ عوام سے اپیل کی کہ وہ پرامن، منظم اور پُرامید رہیں، اور کسی بھی صورتحال میں مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ ان کے مطابق یہ وقت مزید اتحاد، ثابت قدمی اور پرامن مزاحمت کا ہے















































