شہناز امید کی کرن
تحریر: عائشہ اسلم بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
جنگ میں جب خاموشی بولنے لگے، معنی بدلنے لگے، کردار بنتے رہے، تخلیق و تخلیل خود جستجو کرنے لگا، سمت کی واضح لکیریں اپنی پہچان کی تشریح کرنے لگیں، شاعریاں بکھرے ہوئے گیسوں میں خاکِ وطن کی مہک کو محسوس کرنے لگیں، علم و فن وطن وطن یا کفن کفن رقص کرنے لگے، اور پتھر درود و آیات پڑھنے لگے، تو اس زمین کا ہر ذرہ ذرہ جنگ بن گیا۔ شہناز بھی جنگ کی کوکھ سے جنم لے کر خود ایک جنگ بن چکی ہے۔
شہناز تمہاری آنکھوں میں وہ غم ہے جسے نام نہیں دیا جا سکتا۔ میں کہتی ہوں نام تو بہت سے ہیں، مگر ہر نام کے ساتھ ایک قبر، ایک تصویر، ایک شہید اور ایک کردار جُڑی ہے۔ تمہارے ہر لفظ کے پیچھے ایک دھواں، ایک طوفان اور ایک حکمت ہے، اور ہر جملے کے بیچ میں ایک لاپتہ ہنسی اور ایک مسخ شدہ چہرہ ہے۔
کمانڈر شہناز کا ویڈیو پیغام جب میری نظر کے سامنے سے گزرتا ہے تو ذہن میں ہمت و بہادری کی علامت ایک تارہ کی مانند چمکنے لگتی ہے، کیونکہ بہادری شہناز کی خاموش پیشانی پر حوصلوں کی وہ پہاڑ ہے جو نہ صرف زمین کے سینے سے ابھرا ایک پتھریلا وجود ہے، بلکہ ایک ایسا دلیل بھی ہے جس نے آزادی کی جنگ کو بنتے اور بکھرتے دیکھا ہے۔ یہ تحریک کی نشیب و فراز کو برسوں سے خامشی سے سہتی آ رہی ہے۔
انہوں نے شارل اور سمل کی فلسفۂ فدائیت کو اُن کی قربانیوں کے معنوں میں تلاش شروع کیا جہاں زندگی اور موت کو ایک ہی کیفیت میں صحیح وضاحت کے ساتھ انتہائی گہرا مفہوم سمجھا جا سکے۔ زندگی کے بے یقینی کی درد بھری کیفیتوں میں جب تک کوئی زندگی کو تخلیق نہیں کر سکتا یا زندگی کو معنی نہیں دے سکتا وہ بکھر بکھر اور ذرہ ذرہ ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔
مگر شہناز جیسی شخصیات نہ بکھرتی ہیں نہ گرتی ہیں نہ ٹھہرتی ہیں نہ ہی رکتیں، اسی لیے وہ صرف تاریخ نہیں بلکہ خود تاریخ تخلیق کرتے ہوئے امید بن جاتی ہیں۔ شہناز امید کی ایک نئی کرن ہے۔ شہناز ایک بہادر اور ہمت والی کمانڈر ہے؛ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا بلکہ ایک واضح حقیقت ہے کہ شہناز ہر وقت اور ہر حالت میں ثابت قدم رہی ہیں۔ وہ ایک قومی سپاہی سے لے کر بی ایل اے کے اعلیٰ قیادت اور کمانڈر تک اپنی جنگی سفر میں جن مشکلات، چیلنجز اور آزمائشوں سے گزری ہیں یا آج گزر رہی ہیں، وہ تصدیق کرتے ہیں کہ شہناز مشکلات کو قبول کرنے اور مشکلات سے لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
شہناز جب بولتی ہیں تو یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ان کا وہ عمل ہوتا ہے جس نے انہیں ایک پراثر شخصیت کے طور پر پوری بلوچ قوم کو عزت اور قدر کی نگاہ سے نوازا ہے۔ جب بھی شہناز بولتی ہیں تو وہ انتہائی کم بولتی ہیں؛ کیونکہ وہ باتونی نہیں بلکہ عملی ہیں اور عمل پر یقین رکھتی ہیں۔ وہ ہر وقت بولنے سے زیادہ دوسروں کو سنتی ہیں۔ یہی شہناز کی شخصیت کی ایک اہم صفت ہے۔ جب شہناز بولتی ہیں تب ہی تم سمجھ پاتے ہو شہناز اصل میں کیا ہے؟ شہناز اپنی اسلمی فکری رنگ میں واقعی ہماری قومی آزادی کی جنگ میں صرف ایک کمانڈر نہیں بلکہ دوست، امیدوں اور حوصلوں کا چراغ ہیں جو قدم قدم پر بطورِ رہنما ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔
اب ہماری قومی ذمہ داری اور قومی فرض بنتی ہے کہ ہم تمام خواتین کو گھریلو اور محدود خاتون والی سوچ سے نکال کر شہناز کے دکھائے گئے راستے پر چلائیں اور قدم قدم پر اپنی پرعزم اور پرہمت کمانڈر شہناز کے شانہ بشانہ جنگ کو مزید مضبوط اور منظم کریں۔ آج بی ایل اے اور خاص طور پر شہناز بلوچ ہمیں موقع فراہم کر رہی ہیں، اب ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم اپنا قومی فرض پورے ایمانداری اور خلوص کے ساتھ نبھائیں۔
شہناز نے آج بندوق اٹھا کر بطورِ کمانڈر پہاڑوں کا دشوار سفر اختیار کیا، صرف فرسودہ سماجی روایت کو نہیں توڑا بلکہ اصل بلوچ قومی روایت کو دوبارہ زندہ کیا۔ وہ اپنے عمل اور کردار سے ثابت کر رہی ہیں کہ بلوچ سماج میں چاہے امن ہو یا جنگ، عورت مردوں سے کم نہیں بلکہ برابر ہے۔ آج جنگ کی تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر بلوچ عورت میں شہنازی جیسی فیصلیت، ہمت، جذبہ اور شعور موجود ہو۔
شہناز ہماری ہے، ہم شہناز کے ہیں۔ وہ ہماری بازو اور طاقت ہیں۔ ہم قدم قدم اور ہر مورچے پر شہناز کے ساتھ اس وقت تک مورچہ زن رہیں گے جب تک ہماری پاک اور مقدس سرزمین سے ناپاک قابض فوج کے قدم موجود ہیں۔ شہناز محض ایک کمانڈر نہیں بلکہ ایک مہر و ماں ہیں، اسی لیے آج سنگت انہیں ان کی مہر اور خلوص کی وجہ سے “اما سدو” پکارتا اور بولتا ہے۔
آخر میں، میں صرف یہی کہتی ہوں اماں سدو نے سب بلوچ خواتین کو ایک موقع اور ایک راستہ فراہم کیا؛ اب عمل ہماری کندھوں پر ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































