کوہلو: تعلیمی و بنیادی سہولیات کی صورتحال پر شہریوں کا اظہار تشویش، 50 سے زائد سرکاری اسکول غیر فعال

22

بلوچستان کے ضلع کوہلو کی تحصیل کاہان میں تعلیم اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے حوالے سے مقامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ 

مقامی صحافی کے مطابق علاقے میں 50 سے زائد سرکاری اسکول غیرفعال ہیں، جبکہ مکین صحت، تعلیم، سڑکوں، صاف پانی، موبائل نیٹ ورک اور دیگر بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ضروری سہولیات کے فقدان نے روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، جس کے باعث بعض خاندان بہتر مواقع اور سہولیات کی تلاش میں دیگر علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

شہریوں کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ آبادی پر مشتمل تحصیل کاہان اب بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہے، جس سے لوگوں کو معمول کی زندگی گزارنے میں مختلف مشکلات پیش آرہی ہیں۔

مقامی افراد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں صحت کی مناسب سہولیات میسر نہیں، متعدد تعلیمی ادارے بند ہیں اور موبائل نیٹ ورک نہ ہونے کے باعث رابطوں کے مسائل بھی درپیش ہیں۔ 

ان کے مطابق سڑکوں کی خراب حالت مریضوں کی بروقت منتقلی میں رکاوٹ بنتی ہے، جبکہ اسکولوں کی بندش سے بڑی تعداد میں طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔

کاہان کے رہائشی عبدالعلی مری نے مقامی صحافی نذر مری سے گفتگو میں کہا کہ بند تعلیمی اداروں میں گورنمنٹ پرائمری اسکول بستی مولاداد، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول دامان، سیدا کچڑ، سخاری زرین، حبیب شیرانی، کاشی، کرپاسی، کلی سلامان، ریخ، جٹکی، مانک بند، گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول حبیب لانگھانی، گورنمنٹ ہائی اسکول کاہان، چپی کچ، ڈوئی وڈھ، کٹکی دف، سہروز، سہریں کہور، سیاہ بن، موضع ریخ وڈیرہ کریمو لانگھانی اور ولی کچ سمیت متعدد دیگر ادارے شامل ہیں۔

علاقہ مکینوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، رکن صوبائی اسمبلی جنگیز مری، نواب گزین مری اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل کاہان کو ترقیاتی منصوبوں میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے۔

انہوں نے بند اسکولوں کی بحالی، طبی سہولیات کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، صاف پانی کی فراہمی اور موبائل نیٹ ورک کی دستیابی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کاہان کے عوام کو بھی دیگر علاقوں کی طرح بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔