بلوچستان، خواتین اور جنگ کا بدلتا منظرنامہ – لال جان بلوچ

58

بلوچستان، خواتین اور جنگ کا بدلتا منظرنامہ

تحریر: لال جان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کئی دہائیوں سے سیاسی بے چینی، بدامنی، جبری گمشدگیوں اور ریاستی و عسکری کشمکش کا شکار رہا ہے۔ اس تنازعے نے نہ صرف نوجوانوں بلکہ خواتین کی زندگیوں کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ حالیہ عرصے میں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے خواتین ونگ کے اعلان نے معاشرے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف کچھ لوگ اسے ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہیں، جو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، جبکہ دوسری طرف مذہبی، سماجی اور قبائلی حلقے سوشل میڈیا پر خواتین کے مسلح جدوجہد میں شامل ہونے پر تنقید کر رہے ہیں۔

بلوچ معاشرہ روایتی طور پر عورت کی عزت، پردے اور چادر و چار دیواری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ بلوچ روایات میں عورت کو جنگ اور تصادم سے دور رکھا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ اس بات کو مناسب نہیں سمجھتے کہ خواتین بغیر محرم اور پردے کے جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیں یا ہتھیار اٹھائیں۔ ان کے نزدیک یہ نہ صرف دینی اقدار بلکہ بلوچ روایات کے بھی خلاف ہے۔

لیکن دوسری طرف ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے۔ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیوں، گھروں پر چھاپوں، خواتین کی بے حرمتی اور خاندانوں کے خوف و اضطراب کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ بہت سی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرتی نظر آتی ہیں۔ بعض واقعات نے بلوچ خواتین کو اس احساس تک پہنچایا کہ اگر وہ خود میدان میں نہ آئیں تو شاید ان کی آواز مزید دبا دی جائے گی۔

یہی حالات بعض خواتین کو سیاسی یا عسکری مزاحمت کی طرف دھکیلتے ہیں۔ جب ایک معاشرہ مسلسل خوف، محرومی اور ناانصافی کا شکار ہو تو اس کے اثرات صرف مردوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عورتیں بھی اس کشمکش کا حصہ بن جاتی ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ طویل تنازعات کے دوران خواتین نے احتجاج، سیاست اور بعض اوقات مسلح تحریکوں میں کردار ادا کیا۔

اگر وہ لوگ جو خواتین کے میدان میں آنے پر سوالات اٹھاتے ہیں، خود ہمت کرکے میدانِ عمل میں اتریں اور ان مظلوم اقوام کی آواز بن کر اس جدوجہد کو منزل تک پہنچانے میں کردار ادا کریں تو شاید خواتین کو اس حد تک آگے آنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اور اگر وہ خود میدان میں نہیں نکل سکتے تو کم از کم صرف تنقید کرنے کے بجائے خاموش رہیں، کیونکہ حالات کی سنگینی کو وہی بہتر سمجھ سکتا ہے جو مسلسل ظلم، خوف اور محرومی کا سامنا کر رہا ہو۔

تاہم اس صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جنگ اور تشدد کا بوجھ ہمیشہ عام لوگوں، خصوصاً عورتوں اور بچوں پر پڑتا ہے۔ ایک طرف لاپتا افراد کے خاندان اذیت میں مبتلا ہیں، تو دوسری طرف نوجوان نسل مسلسل خونریزی، خوف اور پاکستانی فوج کی سخت گیر اور ظالمانہ پالیسیوں کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کی عزت، سلامتی اور بنیادی حقوق کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔ اگر خواتین جبری گمشدگیوں، خوف اور ناانصافی کی وجہ سے میدان میں آنے پر مجبور ہو رہی ہیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اسی طرح خواتین کو جنگ اور تشدد کا حصہ بنانا بھی ایک خطرناک رجحان ہے، جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ریاستی پالیسیاں سختی، جبر اور خوف پر قائم ہوں تو بعض اوقات معاشرے کے وہ طبقات بھی مزاحمت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جو روایتی طور پر ان میدانوں سے دور سمجھے جاتے تھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔