ہم جو نارملائزیشن کی بھیانک شکل میں سانس لیتے ہوئے
للّا بلوچ
چلیں ہم کچھ محدود، حقیقی اعداد سے عصر حاضر کی مزاحمتی سوچ کو سرفیس سیاست کی روح سے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بالعموم رواں برس ہم سیاسی، سماجی طور پر کن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
سال 2024 میں جب بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بلوچ سرفیس سیاست کو روح پھونکا تو بلوچ زمین کے طول و عرض میں نہ صرف مزاحمت کی روح تازہ دم ہوتی گئی بلکہ رائے عامہ ایک ایسی زبان کی تشکیل میں مگن ہوتی گئی جہاں فنکاروں، لکھاریوں، سیاسی کارکنان سمیت سماج کے سارے طبقات اپنی زندہ وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش میں متحرک ہوتے گئے۔ بلوچ لانگ مارچ جہاں کہیں جاتا بلوچ اُمڑ آتے اور اسی دوران کئی شہروں میں رائے عامہ ایک تسلسل شکل میں پنپتی رہی۔ مثلاََ کوہلو میں بعد از لانگ مارچ جلسہ، مرکزی چوک میں کئی دنوں تک لوگ جمع ہوتے، زمینی ناانصافیوں پر بولتے اور چلے جاتے۔ کوہِ سلیمان میں رائے عامہ ایک جنونی کیفیت میں سانس لیتی ہوئی کئی شکلوں میں اپنی وجود کی موجودگی کا ثبوت دیتا رہا۔ سماجی سائیٹس میں اسی نا انصافیوں پر ڈرامہ بنتے رہے، شادیوں میں لوگ اسی بابت بات کرتے رہے اور اسی دوران کم و بیش بلوچ سماج کی رائے عامہ اسی موضوع میں سانس لیتا رہا۔
انہی سیاسی سرگرمیوں نے سماج میں مزاحمت کو نئی سانس بخشی۔ ریاستی دہشتگردی کے خلاف آئے روز روڈ بلاکس، دھرنے اور احتجاجی ریلیاں معمول بن گئے۔ سیاسی رہنماؤں کی موجودگی اور غیر موجودگی میں لوگ سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے اور انہی ادوار ایک ایسی بحث نے جنم لیا کہ گویا سماج میں ہر بلوچ سیاسی کارکن اور سیاسی سرگرمیوں کی رہبری کا لاحق ہے۔
یہ سلسلہ 2025 کے اواخر میں بڑی شدت سے چلتا رہا، کہیں بارڈری مزدور، کہیں اساتذہ و ڈاکٹر، کہیں جبری گمشدہ خاندانوں کے لواحقین اور کہیں بلوچ نسل کشی کے شکار لوگوں کے عزیز ریاستی بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے، بولتے، احتجاج کرتے اور سماج کی رائے عامہ اور حافظے میں ریاستی دہشتگردی کی موجودگی اور مزاحمتی داستان نقش کراتے۔
اسی دوران ریاستی قوت نے سماج کی اجتماعی مزاحمتی سوچ اور اس سے جنم لیتا ریاستی بربریت کی اصل شکل کو دنیا کو دکھانے کی ہر زرائع پر آہستہ آہستہ کریک ڈاؤن شروع کی۔ تعلیمی اداروں میں اسی سوچ کے خلاف سیشن منعقد کیے گئے، سوشل و الیکٹرک میڈیا میں ٹاک شوز، بریکنگ نیوز و من گھڑت تجزیوں کا بازار گرم رکھا گیا، اسی اجتماعی مزاحمتی قوت پر کریک ڈاؤن کے لیے جواز بنانے کی نیت سے اپنی عوام، بلوچ سماج اور عالمی سماج میں من گھڑت بیانیے تشکیل دیے گئے، سیاسی مورال کو نیست و نابود کرنے کی نیت سے سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگی، کیمپوں میں بلا کر ہراسگی اور فون کرکے دھمکی دینے کے ٹیکٹکس استمعال کیے گئے، یوتھ افیئرز و دیگر محکموں کی توسط سے سیمینار، فیسٹیول، ٹورنامنٹس و دیگر سوشل ورکس منعقد کیے گئے اور اسی دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف منظم بیانیہ مہم کے بعد عملی مہم کا آغاز کیا گیا۔ مرکزی قائدین، زونل ورکرز و انکے لواحقین بلواسطہ و بلاواسطہ اسی کریک ڈاؤن کے مرکزی نشانے پہ رہے اور آئستہ آئستہ سماج میں ایک بے چینی، خوف سے سیاسی مورال کو گرانے کی منظم کوشش کی گئی جس سے عوامی سیاسی کاوش سمیت طلبا تنظیمیں اور عوامی تنظیمیں اسی کریک ڈاؤن کا شکار رہے اور آئستہ آئستہ سیاسی جمود نے اپنی گرفت مضبوط کیے۔
اسی وقت ریاستی ادارے بشمول ایف سی، بیورو کریسی و مرکزی سیاسی جماعتیں خالی گراؤنڈ کو اپنی جانب کھینچتے رہے، گراؤنڈ میں سیاسی و سماجی سرگرمیاں انہی کے زورِ بازو میں چلتے رہے جو ہنوز ایک منظم شکل میں جاری ہیں۔ جن میں بدنامِ زمانہ شفیق مینگل کو مرکزی سیاست میں لانا جو اب ممکنہ رکن قومی اسمبلی ہیں، ایف سی ساؤتھ و نارتھ کی آئی جیز، اسکاؤنٹ و ونگ کمانڈرز کے عوام میں متحرک رہنا، ٹورنامنٹ، کیمپ ٹورز و ورکشاپ کا انعقاد، بازاروں کے دورے، کسان پیکج و جرگے کا انعقاد، ڈی جی آئی ایس پی آر و کمانڈر 33 ڈویژن کا جامعہ تُربَت، گْوادر و لوامز کے دورے، بیوروکریسی کی جانب سے تُربَت میں گزشتہ ایک سال میں تین فیسٹیول، گْوادر میں یوتھ سیمینار و سراوان فیسٹیول سمیت پروگریسیو یوتھ کونسل کی تشکیل انہی چیدہ چیدہ ریاستی سرگرمیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ریاستی کریک ڈاؤن اور اس سے جنم لیتی خوف، بے ہنگم و بے چینی کی ماحول میں سماج کو اپنی جانب متوجہ کرنے و سماجی اجتماعی سیاسی اعمال کو وقتی طور پر کچلنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
میں یہ اعداد، واقعات و سماجی سرگرمیوں کا ذکر اس لیے کر بیٹھا ہوں تاکہ یہ سمجھ سکوں کہ رواں برس سماج میں سیاسی سوچ کن عوامل سے زیرِ عتاب ہے۔ ریاست نے انہی حکمت عملیوں کو بڑی چالاکی سے نافذ کیا ہے اور جب سماج سیاسی جمود کی طرف بڑھتا گیا تو بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے دسویں واقعات پیش آئے، ٹارگٹ کلنگز و ماورائے عدالت قتل کے کیسز معمول بنے، تحریکی ساتھیوں کے لواحقین کو گن پٹی و دباؤ پر پریس کانفرنس و اظہار لاتعلقی کرائے گئے، بی وائی سی کے بابت آئے روز من گھڑت و نت نئے بیانیے بنائے گئے، بی وائی سی کے کارکنان کا تنظیم سے جبری لاتعلقی کرایا گیا لیکن اسی دوران آہستہ آہستہ رائے عامہ ایک ایسی بھیانک شکل میں سانس لیتا رہا جوکہ ہنوز جاری ہے کہ ریاستی بربریت کے خلاف احتجاج، دھرنے و مہم اپنی جگہ رائے عامہ ایک ایسی عدم تحفظ ماحول میں سانس لے رہا ہے کہ وہ ریاستی بربریت کو نارملائز سمجھ کر اور قبول کرکے تماشائی بن چکا ہے اور محدود سرکلوں میں بھی بولنے سے قاصر ہے۔ گویا ہم ایک ایسی ذہنی سطح قبول کر چکے ہیں کہ جہاں ہم ریاستی تشدد کو خندہ پیشانی سے قبول کرکے اس کے سامنے سرنڈر ہو چکے ہیں۔
مثلاََ سانحہِ کُنٹانی کو دیکھ لیں، ریاستی تشدد سے دسویں بلوچ مزدور شہید ہوئے اور ہم ایک ایسی جمود میں سانس لے رہے ہیں کہ ان کی اصل تعداد کے بابت ناآشنا ہیں۔ بلوچ مزدور ایک برس قبل تک ریاستی بربریت و نا انصافیوں کے خلاف آئے روز احتجاج کرتے نظر آتے تھے لیکن اب کی بار مزاحمتی سوچ کی جگہ ایک بھیانک شکل نے آہستہ آہستہ اپنے پنجے مضبوط کیے ہیں کہ اب کی بار بلوچ مزدور شہدا کے بابت بات کرنے سے بھی کترا رہے ہیں اور ریاستی تشدد کے سامنے گویا سر خندہ ہیں۔ اب کی بار اتنی بڑی سانحے نے احتجاج تو کجا شہدا کی مکمل ڈیٹا تک رسائی بھی ناممکن بنا دی ہے۔
میں یہ مضمون لکھتے لکھتے صرف یہ سمجھنے کی کوشش میں ہوں کہ گراؤنڈ میں سیاسی تنظیمیں رائے عامہ میں کس طرح اجتماعی مزاحمت کے لیے راستہ ہموار کرتے ہیں اور ان پر کریک ڈاؤن کے نتائج کا اثر سماج پر کیا ہیں اور کیا ہو سکتے ہیں اور ریاست نے بڑی منظم شکل میں گراؤنڈ سیاست کو کمزور کرکے رائے عامہ کو کتنی بھیانک شکل میں نیم زندہ چھوڑ رکھا ہے کہ اسی سطح کے لیے میں لفظِ بھیانک پر بھی اکتفا کرنے سے اس لیے خوفزدہ ہوں کہ شاید یہ لفظ موجودہ سیاسی مناظرے کا حقیقی ترجمان نہیں ہے
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔












































