غمخوار حیات کا قتل و گوادر یونیورسٹی چانسلر کا اغوا، بلوچ دانش پر حملہ ہے۔ سمی دین بلوچ

32

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی رہنما سمی دین بلوچ نے کہا کہ میں بلوچ دانشوروں کو نشانہ بنانے والے حالیہ حملوں سے بہت پریشان ہوں گذشتہ روز نوشکی میں ممتاز بلوچ شاعر اور دانشور غمخوار حیات کو ٹارگٹ کلنگ میں قتل کردیا گیا۔

سمی دین بلوچ کے مطابق اس سے قبل گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر، دونوں معزز سکالرز اور دانشوروں کے اغوا نے بلوچ معاشرے میں ماہرین تعلیم اور آزاد مفکرین کے تحفظ کے بارے میں خدشات کو مزید گہرا کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علماء، ماہرین تعلیم اور دانشور آوازوں کو مسلسل نشانہ بنانا تشویشناک ہے اور اس کے ہمارے معاشرے کے سماجی اور فکری مستقبل کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔

سمی دین بلوچ نے کہا اس نازک لمحے میں بلوچوں کو تمام سیاسی اور نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر تعلیم، مکالمے اور ان افراد کی حفاظت کے لیے اکٹھا ہونا چاہیے جو ہمارے معاشرے کی ترقی اور بیداری میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

سمی بلوچ نے کہا کہ میری دلی تعزیت اور دعائیں غمخوار حیات کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، انہوں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کی باعزت اور بغیر کسی نقصان کے باعزت رہائی کی اپیل کی ہے۔