پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر صادق عمرانی نے بلوچستان اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وزرا بھی اپنے علاقوں تک زمینی راستوں سے جانے سے قاصر ہیں۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے صادق عمرانی نے انکشاف کیا کہ “ہم پہلے کراچی جاتے ہیں، پھر سکھر کے راستے اپنے علاقوں تک پہنچتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعت، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ سب کے سامنے صورتحال رکھی، تاہم مؤثر اقدامات نظر نہیں آئے۔ انہوں نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا “جب آپ اپنے وزیر کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر اس ایوان میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں۔
صادق عمرانی نے اسمبلی کے بائیکاٹ کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور انتظامیہ امن و امان کے قیام پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود صورتحال قابو میں نہیں آ رہی۔ ان کے مطابق پولیس “غائب” دکھائی دیتی ہے جبکہ ایف سی اہلکار شام پانچ بجے کے بعد اپنے کیمپوں میں چلے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں خضدار، ژوب اور نصیر آباد کی اہم شاہراہیں بند ہیں۔
دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت تمام شاہراہیں بند ہیں جبکہ یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا “یہاں ہر شخص خود کو سب سے بڑا وفادار ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اصل مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔”
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے اور ریاستی بیانیے میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق “ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ مسائل کا حل گولی نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ بیس برس سے گولیاں چل رہی ہیں، اب مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جانا چاہیے۔













































