اقوام متحدہ کی منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 2026ء کے پہلے تین مہینوں کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پار جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 372 شہری ہلاک اور 397 زخمی ہوئے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں پیش آنے والے 95 میں سے 94 واقعات میں شہریوں کو نقصان پہنچنےکی ذمہ داری پاکستانی سکیورٹی فورسز پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ایک واقعے میں افغانستان کے موجودہ طالبان حکام کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا۔
زیادہ تر ہلاکتیں اُن پاکستانی فضائی حملوں کے باعث ہوئیں، جو فروری اور مارچ میں کیے گئے۔ سب سے ہلاکت خیز واقعات میں سے ایک 16 مارچ کو کابل میں پیش آیا، جب پاکستانی فضائی حملوں نے ’امید ڈرگ ری ہیبلیٹیشن ہسپتال‘ کو نشانہ بنایا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس حملے میں کم از کم 269 شہری ہلاک اور 122 سے زائد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وہ مریض تھے، جو منشیات کی لت کے علاج کے لیے وہاں موجود تھے۔
تاہم اقوامِ متحدہ کے مشن نے کہا کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ کچھ لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی اور خاندان اپنے لاپتہ عزیزوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
افغانستان نے حملے کے فوراً بعد دعویٰ کیا تھا کہ 400 سے زائد افراد ہلاک اور 261 سے زیادہ زخمی ہوئے۔



















































