بلوچستان اور کراچی سے مزید تین افراد کے جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عمر بلوچ ولد مجید بلوچ، عمر 18 سال، سکنہ دشت، ضلع کیچ، کو 9 مئی 2026 کی رات تقریباً 1:30 بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی، آئی ایس آئی اور ایم آئی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ اہل خانہ کے مطابق تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
جبکہ ڈاکٹر ظہیر ولد یعقوب، عمر 27 سال، سکنہ ہوشاب، ضلع کیچ، پیشہ بی ڈی ایس ڈاکٹر، کو 11 مئی 2026 کی رات تقریباً 2 بجے کوئٹہ کے علاقے عیسیٰ نگری، بروری روڈ سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔
دریں اثنا طاہر ولد محمد یوسف، عمر 25 سال، سکنہ ریکسار لائن لیاری کراچی، پیشہ موبائل فون ریپیئر ٹیکنیشن، کو 23 اپریل 2026 کی رات تقریباً 2 بجے ان کے گھر سے سی ٹی ڈی اہلکاروں نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔
متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب کراچی کے علاقے کلری سے چند ماہ قبل جبری طور پر لاپتہ کیے گئے داود بلوچ ولد ابراہیم اور عائشہ بلوچ دختر لعل جان بلوچ بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو واپس پہنچ گئے ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق عائشہ بلوچ کو 9 مئی 2026 جبکہ داود بلوچ کو 10 مئی 2026 کو رہا کیا گیا۔

















































