پنجگور سے جبری گمشدگیوں اور اہلِ خانہ پر دباؤ کے الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے دو بھائیوں کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بدلے خاندان کی خواتین پر سیاسی مؤقف اختیار کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق چھ مئی کو پنجگور کے علاقے خدابادان مواچ سے دو بھائیوں، توحید اور ابوبکر ولد محمد صدیق، کو حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان دونوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا اور ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ توحید، ایک طویل عرصے سے لاپتہ شخص ظہیر کے داماد ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ آدیبہ ظہیر، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سرگرم رکن بتائی جاتی ہیں۔
ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ دونوں بھائیوں کی گمشدگی کے بعد آدیبہ ظہیر پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف پریس کانفرنس کرنے اور تنظیم سے لاتعلقی ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہی شرط رکھی گئی کہ اس کے بعد ان کے شوہر اور دیور کو رہا کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دباؤ کے نتیجے میں آدیبہ ظہیر نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس کی، تاہم اس بارے میں حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے خاندان کے ساتھ پیش آیا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے جبری گمشدگی اور تشدد کا سامنا کرتا آرہا ہے۔ آدیبہ کے والد ظہیر کو 13 اپریل 2015 کو حب چوکی سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
اسی خاندان کے ایک اور فرد، ذیشان ظہیر، کو 29 جون 2025 کو گرمکان فٹبال چوک سے دن دہاڑے اغواء کیا گیا تھا۔ اگلے روز ان کی لاش ملی۔ خاندان الزام عائد کرتا ہے کہ انہیں حراست کے بعد قتل کیا گیا۔



















































