بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف کے وی بی ایم پی زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6160ویں روز میں داخل ہوگیا۔
احتجاجی کیمپ میں نوجوان صحافی مقبول جعفر کے بھائی اور ان کے میڈیا گروپ سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں نے شرکت کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔
شرکاء نے کہا کہ مقبول جعفر کو مبینہ طور پر سچ بولنے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کی پاداش میں رات کے وقت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں دوبارہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا۔ انہوں نے اس عمل کو آزادیٔ صحافت اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ مقبول جعفر کی غیر قانونی حراست انتہائی تشویشناک، غیر آئینی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ صحافیوں کو ہراساں کرنا، اختلافِ رائے کو دبانا اور بغیر شفاف قانونی جواز کے گرفتاریاں کرنا نہ صرف آئینِ پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق بلکہ جمہوری اقدار اور آزادیٔ اظہار پر براہِ راست حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں، جو عوامی مسائل، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سچائی کو سامنے لانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلوچستان میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات میڈیا سے وابستہ افراد میں خوف، عدم تحفظ اور سنسرشپ کے ماحول کو فروغ دے رہے ہیں، جو کسی بھی مہذب اور جمہوری معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
انہوں نے حکومت، عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ مقبول جعفر کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے قانونی و آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے، اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے بجائے آزادیٔ صحافت، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنایا۔


















































