کوئٹہ: جبری لاپتہ حیرنسا چھ ماہ کی طویل جبری گمشدگی کے بعد میڈیا پر خودکش ظاہر

38

بلوچستان کے وزیر اعلی سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ایک خودکش حملہ آور خاتون کو گرفتار کر کے ایک بڑے حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

پیر کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے ایک نوجوان خاتون کو اپنے ساتھ بٹھا کر میڈیا کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ وہ ایک ’خودکش مشن‘ پر تھیں۔ ان کے مطابق خاتون کو اسلام آباد میں ایک مقام کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی تاہم انٹیلی جنس اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے منصوبہ ناکام بنا دیا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ خاتون کا تعلق بلوچستان کے ضلع تربت سے ہے اور انھیں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ایک کیمپ میں تربیت دی گئی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ خاتون کو ’بلیک میل‘ کیا جا رہا تھا اور انھیں دباؤ کے تحت خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہا ’ہم اس کو اس کے والد کے حوالے کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ میڈیا کے سامنے پیش کی جانے والی خاتون دراصل بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والی حیر نسا واحد ہیں۔

گذشتہ سال 20 دسمبر کو علی الصبح تقریباً تین بجے حب چوکی کے علاقے گنجی گھوٹ دارو ہوٹل میں پاکستانی فورسز نے ایک گھر پر چھاپہ مارا تھا، جہاں سے دو خواتین کو اپنے ساتھ لے جایا گیا تھا۔

ان خواتین کی شناخت حیر نسا واحد اور ہانی کے نام سے ہوئی تھی۔ ہانی کو بعدازاں 26 جنوری کو رہا کیا گیا تھا، جبکہ حیر نسا کو اب میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔

اسی دوران تربت سے خاندان سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں، مجاہد اور فرید کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔

بلوچستان میں پہلی دفعہ یہ نہیں ہے کہ خواتین کو میڈیا ٹرائل سامنے آیا ہے اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو اسی طرح میڈیا ٹرائل کیا گیا۔

بلوچستان میں گزشتہ سال درجن بھر خواتین مختلف علاقوں سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں، اسی طرح خضدار سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی فرزانہ زہری کو گرفتار کرکے خودکش بمبار ظاہر کیا گیا، جبکہ اس دوران بلوچستان حکومت نے ان سے پریس کانفرنس بھی کرائی۔ دالبندین سے جبری لاپتہ رحیمہ بی بی کی گرفتاری چھ ماہ بعد ظاہر کی گئی، پاکستانی فورسز نے رحیمہ بی بی اور ان کے بھائی کو دالبندین میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران لاپتہ کیا تھا۔

دالبندین سے اپنے چھوٹے بھائی سمیت جبری لاپتہ ہونے والی رحیمہ بی بی بنت محمد رحیم کو کوئٹہ میں منظرِ عام پر لا کر “خودکش بمبار” کے سہولت کار کے طور پر پیش کیا گیا۔

مزید برآں بلوچستان سے جبری گمشدگی کا نشانہ بننے اور بعد ازاں منظرِ عام پر لا کر پریس کانفرنس کرانے کے واقعات میں ماہل بلوچ کا کیس نمایا ہے، جنہیں بلوچستان حکومت نے خودکش بمبار ظاہر کیا تھا تاہم بعد ازاں عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دیتے ہوئے رہا کردیا تھا۔