ہنٹا وائرس کا ہائی الرٹ، موت کے جہاز سے اترنے والے 29 مسافر کہاں گئے؟

97

دنیا بھر کی حکومتیں اس وقت اُن درجنوں مسافروں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں جو ایک ایسے کروز جہاز سے اُترتے تھے جس پر مہلک ہنٹا وائرس کی وبا پھیل گئی تھی، اور یہ سب اس وقت ہوا جب قرنطینہ کے اقدامات نافذ نہیں کیے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے دی گارڈیئن کے مطابق جمعرات کو پہلی بار یہ بات سامنے آئی کہ کم از کم 12 مختلف قومیتوں کے 29 مسافر 24 اپریل کو جہاز ایم وی ہونڈیئس سے اترے تھے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی۔ اس کے بعد سے ان افراد کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کے لیے ہنگامی کوششیں شروع کر دی گئیں۔

تاہم عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتِ حال کووڈ کی طرح عالمی وبا کی صورت اختیار نہیں کر رہی۔

عالمی ادارہ صحت نے بتایا کہ جہاز سے منسلک آٹھ مشتبہ کیسز میں سے پانچ کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید کیسز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

اس وبا میں اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس سے عالمی سطح پر تشویش پھیل گئی ہے۔

ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں میں پایا جاتا ہے، لیکن یہ انسانوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے اور فلو جیسی علامات، پھیپھڑوں کے سنڈروم اور سانس کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے۔

انڈیز ہنٹا وائرس انسانوں میں انتہائی قریبی رابطے کے ذریعے منتقل ہو سکتا ہے، تاہم یہ کووڈ کے مقابلے میں کم متعدی ہے اور اس کی کوئی ویکسین موجود نہیں ہے۔

ایک نظریے کے مطابق یہ وبا ارجنٹینا میں ڈچ جوڑے کی پرندوں کے مشاہدے کی ایک مہم سے منسلک ہو سکتی ہے، جہاں ہنٹا وائرس کے کیسز پہلے سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ ارجنٹینا کی وزارت صحت نے اوشوایا میں چوہوں کی جانچ اور تحقیق شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔