آصفہی مرگ، جب بارود کے دھوئیں میں پھولوں کی مہک اٹھی – ہارون بلوچ

24

آصفہی مرگ، جب بارود کے دھوئیں میں پھولوں کی مہک اٹھی

تحریر: ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جب بارود، بم، دھماکوں اور مرگ کے اندر سے جنم لینے والے انسان سے پھولوں کی مہک، زندگی کا احساس، حقیقی شعور، معیاری زندگی کا مقام، آزادی کی خوبصورتی، آزادی کی زندگی، اور اس حد تک سکون و راحت کا احساس جنم لے، تو یہ وہ مقام ہے جب تمہیں آصفہ سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ آصفہ اس انسانی معیار کا مقام ہے جب انسان زندگی کے ہر احساس سے آگاہ ہو، زندگی کے ہر جذبے سے شعوری وابستگی رکھتا ہو، اور زندگی کے فکری و مادی حالات کے اس مقام تک پہنچ چکی ہو جہاں انسانی زندگی کو ایک برتر مقام سمجھا جاتا ہے۔

جب انسان کے اندر دنیاوی دکھاوے اور مصنوعیت کے بجائے اپنی حقیقی زندگی آشکار ہونے لگے، جب سادگی، مہر، محبت اور زندگی دکھاوے نہیں بلکہ اندرونی احساس و شعور کی مانند تمہارے اندر زندہ رہیں۔ آصفہ ہی شعور وہ انسانی مقام ہے جہاں ہر والد اپنی بیٹی کے وہاں پہنچنے کی دعا کرتا ہے، جہاں ہر بھائی اپنی بہن کو وہاں دیکھنا چاہتا ہے، جہاں ہر انسان اپنے ساتھی سے اس مقام تک پہنچنے کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ وہ آئیڈیل مقام ہے جب انسان تہذیب یافتہ، باشعور، فکری طور پر اثرانگیز اور اپنے عمل و اندرونی زندگی کی وجہ سے باکمال لگتا ہے۔

جب انسان اپنی زندگی کے حقیقی مقام تک پہنچتا ہے تو اس کی رنگت اس کا اظہار کرتی ہے۔ اس کی تصویریں اور اس کی مسکراہٹ میں وہ تمام زندگی دکھائی دیتی ہے، ضرورت صرف اسے پہچانے کی ہے۔ آصفہ کی ہر تصویر، ہر مسکراہٹ زندگی کے اس مکمل مفہوم کا اظہار کرتی ہے جس کی انسان خواہش کر سکتا ہے، جس کا آئیڈیل تصور پیش کیا جاتا ہے یا بیان کیا جاتا ہے۔

میری آنکھوں کے سامنے اب بھی یہ منظر چل رہا ہے کہ دل کی تیز دھڑکنوں کے ساتھ آصفہ کا بھائی اس لمحے کا انتظار کر رہا ہے جب اس کی لاڈلی بہن، اس کی بچپن کی ساتھی، اس کی انقلابی فکر کی وارث، اس کی انقلابی زندگی کا ایک حصہ، اس کے دل کی دھڑکن، اس کے جگر کا ٹکڑا، اور اس کے درد، اذیت و انقلابی سرگرمیوں میں شریک ساتھی، اپنی آزادی کے خوبصورت تصور کے لیے خود کو ہمیشہ کے لیے فنا کرنے جا رہی ہے۔

اور وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، انتظار کر رہا ہے، اور اس کیفیت کو جی رہا ہے جسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے، صرف سوچا جا سکتا ہے۔ ایسا احساس کہ جس کے تصور سے بھی انسان کا جسم لرز اٹھے۔ اور مرگ کی طرف جاتے ہوئے وہ مکمل طور پر پرسکون ہے، زندگی کے احساس سے بھرپور ہے، اور اپنے بھائی کو ہدایت دے رہی ہے کہ اسے پوری قوت اور استقامت کے ساتھ یہ جنگ لڑنی ہے۔

شہادت سے جانے سے پہلے وہ بھائی کو کہتی ہے کہ تمہیں کھڑا رہنا ہے، بزدل نہیں بننا۔ تم میرے حقیقی اور انقلابی سنگت و وارث ہو۔ تمہیں آخری سانس تک ڈٹے رہنا ہے اور کسی بھی طرح کی پریشانی کا اظہار نہیں کرنا۔ گھر جانا ہے، والدین کو میرے فیصلے اور موت کے حوالے سے آگاہ کرنا ہے اور انہیں بتانا ہے کہ یہ فیصلہ میں نے بہت سکون کے ساتھ کیا ہے۔ تمہیں میری قربانی کا فیصلہ خود جا کر انہیں بتانا ہے، انہیں کسی ہلچل یا افواہ کی صورت میں یہ معلوم نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں تم نے بتانا ہے کہ میں نے شہادت قبول کر لی ہے، اور اسے بہت پرسکون انداز میں قبول کیا ہے۔ میں جاتے ہوئے بہت پرسکون ہوں۔ اتنی خوشی کا احساس پہلے کبھی نہیں کیا جتنا آج اپنے فیصلے کے مقام پر جاتے ہوئے کر رہی ہوں۔ تم خود کو مضبوط رکھنا، کیونکہ میں بہت مضبوط ہوں، اور میرے اندر بہت سکون ہے۔

یہ مرگِ شعوری کے مقام کا وہ حصہ ہے جہاں اس نے مطلب، مقصد، مقام اور نتیجہ حاصل کر لی ہے۔ انسان کی موت اس سے زیادہ بامعنی اور مقصد سے بھرپور نہیں ہو سکتی۔ زندگی کے حوالے سے اس کے بنیادی فلسفے کا جتنا بھی نچوڑ نکالا جائے، چاہے وہ خوشی و سکون سے متعلق ہو، یا زندگی کے بنیادی ادراک سے، یا اپنی موجودگی، وجود، مقصد اور معنی کے حوالے سے؛ یا اپنی زندگی کا مطلب تلاش کرنا، مستقل خوشی حاصل کرنا اور اسی سکون کے ساتھ زندگی کو اختتام تک جینا؛ یا اپنی زندگی کو مکمل شعوری انداز میں منتخب کرنا؛ یا اپنے حصول، اخلاق اور اقتدار کے قیام، تلاش اور ان تک پہنچنا؛ یا زندگی کے احساس، جذبات اور اندرونی حقیقت کے ساتھ جینا، اسے سمجھنا اور اس کا ادراک رکھنا؛ یا قربانی کو زندگی کی ایک حقیقی شکل اور تصور کے طور پر دیکھنا اور سمجھنا، آصفہ زندگی کے ہر معیار پر پوری، مکمل اور بامعنی انداز میں پورا اترتی ہے۔

صرف موت ہی زندگی کی تلاش یا حقیقت تک پہنچنے کا مقام نہیں ہوتی، بلکہ زندگی میں موت کا ادراک، زندگی کا شعور، اور اسے برتر، اخلاقی اور بااخلاق انداز میں گزارنا ہی حقیقی معیارِ زندگی تک پہنچنے کا مقام ہے۔ آصفہ نے انقلابی معیار کی ان تمام حدود کو عبور کیا جو ممکن تھیں، یا جو موجود ہیں۔ صبر، برداشت اور تحمل کا جس انداز میں انہوں نے مظاہرہ کیا، وہ غیرمعمولی تھا۔ انہوں نے ہیروف سے تین سال پہلے فدائی آپریشن انجام دینے کا فیصلہ کیا، لیکن جب انہیں وقت دیا گیا کہ وہ سوچیں آیا وہ اس فیصلے پر قائم رہ سکتی ہیں یا نہیں، تو انہوں نے مزید گہرائی، شدت اور سکون کے ساتھ سنگتوں کو پیغام دیا کہ یہ فیصلہ ہر حوالے اور ہر زاویے سے شعوری ہے۔ کیونکہ جب انسان علم اور شعور کے مقام تک پہنچ کر کوئی فیصلہ کرتا ہے تو وہ فیصلہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ شعوری مقام پر کیا گیا فیصلہ آخری ہوتا ہے۔

انہوں نے اس فیصلے کے پیچھے موجود علم کی گہرائی کا گہرے انداز میں مطالعہ کیا تھا اور بعدازاں اسی فیصلے پر پہنچیں۔ جب انسان خاندانی اقدار اور بلند معیارِ فکر کا حامل ہو تو اس کے ہر فیصلے کے پیچھے ایک شعوری ادراک موجود ہوتا ہے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی تھیں، سوال پوچھنے اور سوال کو سمجھنے کے مقام پر کھڑی ایک باشعور انسان۔ وہ روایات کی زنجیروں میں جھکڑی ہوئی نہیں تھیں بلکہ ان سے بغاوت کرنے والی لڑکی تھیں، اس لیے جب انہوں نے یہ فیصلہ لیا تو اس سے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔

ان کے لیے اپنی انفرادی موت کوئی ذاتی لذت یا خوشی نہیں تھی بلکہ اجتماعی آزادی، اجتماعی زندگی اور اجتماعی خوشحالی کا ایک حقیقی تصور تھی۔ اسی لیے جب ان کے بھائی نے آخری لمحوں میں، جب وہ درد، محبت اور وطن کے احساس سے بھرا ہوا تھا اور جذبات اس پر حاوی تھے، آصفہ سے کہتا ہے کہ آزادی کی جنگ کتنی اذیت ناک ہوتی ہے کہ انسان کو اپنے دل کا ٹکڑا، اپنی روح کا حصہ بھی قربان کرنا پڑتا ہے، تو جواب میں آصفہ کہتی ہے:

آزادی بہت خوبصورت ہوگی، اتنی خوبصورت کہ شاید تم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے، اور یقین مانو کہ آزادی بہت خوبصورت ہوگی۔

اب میں سوچتا ہوں کہ شاید اُس وقت آصفہ نہیں بلکہ آصفہ کی شکل میں آزادی کا حقیقی رنگ، حقیقی روح اور حقیقی چہرہ سامنے کھڑا تھا۔ اور اب یقین ہونے لگا ہے کہ بلوچستان کی آزادی آصفہ جیسی ہوگی؛ آصفہ جیسی معصوم، خوبصورت، بامعنی، بامقصد، خوشحال اور زندگی سے بھرپور۔ ان تمام قربانیوں سے حاصل ہونے والی آزادی قومی فکر، علم، شعور، انسانی معیار اور خودمختاری سے آراستہ، آصفہ جیسی ہوگی۔ اب جب بھی میں آزادی کا تصور کرتا ہوں تو آصفہ ذہن میں آ جاتی ہے، کیونکہ اب آزادی کے رنگ میں آصفہ موجود رہتی ہے۔ جب وہ قربان ہونے جا رہی تھیں تو شاید وہ ہمیں پہلے ہی بتا گئی تھیں کہ آزادی کیسی ہوگی۔

بلوچ جنگ میں ہر جہدکار اور ہر کردار کی اپنی ایک الگ شناخت، الگ معنی اور الگ کیفیت ہوتی ہے۔ کوئی بہادری کا سرچشمہ ہوتا ہے تو کوئی سنگتی میں اپنا منفرد مقام رکھتا ہے۔ کوئی حکمت کا ماہر ہوتا ہے تو کسی کے پاس صرف مہر بانٹنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ کوئی جنگجو ہوتا ہے تو کوئی صرف حمایتی۔ کوئی علم کا پیامبر ہوتا ہے تو کوئی بہترین منصوبہ ساز۔

لیکن ان سب کے علاوہ کچھ لوگ کردار کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ یقیناً جنگ کے میدان میں ہر جہدکار کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، مگر کردار وہ انسان ہوتے ہیں جو اثرانداز ہوتے ہیں؛ جو رخ دیتے ہیں اور رخ بدل دیتے ہیں۔ وہ خود ایک کیفیت، ایک احساس اور ایک معنی ہوتے ہیں۔ وہ بامعنی اور بامقصد ہوتے ہیں، پاک اور بے غرض ہوتے ہیں۔ ان کی کوئی انا، کوئی ذاتی خواہش یا پسند باقی نہیں رہتی۔ وہ صرف جنگ، تحریک، جدوجہد اور اجتماعیت کے لیے فنا ہو جانے والے انسان ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کی ہر حد کو تحریک کے لیے فنا کر چکے ہوتے ہیں۔

وہ اثرانگیز ہوتے ہیں، اثر چھوڑتے ہیں، اور اپنی زندگی اور موت دونوں میں معنی خیز بن جاتے ہیں۔ جب آپ کی زندگی معنی خیز ہو جائے تو آپ کی موت کیسے بے معنی ہو سکتی ہے؟ آپ کی موت کے اثر کا فیصلہ دراصل آپ کی زندگی کرتی ہے۔ کسی کردار کی خوبصورتی کا فیصلہ صرف شعوری مرگ نہیں کرتی بلکہ اس کی شعوری اور انقلابی زندگی، جب شعوری مرگ کو اختیار کرتی ہے، تو وہ ایک معنی خیز کردار کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ آصفہ معنی خیز اس لیے ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی میں اس شعوری ادراک کے مقام تک پہنچ چکی تھی جہاں تک پہنچنے میں ہم اکثر ناکام رہ جاتے ہیں۔

موت کسی کو برتر مقام نہیں دیتی بلکہ زندگی میں آپ کا حقیقی رنگ، حقیقی شکل، حقیقی فکر اور حقیقی مقام ہی آپ کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ قربانی اور موت صرف اس زندگی کو شناخت دیتے ہیں جو آپ نے جیتی ہوتی ہے؛ اسے سامنے لاتے اور زندہ کر دیتے ہیں۔

اسی لیے ہر جہدکار کو اپنی زندگی میں ہر اُس انسانی، فکری، انقلابی اور شعوری مقام کو اپنانا چاہیے جہاں عزت، شعور، عمل اور معنی خیزی موجود ہو۔

آصفہ سماج کے اندر موجود غلامی کی زندگی کا شعوری احساس رکھتی تھی۔ اسی شعوری فکر نے انہیں فدائی فیصلے تک پہنچایا۔ وہ بلوچ سماجی روایات اور انقلابی فکر کے ساتھ زندگی گزارنے والی ایک مکمل اور باشعور لڑکی تھیں، اور جب انسان زندگی میں فکری طور پر مکمل ہو جاتا ہے تو اس کے لیے غلامی کی موجودہ شکل کو قبول کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اگر کوئی انسان اس کے خلاف بغاوت کرنے اور اس جنگ کا حصہ بننے کے بجائے خاموش رہتا ہے تو اسے اپنے اندرونی احساسات، خیالات اور اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ غلامی کی اس شکل کو کوئی بھی باعزت اور باشعور انسان قبول نہیں کر سکتا۔ آصفہ کے انسانی شعور نے انہیں یہ پیغام دیا کہ وہ اس کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کریں، اور اسی فکر نے انہیں شعوری مرگ کا راستہ اپنانے پر آمادہ کیا۔

آصفہ اب اس دنیا میں موجود نہیں، مگر غلامی کے خلاف کھڑے ہو کر اور آزادی کے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے انہوں نے شہادت کی جو راہ اختیار کی، اس نے لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں انتخاب اور فیصلہ کرنے کی ایک نئی سوچ پیدا کی ہے۔ اگر آصفہ زندگی کے ہر پہلو، ہر خوشی اور ہر حقیقت سے آشنا ہونے کے باوجود بھی اس فیصلے تک پہنچتی ہیں، تو یہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ آج جنگ محض ایک چوائس نہیں بلکہ ایک ناگزیر انتخاب بن چکی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔