بلوچ ویمن فورم نے بلوچستان میں بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف علاقوں سے خواتین کی جبری گمشدگیوں کے مسلسل واقعات بلوچ معاشرے میں خوف، بے یقینی اور اضطراب کو بڑھا رہے ہیں۔
تنظیم کی ترجمان کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع کیچ کے علاقے تجابان سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق زبیدہ زوجہ حاجی بدل اور ان کی بہو زرناز زوجہ دولت کو مبینہ طور پر گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے ایک چھاپے کے دوران حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا، جس کے بعد سے ان کے اہلخانہ کو ان کی خیریت، قانونی حیثیت یا مقام کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسی خاندان کے فرد دولت ولد حاجی بدل کو 18 فروری 2026 کو مبینہ طور پر ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں قتل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
تنظیم کے مطابق اب ان کی والدہ اور اہلیہ کی مبینہ جبری گمشدگی نے خاندان کے دکھ اور پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
بلوچ ویمن فورم نے کہا کہ جبری گمشدگیاں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ان واقعات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خواتین کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنائیں اور متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔



















































