کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

12

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6115ویں روز بھی جاری رہا۔

مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کر کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر وی بی ایم پی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات غلام فاروق بھی موجود تھے۔

اس دوران غلام فاروق نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ لاپتہ افراد کے لواحقین ثبوت کے ساتھ خود سامنے آئیں، کیونکہ لواحقین کے بغیر کسی بھی جبری گمشدہ شخص کا کیس نہ ملکی سطح پر اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر مؤثر طریقے سے رجسٹر ہو سکتا ہے۔

انہوں نے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اپیل کی کہ وہ خاموش نہ بیٹھیں بلکہ اپنے پیاروں کی باحفاظت بازیابی اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے ثبوت کے ساتھ سامنے آئیں۔

غلام فاروق نے سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی اپیل کی کہ وہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو ثبوت کے ساتھ سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔