پہاڑوں کا بیٹا — ظہیر جان
تحریر: فرحان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
آج میں جس سنگت کو لفظوں میں قید کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، وہ محض ایک انسان نہیں بلکہ ایک احساس، ایک وابستگی اور ایک ادھورا خواب تھا، ایسا خواب جو جاگتی آنکھوں سے دیکھا گیا اور پھر زمین کی مٹی میں امر ہو گیا۔ وہ میرے دل کے اس گوشے میں بسا ہوا تھا جہاں سے یادیں کبھی رخصت نہیں ہوتیں۔ بہت کم وقت میں اس نے میری زندگی میں ایسی جگہ بنا لی کہ اس کے بغیر ہر لمحہ ادھورا، ہر رنگ پھیکا اور ہر خوشی بے معنی محسوس ہونے لگی۔ اس کی موجودگی زندگی کا سکون تھی، اور اس کی باتیں دل کے زخموں پر مرہم۔
کچھ لوگ پہلی ہی ملاقات میں روح پر دستک دے دیتے ہیں اور پھر دل ان سے جدا ہونے کا تصور بھی قبول نہیں کرتا۔ مش یار کے ساتھ میرا رشتہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے ہمیں کسی پرانی پہچان کے دھاگے میں باندھ رکھا ہو۔ اس کی شباہت، اس کا انداز، حتیٰ کہ اس کی خاموشی بھی ہمیں اپنے سنگت بالاچ کی یاد دلاتی تھی۔ قلات، مہلبی اور ناگاہو کے کئی ساتھی آج بھی اسے بالاچ ہی سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ مش یار تھا مگر درحقیقت نام سے زیادہ اس کی سوچ اور اس کا نظریہ اہم تھا، جو ایک سچے بلوچ سرمچار کی پہچان ہوتے ہیں۔
مش یار کی شخصیت بظاہر خوش مزاج اور بے ساختہ تھی، مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک گہری سنجیدگی، ایک خاموش طوفان چھپا ہوا تھا۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں پر بیٹھ کر صرف زمین نہیں دیکھتا تھا، بلکہ آنے والے کل کی جنگ، اس کی سمت اور اس کے انجام پر غور کرتا رہتا تھا۔ جو لوگ اسے قریب سے جانتے تھے، وہ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے تھے کہ وہ گویا بلوچستان کے لیے ہی پیدا ہوا تھا۔ اس کی زندگی میں ذاتی خواہشات، آرام یا آسائش کی کوئی گنجائش نہ تھی—وہ مکمل طور پر ایک مقصد، ایک نظریے اور ایک ذمہ داری کا اسیر تھا۔
مجھے اکثر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جو کام وہ ایک دن میں سرانجام دے دیتا تھا، وہی کام کوئی اور مہینوں میں بھی نہ کر پائے۔ اسے دیکھ کر دل میں ایک عجز پیدا ہوتا تھا کہ اصل جدوجہد انہی لوگوں کا حصہ ہے—ہم تو محض تماشائی ہیں۔ اس کی زندگی اس بات کی واضح دلیل تھی کہ جدوجہد صرف نعروں کا کھیل نہیں بلکہ ایک مسلسل قربانی، ایک خاموش استقامت اور ایک نہ ختم ہونے والی ذمہ داری کا نام ہے۔
زمین اور آزادی کی جدوجہد اس کے لیے کوئی وقتی جذبہ نہیں بلکہ ایک شعوری وابستگی تھی ایسی وابستگی جس میں انسان اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنی آسائشوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ سرمچار ہونا صرف ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ ضبط، صبر، خاموشی اور مسلسل ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کا نام ہے۔ اس کے نزدیک سرمچار وہ تھا جو قوم کے درد کو اپنا درد بنا لے اور اپنی ذات کو ایک بڑے مقصد میں فنا کر دے۔
زمین کے بعد اگر کوئی چیز اس کے دل کے قریب تھی تو وہ شہداء کے اہلِ خانہ تھے۔ وہ اپنے گھر والوں سے بڑھ کر ان لوگوں کا خیال رکھتا تھا جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس دھرتی پر قربان کر دیا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ ہم ان لوگوں کو کیا تسلی دے سکتے ہیں جن کے دل ہمیشہ کے لیے خالی ہو چکے ہیں۔ اس کی دعا یہی ہوتی تھی کہ کسی شہید کے گھرانے کا دل اس سے کبھی نہ دکھے۔ اس کے پاس خود کچھ نہ ہوتا، مگر اگر کبھی کچھ میسر آ جاتا تو وہ سب سے پہلے انہی لوگوں کو یاد کرتا۔
ہماری دوستی بھی عجیب تھی سادہ مگر گہری، خاموش مگر مضبوط۔ ایک بار چند دن ملاقات نہ ہو سکی تو یوں لگا جیسے وقت رک گیا ہو۔ پھر ایک مغرب کے وقت جب ہم ملے تو باتوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ رات بیت گئی اور ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔ پہلے اس نے کہا کہ وہ مجھے کیمپ تک چھوڑے گا، پھر میں نے اصرار کیا کہ نہیں، اب میں اسے چھوڑوں گا۔ یوں ایک دوسرے کو چھوڑنے کے بہانے ہم رات بھر ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہے اور وہ رات ہماری یادوں میں ہمیشہ کے لیے قید ہو گئی۔
وہ بتایا کرتا تھا کہ تنظیم میں شامل ہونے سے پہلے ایک عجیب خوف اسے بے چین رکھتا تھا یہ خوف کہ اگر وہ طبعی موت مر گیا تو یہ اس کے لیے ایک ادھورا پن، ایک شرمندگی ہو گی کہ اس نے اپنی زمین کے لیے کچھ نہ کیا۔ اسی لیے اس کی دعا ہمیشہ یہی رہی کہ اس کی آخری سانس دشمن کے مقابلے میں نکلے، تاکہ اس کی زندگی کا اختتام بھی اس کے مقصد کی طرح بامعنی ہو۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اس نے بہت جلد اپنی زندگی کو مکمل طور پر جدوجہد کے نام کر دیا۔
شہروں کی مصنوعی چمک دمک اسے ہمیشہ گھٹن کا احساس دلاتی تھی۔ وہ کہتا تھا کہ اصل سکون پہاڑوں کی سخت مگر سچی زندگی میں ہے جہاں انسان خود سے بھی سچا ہوتا ہے اور اپنے مقصد سے بھی۔ اسی لیے وہ ابتدا سے لے کر آخری لمحے تک پہاڑوں کا ہی مسافر رہا، کیونکہ وہیں اسے اپنی شناخت، اپنی سچائی اور اپنی منزل ملی۔
قلات کے پہاڑ آج بھی اس کے آخری معرکے کی گواہی دیتے ہیں۔ جب دشمن نے سرمچاروں کے حوصلے کو آزمانے کی کوشش کی تو مش یار اور اس کے ساتھیوں نے ثابت کر دیا کہ سرمچار صرف مورچے نہیں سنبھالتے بلکہ قوم کی عزت، وقار اور تاریخ کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ اسی جدوجہد کے دوران وہ زخمی ہوا اور بالآخر اسی زمین پر امر ہو گیا جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا۔
اس کا آخری مقابلہ محض ایک لڑائی نہیں تھا، بلکہ ایک پیغام تھا ایسا پیغام جو آنے والی نسلوں کے دلوں میں ہمیشہ گونجتا رہے گا۔
اور وہ دن بھی میری یادوں میں زندہ ہے جب ہم کوئٹہ سے کراچی جانے والے راستے پر موجود تھے۔ ایک بلوچ شیر دل خاتون نے سرمچاروں کو دیکھا اور محبت سے ان کے ہاتھ چومے۔ جب اس کی نظر مش یار پر پڑی تو اس نے پوچھا: “کیا تم ظہیر ہو؟” مگر تنظیمی رازداری کے تحت اس نے انکار کر دیا۔ شاید اس کے دل میں یہ خواہش رہ گئی کہ وہ اس خاتون کو بتا سکے کہ وہی ظہیر ہے مگر کچھ سچائیاں وقت اور حالات کے پردے میں ہی خوبصورت لگتی ہیں۔
شاید یہی مقدر تھا کہ کچھ ملاقاتیں ادھوری رہ جائیں، اور کچھ پہچانیں ہمیشہ راز بن کر رہیں۔
امید ہے کہ اس تحریر کے ذریعے ظہیر کا سلام آپ تک پہنچ گیا ہوگا کیونکہ کچھ لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں، اور ظہیر جان انہی میں سے ایک تھا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































