بلوچ جنگ آزادی میں میڈیا کا ارتقاء
تحریر : اشیش اُپریتی
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ لبریشن آرمی (BLA) ایک کم نمایاں شورش سے نکل کر اب اسٹریٹجک ملٹی میڈیا پیغام رسانی کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں بیانیہ اور بصری مواد کے ذریعے اپنی حیثیت، تاثر اور تنازع کی نوعیت کو تشکیل دیا جا رہا ہے۔
بلوچ لبریشن آرمی اور پاکستانی ریاست کے درمیان جاری طویل تصادم میں اب نہ صرف حکمتِ عملی بلکہ بیانیے کے حوالے سے بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے کمانڈر بشیر زیب کی متعدد ویڈیوز جاری کیں جن میں وہ بغیر نقاب، پُرسکون انداز میں اپنے حامیوں اور عالمی ناظرین سے مخاطب دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں بشیر زیب بلوچ کو دشوار گزار علاقوں میں موٹر سائیکل پر “آپریشن ہیروف 2” کی قیادت کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جو نقل و حرکت، کنٹرول اور ریاست کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا، محض نظریاتی نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی بنیادوں پر اپنی حیثیت اور مزاحمت کے حق کو اجاگر کیا گیا۔
یہ لمحہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچ جنگ آزادی، خصوصاً بی ایل اے، اب انفارمیشن وارفیئر کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ اس مرحلے میں محدود مگر مؤثر نمائش، گہرے بیانیے اور اخلاقی دلائل پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ انفارمیشن وارفیئر کے تناظر میں ایسے اقدامات کو عام طور پر اس کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کا مقصد فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت، تاثر اور بیانیے کی پائیداری کو بھی مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ بلوچ تحریک اب اسی مواصلاتی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں تشدد کے عمل سے زیادہ اس کی تشریح پر کنٹرول اہم ہوتا جا رہا ہے۔
حاشیے سے بیانیے تک
کئی دہائیوں تک بلوچ جنگ آزادی مرکزی میڈیا کی توجہ سے تقریباً باہر رہا۔ صحافیوں کی رسائی محدود رہی، کارکن لاپتہ ہوتے رہے اور تشدد کو اکثر محض اعداد و شمار تک محدود کر دیا گیا۔ ان حالات میں بلوچ عسکری تنظیموں نے روایتی ذرائع میں داخل ہونے کے بجائے اپنا الگ معلوماتی نظام قائم کرنا شروع کیا۔
حالیہ برسوں میں یہ رجحان تیز ہوا ہے۔ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر حملے جیسے واقعات کے بعد اب تفصیلی بیانات جاری کیے جاتے ہیں جن میں ہدف کے انتخاب، کارروائی کے مقصد اور سیاسی جواز کی وضاحت کی جاتی ہے۔ ویڈیوز، جو اکثر سادہ اور غیر تراشیدہ ہوتی ہیں، مربوط حملوں، منظم پسپائی اور جنگجوؤں کے جذباتی آخری پیغامات کو دکھاتی ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ایک ہی مواد کو بیک وقت پھیلایا جاتا ہے تاکہ ریاستی کارروائیوں کے باوجود اسے ہٹانا مشکل ہو جائے۔
اس کا نتیجہ روایتی معنوں میں ذہنی غلبہ نہیں بلکہ “بیانیاتی بھراؤ” کی صورت میں نکلتا ہے، جہاں ہر پرتشدد عمل کے ساتھ اس کی تشریح بھی پیش کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس پیغام رسانی کے اثرات کی پیمائش مشکل ہے، تاہم سوشل میڈیا پر بلوچ اور بیرونِ ملک بلوچ کمیونٹی میں اس کی بازگشت واضح نظر آتی ہے۔ یہ زیادہ پختہ عوامی بیانیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بی ایل اے وسیع تر معلوماتی مقابلے سے آگاہ ہے۔
فدائین کو انسانی کردار کے طور پر پیش کرنا:
بی ایل اے کی حکمت عملی میں ایک واضح تبدیلی یہ بھی ہے کہ مختصر، محض تحریری دعوؤں اور کم نمایاں پیغام رسانی سے ہٹ کر اب ایک زیادہ مربوط اور ملٹی میڈیا پر مبنی حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ اس حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت جنگجوؤں، خصوصاً فدائین (خودکش حملہ آوروں)، کو شعوری طور پر ایک انسانی کردار کے انداز میں پیش کرنا ہے۔
مجید بریگیڈ کے ارکان، جنہیں عموماً فدائین کہا جاتا ہے، کو نظریاتی نعروں کے بجائے ان کی ذاتی زندگی کی کہانیوں کے ذریعے متعارف کرایا جاتا ہے۔ ناظرین کے سامنے مختلف پس منظر رکھنے والے افراد پیش کیے جاتے ہیں جیسا کہ طلبہ، انجینئرز، خواتین، شادی شدہ جوڑے اور حتیٰ کہ بزرگ افراد، جو مسلح جدوجہد کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتے ہیں۔
اس طرزِ پیشکش سے جدوجہد کا تناظر نظریے سے ہٹ کر محرومی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ عسکریت کو نسلی انتہا پسندی یا بیرونی سازش کے بجائے ایک طویل عرصے سے جاری سیاسی بندش اور نسل در نسل صدمے کا فطری نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔
خواتین اور خاندانی اکائیوں کی شمولیت خاص طور پر اہم ہے۔ ان کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ جنگ اب ہر گھر اور سماجی دائرے تک سرایت کر چکا ہے، جہاں جنگجو اور عام شہری زندگی کے درمیان فرق ختم ہوتا جارہا ہے۔
تشدد کی وضاحت اور اخلاقی جواز
بہت سے عسکری گروہوں کے برعکس جو ابہام اور خوف پر انحصار کرتے ہیں، بلوچ تنظیم اپنے اقدامات کی تفصیل سے وضاحت کرتے ہیں۔ حملوں کے ساتھ جاری بیانات میں اہداف کو انٹیلی جنس سرگرمیوں، آبادیاتی تبدیلی یا انسدادِ شورش اقدامات سے جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد تشدد کو ایک اخلاقی جہت دینا ہے۔
روایتی “جسٹ وار تھیوری” میں jus ad bellum ان شرائط کو بیان کرتا ہے جن کے تحت طاقت کا استعمال جائز سمجھا جاتا ہے۔ بلوچ تنظیم ریاست کے خلاف تشدد کو دفاعی، ردعملی اور محدود قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا نہیں بلکہ اندرونی سطح پر اپنی حیثیت کو برقرار رکھنا ہے۔
یہ ایک خطرناک حکمتِ عملی ہے، کیونکہ جتنا زیادہ تشدد کی وضاحت کی جائے گی، اتنا ہی وہ اخلاقی جانچ پڑتال کے دائرے میں آتا جائے گا۔ تاہم یہ اس شعور کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ اس تنازع کی بقا صرف عملی صلاحیت بڑھانے پر نہیں بلکہ اخلاقی برتری حاصل کرنے اور اسے برقرار رکھنے پر بھی منحصر ہے
مرئیت بطور حکمتِ عملی
بی ایل اے قیادت کا کھلے عام سامنے آنا ایک اور اہم تبدیلی ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں قیادت کو نشانہ بنانا معمول رہا ہے، یہ اقدام بظاہر خطرناک لگتا ہے، مگر اس کا ایک اہم معلوماتی مقصد ہے: اعتماد، تسلسل اور جدوجہد کی ذمہ داری کا اظہار کرنا ہے۔
اسی طرح حملوں کی ویڈیوز، چاہے وہ کم معیار کی ہی کیوں نہ ہوں، ایک ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ یہ ریاستی بیانیے کی تردید کرتی ہیں، عملی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں اور تنازع کی ایک متبادل تصویر پیش کرتی ہیں جس کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ایسے ماحول میں جہاں ریاستی کنٹرول میں رپورٹنگ سختی سے محدود ہو، جیسا کہ پاکستان میں، اس نوعیت کی پیشکش خود ایک مزاحمت کی شکل اختیار کر لیتی ہے
اطلاعاتی میدان میں شدت کا اثر
جب ان تمام عناصر, ذاتی کہانیاں، آخری پیغامات، قیادت کے بیانات، حملوں کی ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر مربوط ترسیل کو اکٹھا دیکھا جائے تو یہ ایک “شدت” پیدا کرتے ہیں۔ ہر واقعہ پچھلے بیانیے کو مزید مضبوط کرتا ہے اور ایک ایسا ماحول تشکیل دیتا ہے جہاں تنازع مسلسل تشریح کے عمل میں رہتا ہے۔
اگرچہ یہ پیغام رسانی بظاہر بلوچ عوام اور بیرونِ ملک کمیونٹی کو مخاطب کرتی ہے، لیکن منظم ویڈیوز اور قیادت کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ریاستی بیانیہ اور اس کی حدود
پاکستان کا ردعمل زیادہ تر بلوچ تحریک کو بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے طور پر پیش کرنے تک محدود رہا ہے۔ اس سے خطرے کو سادہ انداز میں بیان کرنا اور طاقت کے استعمال کو جواز دینا آسان ہو جاتا ہے۔
تاہم اطلاعاتی جنگ کے تناظر میں یہ حکمت عملی کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ ریاست کی جانب سے اخلاقی اور سیاسی طور پر مضبوط بیانیہ نہ ہونے کے باعث ایک خلا پیدا ہوتا ہے جسے بلوچ بیانیہ بھر دیتا ہے۔ نتیجتاً دو متوازی حقیقتیں سامنے آتی ہیں، ایک مزاحمت کو وجودی جدوجہد کے طور پر پیش کرتی ہے جبکہ دوسری اس کی داخلی وجوہات سے انکار کرتی ہے۔
خطرات اور تضادات
یہ حکمت عملی خطرات سے خالی نہیں۔ غیر بلوچ شہریوں کے خلاف حملے اور نسلی بنیادوں پر تشدد جیسے واقعات اس اخلاقی ڈھانچے کو کمزور کرتے ہیں جسے یہ گروہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ اطلاعاتی جنگ تشدد کو ایک سیاق فراہم کر سکتی ہے، لیکن مسلسل غیر امتیازی کارروائیوں کو اخلاقی جواز دینا ممکن نہیں۔ جب ایسے تضادات بڑھتے ہیں تو بیانیے کی ساکھ حتیٰ کہ ہمدرد حلقوں میں بھی متاثر ہوتی ہے۔
معنی اور بیانیے کی سطح پر لڑی جانے والی جنگ
بالآخر بلوچ اطلاعاتی جنگ کی یہ ارتقائی شکل اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تنازع اب زمین کے بجائے معنی اور تشریح کی سطح پر زیادہ لڑا جا رہا ہے۔ مذاکرات، بین الاقوامی توجہ یا کسی واضح حل کی عدم موجودگی میں، دستاویزی عمل ہی ایک طرح سے فتح کا متبادل بن جاتا ہے۔
اس سے ایک وسیع تر سبق بھی سامنے آتا ہے: وہ تنازعات جو زمینی سطح پر محدود دکھائی دیتے ہیں، اطلاعاتی میدان میں کہیں زیادہ متحرک اور پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ان تبدیلیوں کو سمجھنا نہ صرف یہ واضح کرتا ہے کہ ایسی جدوجہد کس طرح برقرار رہتی ہے بلکہ یہ بھی کہ وہ وقت کے ساتھ کیسے خود کو ڈھالتی اور زندہ رکھتی ہے، حتیٰ کہ اس مرحلے کے بعد بھی جب ان کے ختم ہو جانے کی توقع کی جا رہی ہوتی ہے
اشیش اُپریتی بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس افسر ہیں جنہیں آپریشنز، بحران کے انتظام اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن میں پچیس سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































