سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی میں محکمہ انسداد دہشتگردی “سی ٹی ڈی” کے ہاتھوں مبینہ جعلی مقابلے میں قتل ہونے والے تین بلوچ نوجوانوں کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے معاملے کی ایک ماہ میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔
مذکورہ کیس رواں سال 17 فروری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن، ملیر میں پیش آنے والے مبینہ پولیس مقابلے سے متعلق ہے، جس میں سندھ پولیس کے محکمہ سی ٹی ڈی نے چار نوجوانوں کو قتل کردیا تھا۔
سی ٹی ڈی نے الزام عائد کیا تھا کہ مارے گئے افراد کا تعلق بلوچ مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تھا اور وہ ایک کارروائی کے دوران مارے گئے۔
تاہم بعد ازاں مارے گئے تین افراد کی شناخت جلیل ولد نور محمد، نیاز قادر ولد قادر بخش اور حمدان عرف حکیم ولد محمد علی کے ناموں سے ہوئی، جبکہ ایک شخص کی شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
اس واقعے کے بعد حمدان بلوچ سمیت دیگر مقتولین کے لواحقین نے احتجاجی دھرنا دیا تھا اور پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نوجوانوں کو پہلے ہی مختلف مواقع پر پاکستانی فورسز اور سی ٹی ڈی نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا اور ان کی اگلے روز عدالت میں پیشی بھی مقرر تھی۔
واقعہ کے خلا قتل ہونے والے موسیقار حمدان کے والد محمد علی نے اپنے بیٹے کی مبینہ حراستی ہلاکت کے خلاف فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر کراچی زون، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اسلام آباد اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) میں باضابطہ درخواستیں جمع کرائی ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کے تحت کی جائیں۔
درخواست کے مطابق حمدان ولد محمد علی 5 جنوری 2026 سے سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھا اور اس کے خلاف مختلف مقدمات درج تھے۔ سی ٹی ڈی نے عدالتی ریکارڈ میں تسلیم کیا تھا کہ حمدان پولیس ریمانڈ پر تھا جس کی مدت 18 فروری 2026 تک مقرر تھی، تاہم اس کے باوجود 17 فروری کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک مقابلے میں مارا گیا، جسے لواحقین نے جعلی اور اسٹیجڈ مقابلہ قرار دیا ہے۔
لواحقین کے مطابق چونکہ یہ تمام افراد پہلے سے گرفتار تھے، اس لیے پولیس مقابلے کا دعویٰ ناقابل قبول اور قانون کے منافی ہے۔
آج سندھ ہائی کورٹ میں اس کیس سماعت تھی جس دوران ڈی آئی جی اسپیشل برانچ سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ کے اندر شفاف انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ انکوائری مکمل ہونے تک مبینہ مقابلے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو کوئی نئی پوسٹنگ نہ دی جائے۔
عدالت نے آئی جی سندھ کو ہدایت دی کہ ہائی پروفائل کیسز میں زیر حراست ملزمان کی سیکیورٹی کے لیے واضح ایس او پیز تیار کیے جائیں تاکہ پولیس یا عدالتی تحویل میں موجود افراد کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اسی طرح تحویل میں افراد ہلاک ہوتے رہے تو ایسے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے، عدالت نے ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کو ہدایت کی کہ مکمل اور غیر جانبدار انکوائری کرکے یہ بھی واضح کیا جائے کہ آیا ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے مارے گئے یا نہیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد اس کی نقول لواحقین کو بھی فراہم کی جائیں، جس کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کا بیٹا حمدان 29 دسمبر سے لاپتہ تھا، بعد ازاں مسنگ پرسن کیس کے دوران پولیس نے ایک مقدمے میں اس کی گرفتاری ظاہر کی، جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت نے حمدان کو 19 فروری تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے رکھا تھا۔
وکیل کے مطابق پولیس نے 17 فروری کو شاہ لطیف میں مبینہ جعلی مقابلے میں حمدان سمیت دو دیگر افراد کو قتل کیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس خود تسلیم کر چکی ہے کہ مبینہ مقابلے کے وقت ملزمان پولیس تحویل میں ہتھکڑیوں میں موجود تھے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی پولیس کے مؤقف کی نفی کرتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت حراست میں ہلاکت کے معاملے پر سات روز کے اندر انکوائری اور محکمانہ کارروائی لازم ہے، تاہم اب تک اس قانون کے تحت کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔



















































