کراچی کے بلوچ اکثریتی علاقے ملیر سے ایک نوجوان کو پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا ہے۔
لاپتہ ہونے والے نوجوان کی شناخت عاصم اصغر کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں گذشتہ دنوں ملیر کے علاقے شرافی گوٹھ میں واقع ایک فٹبال گراؤنڈ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ حراست میں لیے جانے کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
مقامی افراد اور خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم اصغر کو سادہ لباس اہلکاروں نے اپنے ساتھ لے گئے تھے، جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان سمیت کراچی کے مختلف علاقوں میں بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات کئی دہائیوں سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور متاثرہ خاندان طویل عرصے سے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
















































