بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں گزشتہ چار روز سے مکمل کرفیو نافذ ہے جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
کرفیو کے نتیجے میں تمام بازار، کاروباری مراکز، ٹرانسپورٹ اور آمد و رفت مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جبکہ رابطہ سڑکوں کی بندش کے باعث شہریوں کی معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق چار روزہ طویل اور مکمل کرفیو کے باعث اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عوام کو بنیادی ضروریات تک رسائی نہ ہونے کے سبب سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی علاقوں میں خوراک کی کمی کے باعث شیر خوار بچے بھوک سے بلک رہے ہیں جبکہ مریض مناسب طبی سہولیات اور ادویات نہ ملنے کی وجہ سے شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔
علاقے کے مختلف رابطہ راستوں کی بندش کے باعث زہری کے ساتھ ملحقہ دیہی علاقے بھی مکمل طور پر کٹ گئے ہیں، جس سے وہاں کے رہائشی مزید مشکلات میں گھر گئے ہیں۔ روڈز کی بندش کے باعث دونوں جانب ہزاروں افراد مختلف علاقوں میں پھنس گئے ہیں جو کئی دنوں سے اپنے گھروں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں اس طرح کے سخت کرفیو نے عام زندگی کو مفلوج کر دیا ہے اور عوام شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہیں۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر کرفیو میں فوری نرمی کی جائے اور خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
یاد رہے کہ ضلع نوشکی میں بھی کرفیو بدستور جاری ہے جس کے باعث وہاں کی عوام بھی مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔



















































