بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید پانچ افراد کے جبری لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں پنجگور اور خضدار کے رہائشی شامل ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق پنجگور کے علاقے نیو کمپلیکس کے قریب مسلح گاڑی سوار افراد نے دو سگے بھائیوں کو گن پوائنٹ پر اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ لاپتہ ہونے والوں کی شناخت عبداللہ اور عبداللطیف ولد غلام محمد سکنہ تارآفس کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد دونوں کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر نامعلوم مقام کی جانب لے گئے، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
دوسری جانب خضدار کے علاقے نال سے بھی دو بھائیوں کو جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 3 مارچ 2026 کو رات تقریباً دو بجے پاکستانی فورسز نے نال میں واقع گھر پر چھاپہ مار کر محمد عامر ولد جمعہ خان اور ان کے بھائی لیاقت علی ولد جمعہ خان کو حراست میں لے لیا۔
اہلخانہ کے مطابق محمد عامر سعودی عرب میں مزدوری کرتے تھے جبکہ لیاقت علی پیشے کے اعتبار سے دکاندار ہیں۔ دونوں کو گھر سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا اور اب تک ان کی بابت کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی۔
ادھر پنجگور کے علاقے پروم سے بھی ایک شخص کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق 26 فروری 2026 کو دن کے وقت پروم سے دلیپ ولد محمد نامی 42 سالہ مزدور کو نامعلوم افراد نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ واقعے کے بعد سے ان کے اہلخانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اہلخانہ نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے یا انہیں رہا کیا جائے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا نوٹس لیں۔
















































