یوکرینی ماہرین خلیجی ممالک کو ایرانی ڈرونز سے بچا پائیں گے؟

19

یوکرینی ماہرین خلیجی ممالک کو ایرانی ڈرون حملوں سے بچانے میں مدد دینے کے لیے جلد ہی خلیج فارس پہنچنے والے ہیں۔ ایک اعلیٰ یوکرینی عہدیدار کا تاہم کہنا ہے کہ اسے عملی طور پر ممکن بنانے کے معاملات فی الحال زیرِ غور ہیں۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک دن پہلے کہا تھا کہ امریکہ نے کییف سے مدد کی اپیل کی ہے تاکہ ان ایرانی ڈرونز کو مار گرایا جا سکے، جو حالیہ دنوں میں اسرائیل اور خلیجی ممالک پر حملے کر رہے ہیں۔

علاقے میں ایران کے یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر کیے گئے ان حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک اعلیٰ یوکرینی عہدیدار نے جمعہ کو اے ایف پی کو بتایا کہ یوکرینی فوجی اہلکاروں کی خلیج فارس میں آمد جلد متوقع ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ابھی مذاکرات جاری ہیں تاکہ ”یہ طے کیا جا سکے کہ اسے عملی طور پر کیسے ممکن بنایا جائے، اور فی الحال تمام معاملات زیرِ غور ہیں۔‘‘

یوکرین کا ڈرونز روکنے والا موثر نظام

روس کے یوکرین پر چار سال پہلے حملے کے بعد سے کییف نے ڈرون حملے روکنے کے لیے سستے اور مؤثر نظام تیار کیے ہیں۔ یعنی ایسے فضائی آلات جو حملہ آور ڈرونز کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیتے ہیں۔

روس نے یوکرینی شہروں اور اہم تنصیبات، خصوصاً توانائی کے مراکز پر حملوں کے لیے ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کے ہزاروں یونٹ استعمال کیے ہیں۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین کی جانب سے ڈرون مخالف مدد کے بدلے خلیجی ممالک یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کے لیے میزائل فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ  ماسکو کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حامل خلیجی ممالک کییف کی جانب سے فوجی تعاون کے بدلے روس پر دباؤ ڈال سکتے ہیں  کہ وہ یوکرین کے خلاف جنگ روک دے۔

انہوں نے مزید کہا، ”ہمارے شراکت داروں کی صلاحیتوں کے مطابق ہم یہ طے کرتے ہیں کہ بدلے میں ہمیں کیا مل سکتا ہے۔‘‘

خلیجی ممالک کی دلچسپی

یوکرین کے دفاعی شعبے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے الگ سے اے ایف پی کو بتایا کہ خلیجی ممالک میں یوکرین کی ڈرون مخالف جنگی صلاحیتوں میں ”بہت زیادہ دلچسپی‘‘ پائی جا رہی ہے، جو نجی اور سرکاری دونوں سطحوں پر ظاہر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ”یہ صرف مصنوعات یا آلات کی بات نہیں ہے بلکہ مکمل حل کی بات ہے جس میں آلات، تکنیکی حل اور ماہر ٹیمیں سب شامل ہوتی ہیں۔‘‘

مذکورہ اہلکار نے حساس فوجی معاملات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

اس ذریعے کے مطابق ایسی درخواستیں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے بھی موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے، ”اس سے ہمیں بہت زیادہ جغرافیائی و سیاسی طاقت ملتی ہے۔ اس سے ہمیں بڑی عالمی طاقتوں کے قریب بیٹھنے کا موقع ملتا ہے، اس لیے یہ ہمارے اور ہمارے ملک کے لیے بہت اہم ہے۔‘‘

ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ دفاعی حل چند دنوں سے لے کر چند ہفتوں کے اندر فراہم کیے جا سکتے ہیں۔