گوادر: ساحل کے قریب نایاب بوہیڈ گٹارفش پکڑی گئی

41

گوادر کے ساحل کے قریب نایاب اور خطرے سے دوچار بوہیڈ گٹارفش پکڑی گئی ہے جس کی تصدیق ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) نے کی ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ خطرے سے دوچار بوہیڈ گٹارفش تقریباً 30 میٹر گہرے پانی سے ملی، پکڑی گئی مچھلی کی لمبائی 140 سینٹی میٹر سے زائد اور وزن 65 کلوگرام سے زیادہ بتایا گیا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اس نایاب نسل کی تعداد میں تقریباً 80 فیصد کمی آچکی ہے اور زیادہ شکار اس کی بڑی وجہ ہے۔

عالمی سطح پر اس مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد ہے، تاہم اس کے باوجود غیر قانونی ماہی گیری کے باعث یہ نسل تیزی سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق بلوچستان میں بھی اس مچھلی کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مادہ مچھلی ایک وقت میں بہت کم بچے دیتی ہے جس کے باعث اس کی افزائشِ نسل کی رفتار سست ہے اور یہ ضرورت سے زیادہ ماہی گیری کا آسان شکار بن جاتی ہے۔

ماہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نایاب سمندری حیات کو بچانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔