کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ “سی ٹی ڈی” کی حراست میں چار بلوچ نوجوانوں کی ہلاکت کا معاملہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
ان نوجوانوں میں حمدان بھی شامل تھا، جسے 17 فروری 2026 کو شاہ لطیف ٹاؤن کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں اس وقت قتل کردیا گیا جب وہ سی ٹی ڈی تحویل میں تھے اور دو روز بعد عدالت میں پیش ہونا تھا۔
حمدان کے والد محمد علی نے اپنے بیٹے کی حراستی قتل کے خلاف باضابطہ طور پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر کراچی زون، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اسلام آباد، اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) میں درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔
درخواست میں محمد علی نے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 کے تحت کی جائیں۔
درخواست کے مطابق حمدان ولد محمد علی 5 جنوری 2026 سے سی ٹی ڈی کی تحویل میں تھا اور اس کے خلاف مختلف مقدمات درج تھے، سی ٹی ڈی پولیس نے خود عدالتی ریکارڈ میں تسلیم کیا کہ حمدان پولیس ریمانڈ پر تھا، جس کی مدت 18 فروری 2026 تک مقرر تھی، اس کے باوجود 17 فروری کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ حمدان ایک مقابلے میں مارا گیا، جسے لواحقین نے جعلی اور اسٹیجڈ مقابلہ قرار دیا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مبینہ مقابلے میں جلیل ولد محمد نور اور نیاز ولد قادر بخش بھی قتل کیا گیا، جو دونوں اس وقت سی ٹی ڈی کی حراست میں تھے، جبکہ ایک چوتھے شخص کو پولیس نے غیر شناخت شدہ قرار دیا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد پہلے ہی گرفتار تھے اس لیے مقابلے کا مؤقف ناقابلِ قبول اور قانون کے منافی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق حمدان، جلیل اور نیاز میں سے کسی کا بھی تاحال پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا، حالانکہ قانون کے مطابق حراستی موت کی صورت میں پوسٹ مارٹم لازمی ہوتا ہے، اہلِ خانہ کے مطابق لاشیں قانونی تقاضے پورے کیے بغیر دفنا دی گئیں، جس سے شفاف تحقیقات کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا۔
درخواست میں دفعہ 176 ضابطہ فوجداری (CrPC) کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی حراستی ہلاکت کی صورت میں متعلقہ علاقے کے مجسٹریٹ پر لازم ہے کہ وہ عدالتی انکوائری کرے، تاہم لواحقین کے مطابق تھانہ شاہ لطیف کے متعلقہ مجسٹریٹ کی جانب سے تاحال ایسی کوئی انکوائری شروع نہیں کی گئی۔
محمد علی نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ سی ٹی ڈی اور مقامی پولیس نہ صرف حقائق چھپا رہی ہیں بلکہ حمدان اور دیگر نوجوانوں کے قتل کی براہِ راست ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام پولیس افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔
انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سی ٹی ڈی کی حراست میں ہونے والی ان ہلاکتوں کی فوری، آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، تاکہ قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

















































