قومی تحریک اور بلوچ خواتین – سمیرا بلوچ

1

قومی تحریک اور بلوچ خواتین

تحریر: سمیرا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج کل حلقوں میں ہر طرف قومی تحریک میں بلوچ خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں شمولیت پر ایک شور سا برپا ہے۔ خوف، فکر، سوالات اور خدشات شاید اس وجہ سے لاحق ہیں، کیونکہ ماضی میں جتنی بھی آزادی کی تحریکوں میں خواتین کی شمولیت رہی ہے، وہ شاید کامیاب تجربے ثابت نہیں ہوئے ہیں لیکن ضروری نہیں ہے کہ ہر بار یہ تجربہ ناکام یا نتیجہ خیز ثابت نہ ہو؛ ضروری نہیں کہ ہر تجربہ پہلی ہی بار میں کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔ میں بلوچ تحریک کا موازنہ کبھی بھی کسی دوسرے ملک کی تحریک سے نہیں کروں گی، کیونکہ ہر علاقے کے جغرافیائی، زمینی حقائق اور ان کی ساخت بالکل الگ ہوتی ہے۔ ہاں، جنگی طریقۂ کار میں مماثلت ہو سکتی ہے، لیکن اگر ہم بالکل اسی طرز کی جنگ کریں، جیسے کرد یا تامل ٹائیگرز کرتے تھے، تو ہم خود کو بس نقصان دیں گے اور اس جنگ کا حاصل کچھ بھی نہیں ہوگا۔

خوف، فکر اور خدشہ یہ ہے کہ کیا یہ تحریک، جسے ہم نے اپنی بقا، شناخت اور پہچان کے لیے شروع کیا ہے، جس میں ہزاروں بلوچوں کا خون شامل ہے، کہیں ایک ہلکی سی لغزش سے یہ سب کچھ ملیامیٹ نہ ہو جائے؟ جن کندھوں پر چلتن کے پہاڑ کے بوجھ سے بھی بڑی ذمہ داری ہے، کیا وہ اس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکیں گے؟

بلوچ خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں اس جنگ میں شمولیت تحریک کو توانا کرے گی، یا کہیں اس کی کمزوری کا سبب نہ بن جائے؟ عورت کی جسمانی اور نفسیاتی کمزوری کہیں ہماری شکست نہ بن جائے؟

تو چلیں، تھوڑا تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر دنیا میں آزادی کی تحریکوں میں عورتوں کے غیر معمولی اور فیصلہ کن کردار کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

الجزائر کی فرانس سے آزادی کے لیے جنگ میں جمیلہ بوحیرد اور جمیلہ بوعزہ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ فلسطینی تحریک میں لیلیٰ خالد جیسی خواتین اور عام فلسطینی ماؤں کا کلیدی کردار آج بھی تاریخ میں زندہ ہے۔ کرد خواتین کی تحریک اور شام میں داعش کے خلاف جنگ میں خواتین دنیا بھر میں مشہور ہوئیں۔ تامل ٹائیگرز میں ’’فریڈم برڈز‘‘ کے نام سے خواتین کا باقاعدہ جنگی دستہ تھا، جو خودکش حملوں سمیت فرنٹ لائن پر لڑتا تھا۔

نیپال کی ماؤ نواز گوریلاؤں میں تقریباً ایک تہائی جنگجو خواتین تھیں۔ بنگلہ دیش کی پاکستان سے آزادی کی جنگ میں خواتین نے مکتی باہنی کی مدد اور بیرونی دنیا میں سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔ جنوبی افریقہ کی انسدادِ نسل پرستی کی تحریک میں ویننی مینڈیلا اور ہزاروں سیاہ فام خواتین نے ANC کی جدوجہد کو گھروں اور سڑکوں، دونوں پر زندہ رکھا۔

اس کے علاوہ اسلامی تاریخ میں بھی عورتوں کا جنگ میں خاصا نمایاں کردار رہا ہے۔ پیغمبرِ اسلام ﷺ کے دور اور صحابہؓ کے دور میں خواتین جنگوں میں شریک ہوتی تھیں۔

حضرت نسیبہ بنت کعبؓ (اُمِّ عمارہؓ) نے جب غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کی صفیں بکھرتی دیکھیں تو تلوار اٹھائی اور نبی ﷺ کا دفاع کیا۔ انہیں تیرہ زخم آئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اُحد کے دن میں نے جس طرف بھی دیکھا، اُمِّ عمارہؓ کو لڑتے پایا۔‘‘

حضرت صفیہؓ نے غزوۂ خندق میں، جب ایک یہودی جاسوس اس قلعے کے قریب آیا جہاں عورتیں اور بچے تھے، تو خود اسے قتل کیا۔ بی بی زینبؓ کی میدانِ کربلا میں بہادری اور استقامت اپنی مثال آپ ہے۔

علماء کے مطابق عورتوں پر جہاد فرض نہیں، لیکن اگر دشمن شہر پر حملہ کر دے، جیسے اُحد میں ہوا، تو دفاع کے لیے عورتوں کا لڑنا جائز ہے۔ تو اب جب بلوچ خواتین میدانِ جنگ میں آ گئی ہیں، اتنا واویلا کیوں؟ جنگ کو کوئی اپنی پسند اور شوق سے نہیں اپناتا۔ جب جنگ آپ پر مسلط کر دی جاتی ہے تو انسان سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہوتا ہے۔ بلوچوں کی یہ جنگ، جس میں اب خواتین بھی شامل ہو چکی ہیں، کسی بلیک میلنگ یا برین واشنگ کا لائحۂ عمل نہیں ہے، بلکہ یہ محبِ وطنی اور اپنی بقا کی جنگ ہے۔ جب آپ بلوچ خواتین کو احتجاج کرنے کا حق نہیں دیں گے، جب بلوچ خواتین کو اپنی قوم پر کیے گئے ظلم کے بارے میں لکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، جب بلوچ رہنماؤں کو پابندِ سلاسل کرکے ان کی آواز دنیا تک نہیں پہنچنے دیں گے، تو بلوچ خاتون بندوق نہ اٹھائے تو کیا کرے؟

جب بلوچ ماؤں کے نوجوان بچوں کو گھروں سے ان کے سامنے اغوا کرکے لے جاؤ گے اور پھر ان کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینک دو گے، تو بلوچ ماں اور بہنیں بندوق نہ اٹھائیں تو کیا کریں گی؟ پُرامن احتجاج کو ریاست نہیں مانتی۔ ماما قدیر اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پُرامن احتجاج کرکے اسلام آباد تک گئے تھے؛ ان کو ریاست نے کیا دیا؟ یہ ہم سب کو پتا ہے۔ آپ لوگوں میں سے بہت سے لوگوں نے میکسم گورکی کی کتاب میں ماں کا کردار پڑھا ہوگا، لیکن بلوچستان کی سڑکوں پر آپ کو ماں کا کردار جیتا جاگتا دیکھنے کو ملے گا۔ ذاکر مجید بلوچ کی ماں کئی سالوں تک سڑکوں کی خاک چھانتی رہی، لیکن سوائے مایوسی کے، اسے اور اس جیسی کئی بلوچ ماؤں کو کچھ نہیں ملا۔ آج اگر حالات یہ ہو گئے ہیں کہ بلوچ خواتین نے مزاحمت کی راہ اپنائی ہے، تو اس کی ذمہ دار خود ریاست ہے۔

مجھے اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ مجھے تاریخ کی کتابوں میں ظلم اور قابض سے متعلق پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی، کیونکہ میں وہ سب اپنی آنکھوں سے بلوچستان میں ہوتا ہوا دیکھ رہی ہوں۔ بلوچوں کی سرزمین پر خود ایک تاریخ بننے جا رہی ہے، جو مظلوم کی ظلم کے خلاف فتح کی تاریخ ہوگی۔ مستقبل میں مظلوم اقوام بلوچ قوم کی تاریخ پڑھ کر ظلم کے خلاف اپنی جنگ لڑیں گی، بشرطیکہ بلوچ اپنی تحریک کو اسی جذبے اور استحکام کے ساتھ آگے لے جائیں اور اسے کامیابی سے ہمکنار کریں۔

بلوچ خواتین کی شمولیت سے بلوچوں کی تحریک میں غیر معمولی توانائی تو آئی ہے، لیکن اس بات کا خیال بھی رکھا جائے کہ اس توانائی کو طاقت کی شکل میں حسبِ ضرورت استعمال کیا جائے، نہ کہ بے دریغ؛ کیونکہ طاقت کا بے جا استعمال بھی طاقت کو کمزور اور بے معیار کر دیتا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔