بانُک الماس بلوچ — مادرِ وطن کی دلہن
تحریر: لکو بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
وہ ایک لڑکی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک پورا سمندر آباد تھا۔ وہ ایک عام زندگی سے آئی تھی۔ وہ زندگی جس میں خواب چھوٹے ہوتے ہیں، جہاں لڑکیوں کے لیے کتابیں بند کر دی جاتی ہیں اور دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ تم اسی راستے پر جاؤ لیکن اس نے ایک اور خواب دیکھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ اس کا ساحل اداس ہے، اس کے پہاڑ خاموش ہیں، اس کی زمین پر کسی اور کے قدموں کے نشان ہیں۔
ایک دن اس نے اپنی پرانی زندگی کو بڑی نرمی سے، بڑے ادب سے، ایک طرف رکھ دیا۔ جیسے کوئی اپنی پسندیدہ چادر اتار کر رکھ دے۔ اس نے کہا، ”مجھے معاف کرنا، میں اس زندگی کے لیے نہیں بنی۔ میں اس قوم کے لیے بنی ہوں جس کا کوئی نام لینے والا نہیں۔“
لوگوں نے کہا، ”تم اکیلی کیا کرو گی؟ ایک ظالم ریاست کے سامنے، جس کے پاس فوج ہے، قانون ہے، جیل ہے، بندوق ہے؟“
اس نے جواب نہیں دیا۔ اس نے اپنی مادرِ وطن سے محبت کرنا شروع کر دی۔ ایسی محبت جیسی کوئی عاشق کرتا ہے۔ اس نے زمین سے کہا، ”میں تمہاری ہوں۔“ اس نے سمندر سے کہا، ”میں تمہارے لیے لڑوں گی۔“ اس نے کہا، ”میں نے تم سے شادی کر لی ہے۔“ یہ شادی کسی نکاح خواں نے نہیں پڑھائی۔ یہ شادی اس نے اپنی روح میں پڑھی تھی۔ اس کا جہیز کوئی سونا نہیں تھا۔ اس کا جہیز اس کے پہاڑ تھے، اس کا سمندر تھا، اس کا نیلگوں آسمان تھا۔
وہ بلوچستان کی بیٹی تھی۔ وہ سمندر کے لیے لڑی۔ وہ کہتی تھی، ”یہ سمندر جو گوادر سے جیوانی تک پھیلا ہوا ہے، یہ صرف پانی نہیں ہے، یہ میری ماں کی لوری ہے۔ اس پر پہرہ کیوں ہے؟ اس پر سودا کیوں ہو رہا ہے؟“
وہ زمین کے لیے لڑی۔ وہ کہتی تھی، ”یہ زمین جس میں میرے آباؤ اجداد سو رہے ہیں، جس میں میرے دادا کی کہانیاں دفن ہیں، اسے کوئی کاغذ پر دستخط کر کے کیسے بیچ سکتا ہے؟“
ریاست بڑی تھی، بے رحم تھی۔ اس نے اس کی سہیلیوں کو غائب کر دیا، اس کے بھائیوں کو اٹھا لیا، اس کے گاؤں کے راستوں پر چوکیاں بنا دیں۔ ہر دیوار پر اس کے لیے ایک نیا الزام لکھ دیا۔ لیکن وہ ڈری نہیں۔ جس نے اپنی جان اپنی زمین کو دے دی ہو، اسے کوئی ڈرا نہیں سکتا۔
اس نے اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت سال اس جنگل میں، اس پہاڑ میں گزارے۔ وہاں، جہاں کوئی آئینہ نہیں ہوتا، جہاں انسان اپنی اصل شکل میں نظر آتا ہے۔ اس کی آنکھیں مزید گہری ہو گئیں، اس کا لہجہ مزید نرم ہو گیا، لیکن اس کا ارادہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گیا۔
پھر وہ دن آیا۔ آخری دن۔
ایک چھوٹا سا کمرہ۔ باہر ریاست کی پوری طاقت۔ اندر وہ اکیلی۔ اس کے پاس گولیاں ختم ہو رہی تھیں۔ اس نے ایک ایک گولی کا حساب رکھا تھا۔ ہر گولی اس نے اپنی قوم کے نام کی تھی۔
آخری گولی اس نے اپنے لیے رکھی تھی۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ”میں زندہ ہاتھ نہیں آؤں گی۔ میرا جسم میری آخری زمین ہے۔ اس زمین پر کسی دشمن کا پرچم نہیں لہرائے گا۔“ یہ شکست نہیں تھی۔ یہ فتح تھی۔ یہ اس کی مرضی تھی۔ اس نے اپنی موت کو بھی اپنی شادی کا حصہ بنا دیا۔ وہ اپنی مادرِ وطن کی گود میں سو گئی۔
لوگ کہتے ہیں وہ مر گئی۔
وہ سو رہی ہے۔ اس کے چہرے پر سکون ہے۔ جیسے کوئی دلہن اپنی شادی کے بعد پہلی بار سکون سے سوئی ہو۔ اس کے کپڑے پر جو کڑھائی ہے، وہ اس کی ماں نے کی تھی۔ اس کڑھائی میں اس کی ماں کی دعا تھی۔ آج وہ دعا پوری ہو گئی۔ وہ اپنی زمین سے مل گئی۔
اے الماس! تم نے اپنی عام زندگی چھوڑ دی، تاکہ تمہاری قوم کی زندگی عام ہو سکے۔ تم نے اپنی محبت قربان کر دی، تاکہ تمہاری زمین سے محبت باقی رہے۔
تمہارا سمندر آج بھی تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ تمہاری لہریں تمہارا نام لے رہی ہیں۔ تمہارے پہاڑ آج بھی تمہاری آواز میں گونج رہے ہیں۔
تم نہیں مریں۔ تم اپنی مادرِ وطن سے بیاہی گئی ہو۔ اور بلوچستان میں، ایسی دلہنیں کبھی نہیں مرتیں۔ وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، ہر لڑکی کی آنکھ میں، ہر ماں کی دعا میں، ہر ساحل کی ہوا میں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































