پاس ہو کر بھی دور – شاہ میر بلوچ

10

پاس ہو کر بھی دور

تحریر: شاہ میر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

چلتے ہوئے پہاڑوں کے دامن میں، اپنی شناخت سے جڑے ہر تلار کو غور سے دیکھتے ہوئے، ایک مسافر آگے بڑھ رہا تھا۔ راستے میں موجود باغات اس خشک زمین کی خوبصورتی کو اور بڑھا رہے تھے۔ وہ ان مناظر میں کھویا ہوا تھا، مگر اس کے ذہن میں پہاڑوں پر موجود مجاہدوں اور ان کی زندگی کے سوال گردش کر رہے تھے۔

نجانے وہ کیا سوچ رہا تھا۔ کتابوں میں پڑھا ہوا بلوچستان اور حقیقت کا بلوچستان اسے دو الگ دنیائیں لگ رہے تھے۔ یہاں مہمان نوازی کے بجائے ہر نگاہ میں احتیاط تھی۔ ہر شخص اجنبی کو غور سے دیکھتا تھا۔ نظروں میں اپنائیت کم اور فاصلے زیادہ محسوس ہوتے تھے، مگر وہ جانتا تھا کہ یہ نفرت نہیں بلکہ حالات کی پیدا کی ہوئی مجبوری تھی۔

وہ سوچتا کہ کتابوں میں فاروق بلوچ نے جن روایات، مہمان نوازی اور بلوچ اقدار کا ذکر کیا ہے، کیا وہ سب غلط تھا؟ پھر خود ہی جواب ڈھونڈنے لگتا۔ شاید نہیں۔ شاید حالات نے لوگوں کو بدل دیا ہیں۔ شاید یہاں ہر چرواہا، ہر کسان اور ہر راہی اس لیے محتاط تھا کہ وہ پہاڑوں پر موجود سرمچاروں کو کسی اجنبی کی آمد کی خبر دے سکے۔ یہ شک نہیں تھا، بلکہ حفاظت کا ایک طریقہ تھا۔

پھر اس کے دل میں ایک اور سوال اٹھتا۔ کیا یہ حالات ہر اپنے کو بھی اجنبی نہیں بنا دیتے؟ کیا ایک شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی سرزمین کی خوبصورتی کو بے خوف ہو کر دیکھ سکے؟ ان پہاڑوں کے قریب جا سکے جنہوں نے برسوں سے مزاحمت، قربانی اور آزادی کی کہانیاں اپنے سینے میں چھپا رکھی ہیں؟

وہ سوچتا رہا کہ آخر کیوں لوگ بعض اوقات ان پہاڑوں پر اتنا بھروسہ کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ جب بستیاں جلائی گئیں، جب لوگ بے گھر ہوئے اور جب اپنی زمین پر جینا مشکل بنا دیا گیا، تب یہی پہاڑ تھے جنہوں نے پناہ دی۔ یہی چٹانیں تھیں جنہوں نے حفاظت کی اور یہی بلند چوٹیاں تھیں جنہوں نے امید کو زندہ رکھا۔

سفر کے دوران مسافر نے بہت سے ایسے مناظر دیکھے جنہیں لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا۔ ان لمحوں میں خوبصورتی بھی تھی اور درد بھی۔ وہاں موجود لوگ اپنی روزمرہ زندگی گزار رہے تھے، مگر ہر ایک کے دل میں سرمچاروں کے لیے فکر موجود تھی۔ چرواہے، کسان، اسکول جاتے بچے اور پانی لاتی عورتیں، سب اجنبیوں کو غور سے دیکھتے تھے۔ کیونکہ ان کے لیے سرمچار صرف لوگ نہیں تھے، بلکہ ان کی امید اور ان کی حفاظت کی علامت تھے۔

اسی سفر میں اچانک اس کی نظر اپنے ایک دوست پر پڑی۔ وہ دوست جو ہمیشہ صاف ستھرے اور استری شدہ کپڑے پہنتا تھا۔ اپنے چہرے پر گرد کا ایک ذرہ بھی برداشت نہیں کرتا تھا۔ کبھی نوروزی کے جوتے پہنتا، کبھی باٹا کے، اور ہمیشہ اچھے کپڑوں کا انتخاب کرتا تھا۔

مگر آج وہ بالکل مختلف تھا۔

اس کے کپڑے پسینے سے بھیگے ہوئے تھے، بلوچی جوتے پرانے ہو چکے تھے، داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ مگر اس کی آنکھوں میں پہلے سے زیادہ چمک تھی۔ یہ چمک کپڑوں یا ظاہری خوبصورتی کی نہیں، بلکہ مقصد اور یقین کی تھی۔

مسافر اسے دیکھ کر خوشی سے بھر گیا۔ دل چاہا کہ دوڑ کر اسے گلے لگا لے۔ مگر جب وہ قریب پہنچا تو دوست نے صرف ایک اجنبی کی طرح سلام کیا۔ نہ پہچان ظاہر کی، نہ کوئی خاص بات کی، اور خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔

یہ لمحہ مسافر کے لیے بہت بھاری تھا۔

وہ دل ہی دل میں کہنے لگا:

“میں وہی ہوں جس کے ساتھ تم نے گھنٹوں بلوچستان پر باتیں کیں۔ میں وہی ہوں جس کے ساتھ تم نے خوشیاں اور غم بانٹے۔ پھر آج تم مجھے پہچان کر بھی انجان کیوں بن رہے ہو؟”

کافی دیر سوچنے کے بعد اسے جواب مل گیا۔

شاید اس کا دوست بدل نہیں گیا تھا۔ شاید وہ پہلے سے زیادہ وفادار ہو گیا تھا۔ شاید وہ نہیں چاہتا تھا کہ دوسروں کے سامنے ان کی پہچان ظاہر ہو۔ شاید وہ کسی خطرے سے بچانا چاہتا تھا۔ شاید وہ جانتا تھا کہ یہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی کسی کے لیے مشکل پیدا کر سکتی ہے۔

تب مسافر کو احساس ہوا کہ اس کا دوست اب صرف دوست نہیں رہا تھا۔ وہ ایک قومی سپاہی بن چکا تھا۔ ایسا سپاہی جو اپنی ذات سے پہلے دوسروں کی حفاظت کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس کا خاموش رہنا بے رخی نہیں تھا، اس کا انجان بن جانا نفرت نہیں تھا، بلکہ ایک ذمہ داری تھی۔

تب مسافر نے سمجھا کہ بعض اوقات سب سے گہری محبت وہ ہوتی ہے جو ظاہر نہیں کی جاتی، اور بعض اوقات انسان پاس ہو کر بھی دور رہتا ہے تاکہ اپنے لوگوں کو محفوظ رکھ سکے۔

مسافر خود سے اور اپنے اردگرد کے حالات سے سوالات کرنے لگا۔ ایسے دوست، جو کبھی ہم سفر تھے، آج پاس ہو کر بھی دور ہیں۔ یہ کیسا وقت آ گیا ہے؟ یہ کیسا امتحان ہے؟ اس سے نجات کب ملے گی؟ کب دوست بلا خوف اپنے دوست کو گلے لگا سکے گا؟ کب بوڑھی ماں کو اپنے لختِ جگر کے بچھڑنے کا خوف نہیں رہے گا؟ کب ریاست واقعی اپنی محسوس ہوگی؟
کیوں دنیا طاقت کے نشے میں لوگوں کو غلام بناتی ہے؟ اور ہم ایسے خطے میں کیوں پیدا ہوئے جہاں زمین جنگ کی لپیٹ میں ہے؟
وہ خاموشی سے ان سوالوں کے جواب تلاش کر رہا تھا کہ اچانک اسے محسوس ہوا: اگر جنگ نہ ہوتی تو امن کی خوبصورتی کو کیسے سمجھا جاتا؟ اگر وہ ان حالات میں پیدا نہ ہوتا تو کردار کے عملی مفہوم کو کیسے پہچان پاتا؟ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو کٹھن حالات میں جنم لے کر انہیں بدلنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور خود تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
لیکن کیا تاریخ کا حصہ بننا صرف بندوق اٹھانے کا نام ہے؟ بندوق تو ایک ڈیتھ اسکواڈ کا اہلکار بھی اٹھاتا ہے۔ اصل فرق مقصد، شعور اور کردار کا ہوتا ہے۔

مسافر انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک اسے یاد آیا کہ وہ تو ابھی اس کاروان کا حصہ ہی نہیں۔ ایک خوف اس کے اندر سرایت کر گیا؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا وجود تاریخ کے صفحات میں جگہ ہی نہ پا سکے۔ آخر تاریخ ہی تو وجود کا تسلسل ہے، وہ آئینہ ہے جس میں قومیں خود کو پہچانتی ہیں۔
وہ سوچنے لگا کہ اگر انسان اپنے عہد کے سوالوں سے منہ موڑ لے، اپنے لوگوں کے دکھ درد سے لاتعلق ہو جائے اور اپنے حصے کی ذمہ داری ادا نہ کرے، تو پھر اس کے وجود اور عدمِ وجود میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ تاریخ صرف زندہ رہنے والوں کو یاد نہیں رکھتی، بلکہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے وقت کے مشکل ترین حالات میں بھی کردار، فکر اور عمل کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
یہ خیال آتے ہی مسافر کے قدم پہلے سے زیادہ مضبوط محسوس ہونے لگے، گویا اس نے اپنی منزل نہیں تو کم از کم اپنی سمت ضرور پہچان لی ہو۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔