علاقائی جنگیں، بیلنس آف پاور، ڈیٹرنس پالیسی، طاقت کی جنگ، اور سہ نکاتی بلوچ ایجنڈا – ہارون بلوچ

76

علاقائی جنگیں، بیلنس آف پاور، ڈیٹرنس پالیسی، طاقت کی جنگ، اور سہ نکاتی بلوچ ایجنڈا

تحریر: ہارون بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ایران کی جانب سے گزشتہ چالیس سالہ دو طرفہ دشمنی پر مبنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل پر پہل کرتے ہوئے حملے کا آغاز کرنے سے انہوں نے بنا کسی جواز کے یہ ثابت کر دیا کہ گزشتہ کچھ مہینوں سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ حقیقی معنوں میں کس کے پلڑے میں پڑی ہے۔ گو کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ مہینوں میں اسرائیل اور امریکہ نے آپریشنل، انٹیلی جنس اور فضائی فوجی طاقت کے ذریعے ایران کو بڑے پیمانے پر نقصانات سے دوچار کیا ہے، مگر نقصان سے زیادہ ہمیشہ نتیجہ جنگ کا فیصلہ کرتا ہے کہ نتیجہ کس کے حق میں گیا ہے، اور ہمیشہ نتیجہ جیتنے والا ہی جنگ میں فتح یاب تصور ہوتا ہے۔ ایران فضائی دفاع کے معاملے میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آتا رہا ہے۔ ایران کے اندر امریکی ہیلی کاپٹروں کے آپریشن اور اپنے پائلٹس کو ایران سے ریسکیو کرنے سے انہوں نے ثابت کر دیا کہ ایران فضائی دفاع کے معاملے میں اس وقت بہت زیادہ کمزور ہے اور امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کے سامنے ایران کی ایئر فورس اور دفاعی نظام بڑی حد تک ناکارہ ثابت ہوا ہے لیکن فضائی دفاع کے علاوہ انہوں نے بڑی تصویر میں کئی اہم فوائد حاصل کیے ہیں، بالخصوص اپنی ڈیٹرنس ثابت کرنے میں انہوں نے کافی کچھ دکھایا ہے۔

ایران پر امریکی حملے سے پہلے کئی تجزیہ نگار کہہ رہے تھے کہ ایران دونوں طاقتوں کے یکجا حملے کا سامنا نہیں کر سکتا، اور کئی لوگ ایران میں رجیم چینج کو ایک حقیقت کی شکل میں دیکھ رہے تھے۔ لیکن گزشتہ چالیس سالوں میں ایران نے اپنی ڈیٹرنس پالیسی کے تحت میزائلوں اور ڈرونز پر جس نوعیت میں کام کیا ہے، اس نے جوہری طاقت کے بغیر بھی ایران کے دفاع کو مضبوط بنایا ہے۔ ایران کی خطے میں بالادستی کا ایک اور بنیادی سبب یہ ہے کہ خطے میں دیگر کمزور ممالک اپنی سیکیورٹی خود سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں، اس لیے وہ نہ ایران کے خلاف کوئی بڑا ردعمل دے سکتے ہیں اور نہ ہی امریکہ کو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روک سکتے ہیں۔اس پوری جنگ میں جس طرح عرب ممالک اور بالخصوص سعودی عرب کی نام نہاد سیکیورٹی ایکسپوز ہوئی ہے، اس کا اندازہ پہلے کسی کو بھی نہیں تھا۔ سعودی عرب نے اسی خوف کے تناظر میں کچھ عرصہ پہلے پاکستان جیسے انتہائی جنگ زدہ اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایک ناکام ملک کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جو مکمل طور پر علامتی تھا، تاکہ ایران پاکستان کے ساتھ اس معاہدے کو دیکھ کر سعودی عرب پر کسی بھی حملے سے اجتناب کرے۔ لیکن انہوں نے سعودی عرب پر حملوں کے دوران کسی بھی چیز کا خیال نہیں رکھا، کیونکہ انہیں سعودی عرب کی طاقت کا اچھی طرح اندازہ ہے۔

ایران جنگ نے ان عرب ممالک کو اس طرح لاوارث اور بے بس دکھا کر ایک اور اہم نکتہ واضح کیا ہے کہ معاشی حوالے سے آپ چاہے جتنا بھی طاقت ور اور خوشحال ہوں، لیکن جب تک آپ کے ملک کے پاس ایک مضبوط اور منظم دفاعی قوت موجود نہ ہو، اس وقت تک وہ ایک آسان ہدف رہتا ہے اور کوئی بھی ملک کسی بھی مرحلے پر آپ کے ملک کو نقصان پہنچا سکتا ہے، کیونکہ دفاع کسی بھی ریاست کی پہلی شرط ہوتا ہے۔عرب ممالک معاشی حوالے سے انتہائی خوشحال ممالک سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کی ڈیٹرنس اور دفاعی قوت کا دارومدار امریکہ پر ہے۔ چونکہ امریکہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے، اس لیے اس نے ایران پر حملہ عرب ممالک کی سیکیورٹی اور مفادات کو دیکھ کر نہیں بلکہ اسرائیل اور اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر کیا، جبکہ اس کے سب سے زیادہ نقصانات امریکہ سے زیادہ عرب ممالک کو برداشت کرنا پڑے۔عرب ممالک کے رہنماؤں کی بار بار کوششوں کے باوجود امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا۔ کمزور ریاستوں کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اسرائیل کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ جب آپ اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داری خود نہیں اٹھائیں گے تو کوئی بھی بڑی سے بڑی طاقت آپ کی مکمل حفاظت نہیں کر سکے گی۔ اسی لیے جب ایران نے پہلی دفعہ اسرائیل پر حملہ کر کے اسرائیل کی سیکیورٹی ڈائنامکس اور ڈیٹرنس پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی، تو اس سلسلے میں امریکی صدر کی واضح ہدایت اور وارننگ کے باوجود اسرائیل نے ایران پر جوابی حملے کیے اور واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی صورت اپنی سیکیورٹی اور ڈیٹرنس پالیسی میں تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔

دوسری جانب اسرائیل نے اپنے حملوں کے ذریعے امریکہ کو بھی واضح پیغام دیا کہ اگرچہ امریکہ اسرائیل کے لیے ایک اہم اتحادی کے طور پر موجود ہے، لیکن اسرائیل کسی بھی سطح پر اپنی سیکیورٹی مکمل طور پر امریکہ کے حوالے نہیں کر سکتا۔ اسی لیے اس نے ایران کی نئی متعارف کردہ جارحانہ پالیسی کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔اسرائیل کسی صورت اپنے لیے ایسے حالات کو معمول کا حصہ نہیں بنا سکتا جہاں لبنان یا خطے کے کسی دوسرے ملک میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صورت میں اسے ایران کے حملوں کا خوف لاحق رہے، جو حالیہ جنگ سے پہلے موجود نہیں تھا۔ اسی لیے اسرائیل نے امریکی صدر کی ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے نہ صرف ایران پر جوابی حملہ کیا بلکہ لبنان میں بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔اپنے حالیہ جارحانہ رویے کے تحت اسرائیل پہلے ہی جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکی اور ایرانی خواہشات اور کوششوں کے باوجود اسرائیل ان علاقوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ مسلسل لبنان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرے، جو موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے کسی بھی طرح ممکن نظر نہیں آتا، کیونکہ تاحال اسرائیل اور امریکہ حماس کو بھی غیر مسلح کرنے میں ناکام رہے ہیں، حالانکہ یہ ان کی جنگ بندی کے وقت کی اہم پالیسی کا حصہ تھا۔حماس اس وقت خاموش ضرور ہے، مگر غیر مسلح نہیں ہے، اور غزہ میں آج بھی اس کا اندرونی غلبہ بڑی حد تک برقرار ہے۔

اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز، بشمول ان کے سپریم لیڈر خامنہ ای، کو مار کر اور ایران کی کئی اہم معاشی، فوجی اور آئل تنصیبات کو نشانہ بنا کر یقیناً بھاری نقصانات پہنچائے ہیں، لیکن جنگ جیتنے یا جنگ میں حاوی ہونے کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ جنگ میں محض اعداد و شمار کبھی بھی فتح کا فیصلہ نہیں کرتے۔  دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو تقریباً 70 لاکھ جانی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سوویت یونین کو اس سے تقریباً تین گنا زیادہ، یعنی دو کروڑ سے زائد انسانی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اس کے باوجود جنگ میں فتح سوویت یونین کی ہوئی اور جرمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔طاقت ور اور کمزور ریاستوں کے درمیان بنیادی فرق یہ ہوتا ہے کہ طاقت ور ریاستیں اپنی فوجی طاقت، پالیسیوں اور ان کی تشکیل کمزور ریاستوں کے مقابلے میں مختلف انداز میں کرتی ہیں۔ طاقت ور ممالک میں ایک چھوٹا سا حملہ بھی کسی کمزور ملک میں بڑے پیمانے پر ہونے والے حملوں سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ اسی نقطے پر ان کی طاقت قائم رہتی ہے کہ وہ  لاجواب ہیں۔  وہ اپنی سیکیورٹی کا معیار اسی انداز میں تشکیل دیتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر امریکہ کے 50 فوجی کسی مسلح حملے میں ہلاک ہو جائیں تو وہ دنیا میں نہ جانے کتنے ممالک پر حملے کرے گا، اس کے پیچھے موجود ہر کردار کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا، اس پر مہمات چلیں گی، کتابیں لکھی جائیں گی، ٹی وی شوز منعقد ہوں گے، دنیا بھر میں تبصرے ہوں گے، سیکیورٹی پالیسی مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی، اور نہ جانے کتنی چیزیں عالمی نظام کے حوالے سے بدل جائیں گی، کیونکہ وہ ایک طاقت ور ریاست ہے۔جبکہ دوسری جانب سوڈان میں لاکھوں لوگ مہینوں کے دوران مارے جاتے ہیں، پاکستان جیسے ممالک میں سالانہ ہزاروں فوجی بلوچ سرمچاروں یا دیگر حملوں میں موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں، لیکن اس نوعیت کا کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آتا، کیونکہ یہ بنیادی طور پر کمزور ریاستیں ہوتی ہیں۔اسی لیے ریئلسٹ اپروچ میں کمزور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی آزادی کسی بھی وقت چھن سکتی ہے، آپ کسی بھی وقت حملے کی زد میں آ سکتے ہیں، اور آپ کی سیکیورٹی کسی بھی وقت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

حالیہ ایران اور امریکہ کی جنگ میں بھی یہی دیکھنے کو ملا کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے ان کمزور ممالک کو نشانہ بنایا، بالخصوص کویت، متحدہ عرب امارات، قطر،  اور بحرین، جو ایران کو کسی بھی مؤثر جوابی حملے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اگر یہ طاقت ور ریاستیں ہوتیں تو وہ کسی بھی صورت اپنے ملک پر اس طرح مسلسل حملے ہونے نہ دیتیں بلکہ جوابی کارروائیوں میں ایسے نقصانات پہنچاتیں کہ ایران دوبارہ ان پر حملہ کرنے کے لیے ضرور سوچتا۔موجودہ عالمی سیاسی نظام طاقت ور ریاستوں ہی کا تشکیل دیا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز میں جب امریکی ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا جاتا ہے تو اس کے جواب میں امریکہ ایران پر کئی فضائی حملے کرتا ہے، جبکہ ان ممالک پر ہزاروں ڈرون اور میزائل حملوں کے باوجود وہ کوئی مؤثر جواب دینے سے قاصر رہے۔ اس صورتحال سے ایران کو خطے میں ایک بہت بڑا اعتماد ملا ہے، جو یقیناً اس جنگ کے دوران ایران اپنی اہم اور اسٹریٹجک کامیابی کے طور پر ہمیشہ دیکھے گا اور آنے والے دنوں میں خطے میں اپنی بالادستی کو مزید عملی شکل دینے کی کوشش کرے گا۔کیونکہ اس جنگ نے ایک بات واضح کر دی کہ خطے میں بیلنس آف پاور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان قائم ہے، جبکہ دیگر ممالک کی فوجی طاقت کی  حیثیت ظاہری ہے۔ حتیٰ کہ حالیہ آپریشن کے دوران ایران نے اردن کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا۔ اردن پر حملوں کے بعد اب اس خطے میں ایرانی اتحادیوں کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی ایسا ملک باقی ہو جہاں ایران نے کسی نہ کسی شکل میں حملے نہ کیے ہوں، جو یقیناً آنے والے وقت میں خطے کے اندر بیلنس آف پاور پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

پاکستان جوہری ہتھیاروں کو لے کر کسی نہ کسی سطح پر عالمی اور علاقائی سیاست میں اپنی ریلیونسی قائم رکھنے کی ناکام کوشش کرتا رہتا ہے، لیکن پاکستان کی ایک مصنوعی یا سہولت کار (کولیبریٹر) کی حیثیت سے موجودگی ضرور ہے، مگر وہ بڑی حد تک ایک علامتی حیثیت ہے اور حقیقی معنوں میں اثرانداز ہونے کی صلاحیت سے محروم ہے۔اثرانداز ثالث یا مؤثر کردار امریکہ جیسی طاقتوں کا ہوتا ہے، جو ایران جیسے ممالک کی فیصلہ سازی پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں، حتیٰ کہ جن کے خلاف وہ لڑ رہے ہوں۔ اسی طرح وہ اسرائیل کو کسی بھی وقت کسی حملے سے روکنے یا اس میں مداخلت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔پاکستان میں چند اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر صحافی اس بات کو بہت زیادہ ہوا دے رہے ہیں کہ پاکستان اب ایک علاقائی پاور یا علاقائی طاقت بن چکا ہے کیونکہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن عالمی سیاست کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے والا کوئی بھی ذی شعور شخص اس بات سے آگاہ ہے کہ پاکستان کی ثالثی کا حقیقی مقام کیا ہے۔چونکہ اس وقت بیشتر عرب ممالک، جو امریکہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، جو ہمیشہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرتے آئے ہیں، حالیہ دنوں میں شدید ایرانی حملوں کی زد میں رہے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کوئی ایسی منظم ریاست موجود نہیں جہاں بیٹھ کر امریکہ اور ایران براہ راست بات چیت کر سکیں۔ دوسری جانب بھارت اپنی الگ حیثیت رکھتا ہے اور وہ امریکہ کا محض پیغام رساں نہیں بن سکتا۔ ایک علاقائی طاقت کی حیثیت سے اگر وہ ثالثی کی میز پر آتا ہے تو اس کی اپنی شرائط ہوتی ہیں اور اپنی باتوں پر عمل درآمد کروانے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

روس پہلے ہی یوکرین کے معاملے میں مغرب، بالخصوص امریکہ، کے خلاف ایک سرد جنگ کی کیفیت میں شریک ہے۔امریکہ چین کی ثالثی سے خوش نہیں ہوگا۔  اس لیے پاکستان کی ثالثی یہاں کسی علاقائی طاقت یا قوت کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کی موجودگی ہے جہاں امریکہ اور ایران دونوں اپنے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں، جیسا کہ ماضی میں اکثر عرب ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملے، اسرائیل کی جانب سے لبنان میں مسلسل کارروائیوں، اور پاکستان کے تماشائی کردار کے ساتھ ساتھ امریکہ کے پیغامات تہران تک پہنچانے کے عمل سے اس کی ثالثی کی نوعیت واضح ہو جاتی ہے۔پاکستان جیسی ریاست، جو خود افغانستان کے ساتھ  الجھی ہوئی ہے اور قطر و سعودی عرب کے کہنے پر دو مرتبہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کر چکی ہے، ایران، امریکہ اور اسرائیل جیسی ریاستوں کے درمیان مؤثر ثالثی کی حیثیت نہیں رکھتی۔ البتہ پاکستان کی اندرونی سیاست کے تناظر میں پنجابیوں کو متاثر کرنے اور عاصم منیر کی اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے یقیناً اسے ایک اہم قدم کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔اس لیے ہمارے وہ دانشور جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ ڈیل کی صورت میں پاکستان کی خطے میں حیثیت نمایاں طور پر بڑھ جائے گی، ان کی اس رائے کے امکانات فی الحال کسی بھی واضح شکل میں دکھائی نہیں دیتے۔کیونکہ سہولت کاروں یا دلالی کا کردار ادا کرنے والوں کی حیثیت عموما اسی وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک ان کی ضرورت موجود ہو۔ جب کام مکمل ہو جاتا ہے تو ان کی اہمیت بھی اسی کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی بنیادی کلکولیشن کسی حد تک درست تھی، اور ان کی انٹیلی جنس نے جنگ کے آغاز سے پہلے جو آپریشنل منصوبہ تیار کیا تھا، وہ خامنہ ای کے قتل اور چند اہم فوجی سربراہوں کے مارے جانے کے باعث کسی حد تک کامیاب بھی ثابت ہوا۔ لیکن ایک بنیادی غلطی، جو شاید ان کی کلکولیشن میں موجود تو تھی مگر وہ اس کی شدت اور وسعت کو مکمل طور پر سمجھنے میں ناکام رہے، ایران میں حالیہ دنوں سے جاری احتجاجی تحریکوں سے متعلق تھی۔ وہ ان تحریکوں کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے، اور یہ ان کی ایک اہم آپریشنل کلکولیشن کا حصہ تھا۔اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی اہمیت کا اندازہ ہونے کے باوجود وہ ایران کی بحری طاقت کو کم تر سمجھ رہے تھے۔ جنگ کے دوران ایران کی بحریہ انتہائی مؤثر اور اثرانداز ثابت ہوئی، جس کی کلکولیشن شاید امریکہ نے اس حد تک نہیں کی تھی۔ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی صلاحیت اور اس ناکہ بندی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کی طاقت کو بھی نظرانداز کیا جا رہا تھا۔ایران کی فوج کے حوالے سے ایک اور اہم غلطی اس کی گہرائی  کو لے کر کی جاتی ہے۔ ایران کی فوج دیگر کئی ممالک کی افواج کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے کئی لیئرز ہیں، اور اس کی وسعت کو اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ چند اہم کمانڈرز یا اہم شخصیات کے مارے جانے سے اس کے فوجی ڈھانچے اور سرگرمیوں پر کوئی فیصلہ کن اثر نہیں پڑتا۔ بلکہ ہر حملے کے بعد وہ اپنی فوجی تشکیل کو مختلف جہتوں میں مزید منظم کرتے ہوئے اسے آزادانہ انداز میں کام کرنے کے قابل بناتی ہے، اور ہر ادارے کو مختلف طریقوں سے فعال رکھنے کے لیے ایک منظم نظام موجود ہے۔

ایران کی فوجی فارمیشن اس کی بقا  کا ایک اہم جزو ہے، کیونکہ اس کے مختلف لیئرز کو جنگی حالات کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔ اندرونی معاملات سے لے کر عالمی سطح کی جنگوں تک کی تیاری اس کی فوجی ساخت میں پہلے سے شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ایک ناقابل شکست فوج یا ناقابل شکست طاقت بن چکی ہے، لیکن اپنی پیچیدگی، وسعت اور مختلف لیئرز کی وجہ سے یہ خاصی طاقت اور لچک رکھتی ہے۔ جنگوں کے دوران بالخصوص اس کی آزادانہ حرکت اور سرگرمیاں ریاستی دفاع کو مضبوط بناتی ہیں، اور روایتی جنگ کے حوالے سے اس کی فوجی فارمیشن عام طور پر موجود فوجی ڈھانچوں سے مختلف اور زیادہ اثرانداز نظر آتی ہے۔ایرانی فوجی فارمیشن میں دو بنیادی اور بڑی افواج شامل ہیں۔ پہلی، اسلامک ریپبلک آف ایران آرمی (IRIA) ہے، جس کی اپنی انٹیلی جنس، زمینی فوج، فضائیہ، بحریہ، فضائی دفاعی فورس اور دیگر اہم ادارے شامل ہیں۔ دوسری جانب ایک الگ اور انتہائی منظم فوج اسلامک ریوولوشنری گارڈ کور (IRGC) ہے، جس کے پاس اپنی زمینی فوج، انٹیلی جنس اور میزائل فورس موجود ہے۔آئی آر جی سی کے ماتحت مزید دو اہم فوجی ادارے، قدس فورس اور بسیج، بھی شامل ہیں جو الگ اور نسبتاً آزادانہ انداز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ ان اداروں کی آزادانہ سرگرمیاں مجموعی فوجی ڈھانچے کو مزید منظم بناتی ہیں تاکہ وہ کسی بھی عالمی خطرے کے خلاف مؤثر انداز میں جنگ جاری رکھ سکیں۔

ایران کے مکمل فوجی سیٹ اپ میں تقریباً 10 سے 15 انٹیلی جنس ادارے مختلف نوعیت میں کام کرتے ہیں، جو فوج اور ریاستی اداروں کے لیے معاونت فراہم کرتے ہیں۔ میرے لیے سب سے زیادہ حیران کن بات ان تمام فوجی اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور ریاستی سطح پر اتحاد کو برقرار رکھنا ہے۔ یقیناً یہ ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج ہوگا، جس کا ایران نے اب تک کسی حد تک کامیابی سے مقابلہ کیا ہے، لیکن مستقبل میں یہ ہم آہنگی اسی طرح برقرار رہے گی یا نہیں، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ان تمام افواج، ان کے سربراہان، ایک سیاسی حکومت، مختلف فوجی اداروں اور ان سب کے درمیان ہم آہنگی کو برقرار رکھنا، ان کے مابین کوآرڈینیشن کو قائم رکھنا، فیصلہ سازی، کمانڈ اسٹرکچر اور اہم تبدیلیوں کو مستقل بنیادوں پر منظم رکھنا یقیناً ایران کی ایک ایسی طاقت ہے جو اس وقت تک کافی مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے۔ان تمام ملٹی ڈائمنشنل فوجی سیٹ اپس کے باوجود ان کی فوج اور ریاستی اداروں کی فوجی کلکولیشن، ٹارگٹ سلیکشن میں درستگی، سیاسی فیصلوں کے ماتحت رہنا، اداروں کا نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنا، اتنے سیکیورٹی خطرات کے باوجود اپنے فوجی اہداف کو عملی جامہ پہنانا، اور اسی دوران عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کی سطح پر بھی مسلسل انگیج رہنا، یقیناً وہ عوامل ہیں جو اس وقت اس رجیم کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ وہ چیزیں ہیں جن سے سیکھا جا سکتا ہے کہ جب آپ ایک ریاست چلاتے ہیں یا ریاست چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو آپ کس طرح بے شمار پیچیدگیوں کے باوجود ایک منظم اور مربوط انداز میں کام کرتے ہیں۔

ایران گزشتہ چالیس سال سے امریکہ کے خلاف کسی نہ کسی سطح پر سرگرم رہا ہے۔ خطے میں وہ مسلسل امریکی بالادستی کو چیلنج کرتا آ رہا ہے کیونکہ ایران کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ امریکہ کی موجودگی اور طاقت ور حیثیت برقرار رہنے کی صورت میں وہ اپنے اسلامی انقلاب کو اس خطے میں کامیابی کے ساتھ پھیلانے میں کبھی بھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ بالخصوص اسرائیل کی موجودگی میں ایران مشرقِ وسطیٰ پر اپنی مکمل طاقت اور بالادستی قائم نہیں کر سکتا، جس طرح آج امریکہ مغرب، بالخصوص ویسٹرن ہیمسفیر، میں اپنی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے۔اسی لیے ایران نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کو اپنی ریاست کے خلاف ایک مستقل خطرے کے طور پر لیا ہے۔ دوسری جانب امریکہ بھی گزشتہ چالیس سال سے ایران کو ایک خطرے کے طور پر دیکھتا آ رہا ہے اور ایسے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا جس کے ذریعے وہ ایران میں موجود اسلامی رجیم کا خاتمہ کر سکے۔ اسی سلسلے میں اس نے اسرائیل کو کسی حد تک آپریشنل آزادی بھی فراہم کی تھی۔

گزشتہ سال ہونے والی بارہ روزہ جنگ کے بعد امریکہ نے ایک غلط کلکولیشن قائم کر لی تھی، جبکہ دوسری طرف ایران بھی اسرائیل اور امریکہ کے حوالے سے اپنے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ محسوس کر رہا تھا۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال، حماس کی کمزور پوزیشن، لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے اپنی طاقت کے حوالے سے چند کمزوریاں ظاہر ہونا، شام میں ایران نواز حکومت کا خاتمہ اور وہاں امریکہ نواز حکومت کی موجودگی، ان تمام عوامل نے امریکہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ خطے میں اپنے سب سے بڑے حریف، یعنی ایرانی رجیم، کے خاتمے کی کوشش کریں، جو کئی دہائیوں سے دونوں ممالک، بالخصوص اسرائیل کے وجود، کے لیے ایک چیلنج کے طور پر موجود رہا ہے۔اسی کلکولیشن کے تحت انہوں نے ایران پر حملہ کیا، اس امید کے ساتھ کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طاقت کے اس مظاہرے کا مقابلہ نہیں کر پائے گا۔ دوسری جانب ایران جنگ سے پہلے ہی مکمل طور پر دفاعی پوزیشن اختیار کر چکا تھا اور اپنی تمام تر کوششیں کر رہا تھا کہ یہ جنگ شروع نہ ہو، کیونکہ وہ بھی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کو اپنے لیے ایک انتہائی سنگین اور خطرناک خطرے کے طور پر دیکھ رہا تھا۔تاہم جنگ کے دوران ایران نے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی حدود اور ان کی آپریشنل کمزوریوں کو محسوس کیا بلکہ اس کے برعکس، جس نوعیت کی جنگ کی کلکولیشن وہ کر رہے تھے، امریکہ اور اسرائیل دونوں مل کر بھی ایران کو ویسی جنگ دینے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اگرچہ جنگ کے آغاز میں انہوں نے ایران پر چند اہم حملے کیے تھے جن سے ایران کو کافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بعد کے مراحل میں صورتحال مختلف رخ اختیار کرتی گئی۔

عرب ممالک پر مسلسل آزادانہ حملے اور ان کی خاموشی، آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے مؤثر کنٹرول قائم کرنا اور وہاں سے معاشی فوائد حاصل کرنا، اور امریکہ کی جانب سے ان ممالک کو مکمل طور پر لاوارث چھوڑ دینا، ان تمام عوامل نے ایران پر بھی بہت کچھ واضح کیا۔ امریکہ کی کوششوں کے باوجود ایران کی بحری قوت کی فعالیت نے یہ ثابت کیا کہ امریکی خطرے کو ایران جس انداز میں دیکھ رہا تھا، امریکہ کی فضائی طاقت اور خطے بھر میں موجود اس کے فوجی اڈے ایران کے خلاف اس نوعیت کے مؤثر آپریشن کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے۔جنگ کے ابتدائی دنوں ہی میں ایران نے ان فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں کئی اڈوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی اور متعدد مقامات کو جزوی یا مکمل طور پر خالی کر دیا گیا۔ اسی وجہ سے امریکی آپریشنل سرگرمیاں ایران سے کافی فاصلے پر منتقل ہو گئیں۔زمینی سطح پر ایرانی فوج کی موجود پوزیشن کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے براہ راست زمینی حملہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ اسے اچھی طرح علم تھا کہ ایران عراق یا افغانستان کی طرح ردعمل نہیں دے گا۔ ایران کی زمینی فوج اس کی فضائی قوت کے مقابلے میں کہیں زیادہ فعال، منظم اور متحرک ہے، اور جنگ کے پورے عرصے کے دوران اس کی سرگرمیاں مسلسل جاری رہیں۔ امریکی انٹیلی جنس کی اسیسمنٹ کی روشنی میں زمینی حملے کے آپشن کو مسترد کر دیا گیا، کیونکہ فضائی آپریشنز کی ہمیشہ ایک حد ہوتی ہے۔

جان میرشائمر اپنی کتاب The Tragedy of Great Power Politics میں اس نکتے پر بڑی خوبصورتی سے لکھتے ہیں کہ جنگوں میں کامیابی کا اصل دارومدار ہمیشہ زمینی فوج پر ہوتا ہے۔ زمینی فوج جتنی زیادہ مضبوط ہو، اسے شکست دینا اتنا ہی مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ فضائی حملوں کی اپنی حدود ہوتی ہیں اور انہیں غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جا سکتا۔اس کی مثال حالیہ دنوں میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جہاں زیرِ زمین شہر، تنصیبات اور فوجی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ تقریباً تمام ریاستیں اپنے اہم اثاثوں کو زیر زمین منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بالخصوص ایران نے حالیہ دنوں اسرائیل کے خلاف اپنے متعدد میزائل زیر  زمین بنکروں اور زیر زمین اڈوں سے داغے۔ ان زیر زمین شہروں اور تنصیبات کی موجودگی فضائی حملوں کی موثریت کو محدود کر دیتی ہے۔زیر زمین سرگرمیوں کی وجہ سے فضائی حملہ آور قوتوں کو وسیع پیمانے پر اور مخصوص اہداف کے خلاف بنکر بسٹر بم جیسے بھاری ہتھیار استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وہ عنصر ہے جو وسیع فضائی طاقت رکھنے کے باوجود امریکہ کی مکمل اور فیصلہ کن کامیابی کو یقینی نہیں بنا سکا۔

ایران کے لیے اس وقت سب سے بڑی مشکل امریکی بحری ناکہ بندی تھی، جو اس کی بندگاہوں تک کارگو جہازوں   کی رسائی کو محدود کر رہی تھی۔ اس سے ایران کی سپلائی کسی حد تک متاثر ہوئی، کیونکہ اس کی زیادہ تر درآمدات انڈیا، چین اور دیگر ایشیائی ممالک سے آتی ہے۔ جنگ کے دوران چین کی سپلائی اور مختلف کمپوننٹس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، خصوصاً دفاعی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے کمپوننٹس انتہائی اہم ہوتے ہیں، اور چین اس حوالے سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ اس وقت روس میں بھی ڈرونز کے اندر استعمال ہونے والے بہت سے سستے کمپوننٹس چین سے مختلف ذرائع کے ذریعے پہنچ رہے ہیں۔امریکی ناکہ بندی کے باعث بہت سے جہازوں، بالخصوص بڑے کارگو شپوں، کو ایرانی بندرگاہوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ دوسری جانب، جس طرح خلیجی عرب ممالک کی تیل بردار اور گیس بردار شپوں کی سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، ایران نے وہاں اپنی پوزیشن کو ایک اہم اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔آبنائے ہرمز اس وقت ایران کے ڈیٹرنس میں اس کے میزائل پروگرام کے بعد سب سے اہم اور اسٹریٹجک کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے عالمی معیشت کسی حد تک متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ توانائی ہر مارکیٹ، ٹرانسپورٹیشن اور روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔ دنیا بھر کو تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار عرب ممالک سے فراہم کی جاتی ہے، اور اگر اس سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ بیشتر عرب ممالک کی معیشت کا بڑا حصہ بھی انہی برآمدات پر منحصر ہے۔اسی لیے ایران کے لیے آبنائے ہرمز ایک اہم ڈیٹرنس بن چکی ہے، اور اسے بند کرنے یا اس کی نقل و حرکت کو متاثر کرنے کی صلاحیت جنگی حالات میں اسے ایک اہم اسٹریٹجک مقام فراہم کرتی ہے۔ حالیہ جنگ میں بھی ایران نے اس حکمت عملی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ امریکی کوششوں کے باوجود ایران کی آبنائے ہرمز میں موجود پوزیشن کو مکمل طور پر چیلنج کرنا آسان ثابت نہیں ہوا، اور پورے جنگ  میں امریکہ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اسی راستے پر دباؤ کو کم کرنا رہا۔ اسی دباؤ کے باعث امریکہ مسلسل مذاکرات اور کسی ممکنہ ڈیل کی بات کرتا رہا۔اگرچہ جنگ کے دوران امریکہ کو جانی نقصانات اس حد تک برداشت نہیں کرنا پڑے اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے ایران زیادہ متاثر دکھائی دیا، لیکن سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک حوالے سے ایران کی پوزیشن نسبتاً مضبوط نظر آئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس کی جیو اسٹریٹجک اہمیت اور آبنائے ہرمز میں اس کا اثر و رسوخ ہے۔خطے میں امریکہ نے اپنی سکیورٹی ضمانتوں کے ذریعے مقامی ریاستوں کو اس حد تک اپنے اوپر انحصار کرنے کا عادی بنا دیا کہ وہ اپنی آزاد اور طاقتور دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر تعمیر نہیں کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، یو اے ای، کویت اور دیگر کئی چھوٹے ممالک، چاہنے کے باوجود، ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی سے گریز کرتے نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال نے ایران کو ایک اہم اضافی اسٹریٹجک فائدہ  دیا ہے۔ایران نے خطے کے مختلف ممالک پر دباؤ ڈال کر اور ان کی جانب سے محدود ردعمل دیکھ کر ایک اہم اسٹریٹجک فائدہ حاصل کیا ہے۔ کسی نہ کسی حد تک اس نے خود کو خطے کی ایک بااثر طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذاکرات میں بھی خود کو نسبتاً مضبوط پوزیشن میں دکھا کر بڑے مطالبات رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جیسا کہ عموماً کوئی فریق جنگی یا سیاسی برتری محسوس کرتے ہوئے کرتا ہے۔

البتہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اب تک ہونے والی جنگیں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ہیں، جس طرح 12 روزہ جنگ میں یا اس سے پہلے اور بعد میں ہونے والے تنازعات میں دیکھنے کو ملا ہے۔ کیونکہ ہیگل نے جب Thesis، Antithesis اور Synthesis کی تھیوری پیش کی تھی تو وہ بنیادی طور پر انسانی تضادات کی وضاحت کے لیے تھی۔ ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان یہ تضاد کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ یعنی ایک Thesis کی شکل میں یہ قائم ہے، جبکہ Antithesis کی شکل میں ہمیں دونوں کے درمیان مسلسل کشمکش اور جنگ نظر آتی ہے۔چاہے وہ حزب اللہ کو مسلح کرنے کی صورت میں ہو یا ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی آپریشنز اور حملے، یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ یہ یہیں نہیں رکے گا۔ کیونکہ حالیہ مذاکرات اور معاہدے کی نوعیت بھی کسی حد تک 2015 کے اس معاہدے سے ملتی جلتی ہے جو اوباما نے ایران کے ساتھ کیا تھا۔ اس معاہدے کے بعد ایران پر عائد کئی پابندیاں اٹھائی گئی تھیں اور اس کے بدلے ایران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ مذاکرات بھی بنیادی طور پر اسی جوہری پروگرام اور یقین دہانی کے گرد گھومتے ہیں، جو ایران پہلے بھی دے چکا ہے۔امریکی اور اسرائیلی کوششوں کے باوجود ایران اپنے میزائل پروگرام، ڈرون پروگرام اور دیگر اہم دفاعی و اسٹریٹجک ڈیٹرنس صلاحیتوں پر کسی بھی قسم کی مذاکراتی رعایت دینے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو دونوں کے درمیان موجود بنیادی تضاد کو دوبارہ اسی مقام پر لے آتا ہے جہاں وہ جنگ سے پہلے موجود تھا۔ اس لحاظ سے یہ جنگ اس تضاد کا ایک اظہار اور ایک مرحلہ تو ہے، لیکن اس کا حتمی نتیجہ نہیں۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں فریق کتنے عرصے تک خود کو براہِ راست حملوں سے روکے رکھتے ہیں۔ تاہم دونوں کے درمیان ایک نتیجہ خیز جنگ اور نتیجہ خیز فیصلے ابھی ہونا باقی ہیں۔ اسی لیے اس جنگ کو کسی حتمی اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔میرے نزدیک یہ کشمکش اسی وقت اختتام پذیر ہوگی جب دونوں میں سے کسی ایک فریق کی طاقت بنیادی طور پر ٹوٹ جائے یا اس کے سیاسی و اسٹریٹجک اہداف مکمل طور پر تبدیل ہو جائیں۔ تاریخ میں اس کی مختلف مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ جیسے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کا اختتام سوویت یونین کے انہدام پر ہوا۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی شکست کے بعد اس کی فوجی طاقت، سیاسی ڈھانچہ اور ریاستی تشکیل نو فاتح طاقتوں کی شرائط کے مطابق ہوئی، جبکہ جاپان نے بھی جنگ کے بعد اپنی عسکری پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں کیں اور امریکی سکیورٹی نظام کے تحت خود کو دوبارہ منظم کیا۔اسی طرح ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان موجود تنازع بھی کسی عارضی جنگ، محدود جنگ بندی یا وقتی معاہدے سے مکمل طور پر ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اس کا حتمی نتیجہ شاید آنے والے کئی سالوں یا حتیٰ کہ دہائیوں میں سامنے آئے۔ فی الحال یہ وقتی جنگیں، پراکسی تنازعات، مذاکرات اور محدود فوجی تصادم اسی طرح مختلف شکلوں میں جاری رہنے کا امکان رکھتے ہیں۔

عالمی جنگیں اور سہ نکاتی بلوچ ایجنڈا

اگر خطے میں جیو اسٹریٹجک اور جیو پولیٹیکل اہمیت کی بات کی جائے تو بلوچستان سے زیادہ اہم جیو اسٹریٹجک علاقہ شاید ہی کوئی ہو۔ ہم ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی رکھتے ہیں، جس میں گوادر، اورماڑہ اور پسنی جیسے اہم علاقے شامل ہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے دوران برطانیہ نے اپنی جنگی برتری قائم رکھنے کے لیے ان علاقوں کو اپنے حق میں استعمال کیا تھا۔ بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے پیچھے بھی ایک اہم motivation اس کے ساحلی علاقے تھے، کیونکہ یہ پاکستان کے وجود اور اس کی جغرافیائی اہمیت کے لیے انتہائی ضروری تھے۔ہم بحرِ عرب کے ایک انتہائی اسٹریٹجک مقام پر واقع ہیں، جہاں سے دنیا کی اہم معاشی گزرگاہیں گزرتی ہیں۔ اگر یہاں بلوچستان ریاست کی بالادستی قائم ہو تو ہم خطے کے سب سے اہم جیو اسٹریٹجک علاقوں میں شمار ہو سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ریاست سے محرومی کی وجہ سے ہم، ایک اہم خطہ ہونے کے باوجود، آج بھی غلامی جیسی زندگی گزار رہے ہیں، غربت کے سائے میں جی رہے ہیں اور اپنے علاقوں، وسائل اور ان پر اختیار سے محروم ہیں۔البتہ یہ صورتحال مایوسی کے بجائے ہمارے لیے ایک سبق ہونی چاہیے۔ دنیا میں متعدد یورپی اور سینٹرل ایشیائی ممالک لینڈ لاک ہونے کے باوجود آزادانہ اور بہتر ریاستی نظام کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ہم اپنی کمزور سوچ اور کمزور اجتماعی طاقت کی وجہ سے ابھی تک اپنی بقا کو بھی خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔

اس لیے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک طاقتور ریاست حاصل کرنے کے بعد ہی ہم اس خطے میں اپنی بالادستی قائم کر سکتے ہیں۔ اس وقت ہم عالمی جنگوں کا حصہ نہیں ہیں، اگرچہ علاقائی سطح پر حالیہ فوجی سرگرمیوں اور پاکستان کے خلاف آپریشن ہیروف کی صورت میں ہم نے اپنی ایک علاقائی طاقت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں بلوچ قومی جنگ اپنی relevancy قائم کر چکی ہے۔اس کے اثرات بھی حالیہ دنوں مختلف عالمی کمپنیوں کی جانب سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے تشویش کے اظہار، سرمایہ کاری واپس لینے یا نئی سرمایہ کاری کے بارے میں محتاط رویے کی صورت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان کی سیکورٹی، جس کا تعلق بلوچ مسلح قوت سے جوڑا جاتا ہے، اب براہِ راست عالمی سرمایہ کاری کے فیصلوں میں زیرِ بحث آ رہی ہے۔ زمینی حقائق کے تناظر میں یہ یقیناً ہماری جنگی قوت کے ابتدائی اثرات میں سے ایک ہے، لیکن اس وقت وسیع پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی طاقتوں کے لیے صرف ایک سیکورٹی خطرہ نہ رہیں بلکہ بلوچستان سے متعلق کسی بھی پالیسی یا فیصلے میں ایک مؤثر فریق کے طور پر بھی موجود ہوں۔آج لبنان میں حزب اللہ ایک غیر ریاستی فوج ہونے کے باوجود ایک اہم  ٹیبل کھلاڑی بن چکی ہے اور لبنان سے متعلق اہم فیصلوں میں دنیا کو اس کے ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے، جبکہ ہم ایک ریاست، تہذیب، تاریخ اور عظیم قوم ہونے کے باوجود ابھی بھی بنیادی مرحلے پر کھڑے ہیں۔

اس کے لیے ہمیں جلد از جلد ریاست کے قیام کی طرف بڑھنا ہوگا، کیونکہ ریاست کے بغیر قوم، زمین، تاریخ، زبان، سیاست، حکومت، پارٹی، آزادی، انفرادی شناخت اور انسانی حقوق جیسی چیزیں اپنی مکمل معنویت کھو دیتی ہیں۔ ریاست کسی بھی قوم کے وجود کی بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ جب تک ہم اپنی ریاست کے قیام کی طرف نہیں بڑھتے اور ان علاقوں پر مشتمل اپنی ریاست قائم نہیں کرتے جنہیں دنیا بلوچستان کے نام سے جانتی ہے یا جہاں بلوچ آبادی موجود ہے، تب تک ہمارے بیشتر سیاسی دعوے ادھورے رہیں گے۔ریاست حاصل کرنے کے لیے ہمیں منظم فوج، پیشہ ورانہ فوجی نظام، مضبوط انٹلی جنس ادارے، منظم معاشی پالیسی اور اجتماعی طاقت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ریاست قائم کرنے کی بنیادی نفسیات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے پروگرام، طریقہ کار، تعلیم اور علم کی ضرورت ہے جو ریاستی بنیادوں کو مضبوط کر سکیں۔ہمیں اپنی سیاسی تربیت، قومی سوچ کی تشکیل اور تاریخی و انقلابی نعروں سے آگے بڑھ کر ریاستی سطح پر عملی تیاری کی طرف جانا ہوگا۔ ہمیں ایسے ادارے، مہارتیں اور ڈھانچے تشکیل دینے ہوں گے جو موجودہ عالمی آرڈر کے مطابق ایک قابلِ عمل ریاست کی بنیاد رکھ سکیں۔آج کے دور میں اس مقام تک پہنچنے کے لیے عام انسانی سطح سے بڑھ کر محنت، مہارت سازی، پیشہ ورانہ تعلیم اور عملی تجربے کی ضرورت ہے۔ دنیا آج صلاحیت، قابلیت اور معیار کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ ٹیکنالوجی، ٹریننگ، انسانی وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت کے میدان میں دنیا کہاں پہنچ چکی ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں، یہ ہمارے لیے غور کرنے کا موضوع ہے۔

اگر ہم طاقت کے قیام کی بات کرتے ہیں تو اس کے لیے ان بنیادی صلاحیتوں، ہنر، علم اور پیشہ ورانہ عمل کی بھی ضرورت ہے جو عالمی معیار کے مطابق ہوں۔ طاقت صرف الفاظ یا نعروں سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کا معیار افراد، اداروں اور ان کی صلاحیتوں سے جانچا جاتا ہے۔عالمی دنیا انہی لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتی ہے جو اس کے مقابلے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ہماری سفارت کاری صرف تقریروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عالمی فورمز پر مؤثرلابنگ کی شکل اختیار کرنی چاہیے۔ ہمیں ان اداروں تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے جہاں پالیسیاں بنتی ہیں، تبدیل ہوتی ہیں اور عالمی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔آج کے گلوبلائزیشن کے دور میں صلاحیت اور مہارت کے خلاف کوئی زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔ گزشتہ بیس سال سے لندن کا میئر ایک پاکستانی نژاد پنجابی سیاست دان ہے۔ آج انڈین نژاد افراد دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اداروں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر اسرائیل امریکی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہ یہودی کمیونٹیز ہیں جو یورپ اور امریکہ کے اہم اداروں، کاروباری حلقوں اور پالیسی سازی کے مراکز میں مضبوط موجودگی رکھتی ہیں۔ اگر ہم عالمی سطح پر اثرانداز ہونا چاہتے ہیں، اثر قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان تمام اہم پالیسی ساز اداروں کے اندر جانا ہوگا، انہیں اثر انداز کرنا پڑے گا جہاں سے عالمی تنازعات کو لیکر پالیسیاں بنتی ہیں۔

اسی طرح ہماری سیاسی اپروچ کو بھی صرف سرکلز اور مکالموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرنے پر توجہ دینی چاہیے جو مؤثر ہو، اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو، طاقت رکھتی ہو اور چیزوں کو بدلنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ ایسی نسل جو کچھ پیدا کر سکے، کچھ تخلیق کر سکے اور کچھ تعمیر کر سکے۔آج آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی دنیا میں تقریباً ہر علم میرے اور آپ کے ہاتھ میں موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان روایتی نفسیات اور محدود سوچوں سے باہر نکلیں جن میں ہم آج بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس نئی سوچ اور اس نفسیات کی ہے جس پر موجودہ عالمی آرڈر قائم ہے۔اگر ہمیں ایک عظیم طاقت بننا ہے، اپنی ریاست تشکیل دینی ہے اور دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ ہم ایک منظم، طاقتور اور حقیقی ریاست کے طور پر اس خطے میں قائم رہ سکتے ہیں، امن، سکیورٹی اور عالمی مفادات کو یقینی بنا سکتے ہیں، تو یہ صرف باتوں سے ممکن نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنی تنظیمی ساخت، قیادت، کارکنوں، لٹریچر، میڈیا، اور حتیٰ کہ اپنی جنگی حکمتِ عملی میں بھی اس کا عملی اظہار کرنا ہوگا۔ صرف دعوے کافی نہیں، بلکہ ان صلاحیتوں کو حقیقی شکل میں پیدا کرنا ہوگا۔جب ہم انقلاب کی بات کرتے ہیں تو یہ تبدیلی ہمیں انفرادی سطح پر بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ ہمیں ایک ایسی نسل، ایک ایسی طاقتور قوم، اور ایسے ہنر مند و قابل افراد پیدا کرنے ہوں گے جو دنیا کے مقابلے میں کھڑے ہو سکیں اور دنیا کو ثابت کر سکیں کہ ہم ہر سطح پر اپنی ریاست کے قیام اور اسے مؤثر انداز میں چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس کے لیے ہمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام بنیادیں ہمیں دورانِ جدوجہد اور دورانِ جنگ ہی رکھنی ہوں گی، کیونکہ کامیاب قومیں اور ریاستیں صرف جنگ نہیں لڑتیں بلکہ وہ جنگ کے دوران ہی اپنے مستقبل کی بنیاد بھی تعمیر کرتی ہیں۔

میری نظر میں اس تبدیلی کی تین سطحیں ہونی چاہئیں۔ سب سے پہلے بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہر انفرادی جہدکار اور ہر ادارے کو، چاہے وہ سیاسی ہوں یا مسلح، طلبہ تنظیمیں ہوں یا ادوسرے غیر رسمی ادارے،  انہیں عمل کو بنیاد بناکر عالمی اسٹینڈرائزیشن کے مطابق خود کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان تمام رویوں اور سوچوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو انہیں اس مقام تک سوچنے اور آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ مضبوط اور طاقتور اداروں کے قیام کے بغیر اس مقام تک پہنچنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے۔ اگر آج بلوچ قوم کو ایسی منظم مسلح قوت میسر ہو جو صرف حملے کرنے تک محدود نہ ہو بلکہ پالیسی، تنظیم، نظم و ضبط اور standardization کے حوالے سے بھی دنیا کے مقابلے میں کھڑی ہو سکے، جو دنیا کے سامنے بلوچ قومی طاقت کی شناخت اور پہچان بن سکے، اور جو اندرونی طور پر اس مقام تک پہنچ چکی ہو جہاں اس میں شامل ہر جہدکار، سرمچار اور کارکن عام انسانی اور سماجی نفسیات کی حدود سے نکل کر زیادہ منظم، باصلاحیت اور مضبوط شخصیت کی شکل اختیار کر چکا ہو، تو یقیناً یہ اس منزل تک پہنچنے کا پہلا مرحلہ ہوگا۔انفرادی سطح پر قومیں کبھی عظیم نہیں بنتیں، بلکہ یہ ایک مرحلہ وار عمل ہوتا ہے۔ ایک عظیم، طاقتور، عالمی معیارات کے مطابق قائم، ہنر اور صلاحیت سے بھرپور، پیشہ ورانہ روایات اور مضبوط سوچ رکھنے والی تنظیم کا قیام پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کمانڈ اینڈ چین، سخت تربیت، جسمانی مضبوطی، ذہنی نشوونما اور ہنر و صلاحیت کی تعمیر کا عمل شروع ہوتا ہے۔

اس لیے موجودہ حالات میں ہر ذمہ دار فرد سے لے کر ہر جہدکار تک، سب کو انفرادی طور پر خود پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنا معیار بدلنے، اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے، اخلاقی کردار کو بہتر بنانے، سیاسی تعلیم حاصل کرنے، شعوری طاقت پیدا کرنے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر سطح پر خود کو بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ انفرادی انسانی صلاحیت ہی وہ بنیاد ہے جس کے ذریعے ہم اپنے اداروں میں وہ معیار اور قوت پیدا کر سکتے ہیں جس کی ہم بات کر رہے ہیں۔دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کمزور انسانوں نے عظیم نظام اور طاقتور ادارے قائم کیے ہوں۔ کمزور انسان کی سوچ، نفسیات، حدود اور اہداف بھی محدود رہتے ہیں۔ وہ طاقت کے اس مقام تک نہیں سوچ سکتا جہاں بڑے پیمانے کی تبدیلیاں جنم لیتی ہیں۔ عظیم انفرادی صلاحیت اور قوت رکھنے والے افراد کے ذریعے ہی ہم ایسی اجتماعی طاقت تشکیل دے سکتے ہیں جو حقیقی معنوں میں تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔اس وقت ہماری انفرادی علمی، فکری اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں ابھی اس مقام پر نہیں پہنچیں کہ ہم دنیا کا مؤثر مقابلہ کر سکیں، دنیا کے سامنے اعتماد کے ساتھ کھڑے ہو سکیں یا بطور قوم عالمی سطح پر مؤثر اثرات مرتب کر سکیں۔ اسی لیے پہلے مرحلے میں تحریک کے اندر ایسے مضبوط اداروں اور منظم قوت کے قیام پر کام ہونا چاہیے جو بعد ازاں اپنی صلاحیتوں، تجربے اور معیار کو وسیع پیمانے پر پھیلانے کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔

میرے نزدیک دوسرا مرحلہ قوم کی نفسیات کو اسی تناظر میں تشکیل دینے کا ہے۔ آج لاکھوں بلوچ نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لاکھوں مختلف اداروں سے منسلک ہیں، اور لاکھوں دنیا کے مختلف ممالک میں آباد ہو کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سب کو براہِ راست اس نفسیات، ذہنیت اور قومی سوچ سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے لاوارث نہیں ہیں۔ان کی کمزوری کا تعلق صرف انفرادی طور پر ان سے نہیں بلکہ اس کے اجتماعی اثرات پوری قوم پر پڑتے ہیں۔ اس لیے دنیا میں جہاں بھی ایک بلوچ رہتا ہے، اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ ایک عظیم قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ اسے عظیم بننا ہے، اور ہر حوالے سے خود کو دنیا کے مقابلے میں تشکیل دینا ہے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کوئی کمزور انسان نہیں بلکہ اپنی قوم اور مستقبل کی بلوچ ریاست کا وارث ہے۔ اس کی شناخت بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین سے وابستہ ہے، اس لیے اس پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات، اپنی صلاحیتوں اور اپنے کردار کو مسلسل بہتر بنائے۔اسے اس مقام تک پہنچنا چاہیے جہاں اس کے انفرادی اثرات قوم پر مثبت انداز میں مرتب ہوں۔ اگر عظیم قومی سوچ اور اجتماعی طاقت کی بات کی جائے تو ایک بلوچ کی کمزوری بھی میری کمزوری ہونی چاہیے۔ مجھے اسے اپنی ذاتی کمزوری کے طور پر دیکھنا چاہیے اور اسی تناظر میں اسے دور کرنے پر کام کرنا چاہیے۔ کمزور افراد پر مشتمل قومیں ہمیشہ محدود دائرے میں رہ جاتی ہیں اور دنیا کی نظر میں ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں بنتی۔اسی لیے قومی ترقی، ہر بلوچ کی تربیت، ہنر سازی، علمی و فکری نشوونما اور معیار کی بہتری کو میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ تاہم یہ عمل ایک مضبوط اور طاقتور ادارے کے قیام کے بعد ہی مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکتا ہے، کیونکہ ایک مرکزی قوت کے گرد ہمیں ہزاروں ایسے افراد درکار ہوں گے جو اجتماعی سوچ، شعور، ہنر، نظم و ضبط اور بے غرضی پر مبنی فکر رکھتے ہوں۔یہ جدوجہد مکمل طور پر بے غرضی کے ساتھ اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر لڑنی چاہیے۔ میں اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہوں کہ ایک طاقتور قوم کے بغیر کسی عظیم قومی طاقت کا قیام ممکن نہیں۔ اسی لیے قومی اداروں کو عوامی تربیت، شعوری نشوونما اور صلاحیت سازی کو اپنی مرکزی پالیسی کا بنیادی نکتہ بنانا چاہیے۔میں اسے دوسرا مرحلہ سمجھتا ہوں، کیونکہ ایک مضبوط اور منظم تنظیم کے بغیر اس نوعیت کی قومی تشکیل اور تربیت کسی بھی طرح ممکن نہیں ہو سکتی۔

اس کا تیسرا مرحلہ پھر اس تمام قوت کو بلوچ ریاست و سرزمین سے پاکستان کو نکالنے، خطے میں ان تمام زمینوں کو اپنی ریاست میں شامل کرنے، ان اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول قائم کرنے جہاں ہمارے مفادات وابستہ ہیں، عارضی و مستقل بارڈرز کی تشکیل، ایک طاقتور ریاست کے تقاضوں پر مبنی تمام اداروں کے قیام، عالمی سطح پر تربیت یافتہ سفارت کاروں کی تیاری، مختلف دفاعی اداروں کے قیام، اپنے سمندری اور جیو اسٹریٹجک علاقوں پر منظم کنٹرول، سائنس، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر جیسے اہم شعبہ جات میں وسیع پیمانے پر کام کرنے، اور ان تمام بنیادی اخلاقیات کے قیام کا ہے جو ایک عظیم قومی طاقت کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔بعد ازاں اپنی قومی ڈیٹرنس کا قیام، علاقائی سیاست پر کنٹرول، اور دنیا کے مقابلے میں طاقت کا قیام اہم ہوگا۔ اور ایسا ہم کمزور قوم، کمزور اداروں اور کمزور فوجی و دفاعی قوت کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے ہمیں عظیم قوت، طاقت اور معیار کی ضرورت ہے جن کی کوئی انتہا نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں موجودہ انسانی قوت سے دو گنا بڑھ کر اپنے لوگوں کا قد اونچا کرنا ہوگا۔انفرادی حوالے سے ایسی ٹیلنٹ، صلاحیت اور قابلیت کا قیام کرنا ہوگا جو پہلے دنیا میں موجود نہ ہو۔ لازمی نہیں کہ ہم دنیا کے موجودہ ماڈلز کو فالو کریں یا ان کے معیارات کو اپنائیں، بلکہ ہمیں دنیا کے مقابلے میں ایسے معیارات کی ضرورت ہے جو موجودہ عالمی معیارات سے بھی آگے جائیں۔ اور ایسا بھی نہیں کہ بطور قوم ہم وہ قوت یا صلاحیت پیدا کرنے میں کمزور ہیں۔

اگر آج سینکڑوں بلوچ فدائین دشمن کے کیمپوں کے اندر گھس سکتے ہیں، اگر ہزاروں کی تعداد میں بلوچ سرمچار بیک وقت دشمن پر حملہ کر سکتے ہیں، تو یقیناً ہم اس قابل بھی ہیں کہ وہ تمام قوت، طاقت، سوچ اور ہنر پیدا کر سکیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔ اگر ہم قربانی کے وہ معیارات پیدا کر سکتے ہیں جن کی مثال دنیا میں پہلے موجود نہیں، اگر آج ہتم ناز 70 سال کی عمر میں فدائی حملہ کر سکتی ہیں، اگر آج شاری جیسی ماں اپنے دو بچوں کو چھوڑ کر فدائی بن سکتی ہے، اگر آج لمہ یاسمین اور استاد اسلم اپنے بچے کو بلوچستان کا پرچم تھما اسے وطن پر قربان ہونے کے لیے بھیج سکتے ہیں ہیں، اگر فدائی ھوا  کی ماں خوشی سے اپنی بچی کو بلوچستان پر قربان ہونے کے لیے بھیج سکتی ہے، اگر آج کا بلوچ نوجوان اپنی پوری دنیا بلوچستان کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار ہے، تو پھر وہ معیار کی تشکیل کیوں نہیں کر سکتا؟ وہ ہنر کیوں پیدا نہیں کر سکتا؟ وہ فوجی حکمت اور پیشہ ورانہ عمل کیوں نہیں اپنا سکتا؟اگر ہم قربانی کا معیار دنیا کے مقابلے میں اس انتہا تک پہنچا سکتے ہیں، جو انفرادیت کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہے، تو پھر ہم ان شعبوں کو بہتر کیوں نہیں بنا سکتے جن کا تعلق صرف محنت اور وقت سے ہے؟ ہمیں صرف اس ول کو عام کرنے، اسے اپنانے اور اسے قبول کرنے کی ضرورت ہے۔یقیناً ان معیارات کی تشکیل کے بعد وہ دن دور نہیں جب اس خطے میں ہر سیاسی، معاشی، فوجی اور بیلنس آف پاور کی بنیاد رکھنے میں بلوچ ریاست کا اہم کردار ہوگا، اور اس خطے کے علاقائی و عالمی مفادات کے فیصلے بلوچ ریاستی مفاد کے تناظر میں ہوں گے۔ اور اس مقام تک پہنچنے سے پہلے ہمیں مکمل طور پر خود کو، قومی تحریک کو، اور اس کی دفاعی قوت کو ناقابل شکست حد تک بڑھانے پر کام کرنا ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔